صحتاہم خبریں

یورپ میں بے بی فوڈ میں زہر کی موجودگی پر ہنگامی الرٹ: ہیپ کمپنی کا بھتہ خوری کا دعویٰ، تحقیقات تیز

ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس جار میں چوہے مار زہر شامل کیا گیا تھا۔ پولیس کو شبہ ہے کہ اسی علاقے میں مزید آلودہ مصنوعات بھی موجود ہو سکتی ہیں۔

ویانا/برنو/براتسلاوا: یورپ کے تین ممالک آسٹریا، چیک جمہوریہ اور سلوواکیہ میں بچوں کی خوراک میں زہریلا مادہ ملنے کے انکشاف نے شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ معروف جرمن کمپنی ہیپ (HiPP) کی مصنوعات کے کچھ جارز میں چوہے مار زہر پائے جانے کے بعد فوڈ سیفٹی ادارے اے جی ای ایس (AGES) نے فوری وارننگ جاری کر دی ہے۔

واقعے کی تفصیلات

حکام کے مطابق اب تک تینوں ممالک میں مجموعی طور پر پانچ ایسے بے بی فوڈ جارز برآمد کیے گئے ہیں جن میں زہریلا مادہ شامل ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ پہلا متاثرہ جار برگن لینڈ کے علاقے آئزن اشٹڈ کے قریب ملا، جس میں 190 گرام وزن کا گاجر اور آلو پر مشتمل بے بی فوڈ شامل تھا۔

ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس جار میں چوہے مار زہر شامل کیا گیا تھا۔ پولیس کو شبہ ہے کہ اسی علاقے میں مزید آلودہ مصنوعات بھی موجود ہو سکتی ہیں۔

دیگر ممالک میں بھی کیسز

برنو کی ایک دکان سے مزید دو مشکوک جارز برآمد ہوئے، جن پر سفید اسٹیکر اور سرخ دائرہ بنا ہوا تھا—یہی نشانی ایک مبینہ بلیک میلر کی ای میل میں بھی بیان کی گئی تھی۔ اسی نوعیت کے جار دونائیسکا اسٹریڈا (جنوبی سلوواکیہ) سے بھی ملے ہیں۔

اے جی ای ایس (AGES) نے اپنی وارننگ میں عوام کو مشتبہ پیکنگ سے خبردار رہنے کی ہدایت کی ہے۔

پیکجنگ میں چھیڑ چھاڑ کے شواہد

تمام متاثرہ جارز کے ڈھکن کھلے ہوئے یا خراب حالت میں پائے گئے۔ عام طور پر بے بی فوڈ جارز کو گرم حالت میں بھر کر ویکیوم سیل کیا جاتا ہے، جس کے باعث کھولتے وقت مخصوص "پاپ” کی آواز آتی ہے۔ تاہم ان مشتبہ جارز میں ایسی کوئی آواز نہیں آئی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انہیں پہلے ہی کھولا جا چکا تھا۔

کمپنی کا مؤقف

ہیپ (HiPP) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کی مصنوعات میں زہر فیکٹری کے اندر شامل نہیں کیا گیا بلکہ یہ چھیڑ چھاڑ سپلائی چین یا مارکیٹ میں کہیں بعد میں کی گئی۔ کمپنی نے اس واقعے کو بھتہ خوری کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک نامعلوم شخص کی جانب سے دھمکی آمیز پیغامات موصول ہوئے ہیں۔

سپر مارکیٹ کا ردعمل

کم از کم ایک بڑی سپر مارکیٹ چین نے احتیاطی تدابیر کے طور پر ہیپ کی مصنوعات کو شیلف سے ہٹا کر واپس بھیجنا شروع کر دیا ہے، جبکہ دیگر ریٹیلرز بھی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

تحقیقات جاری

پولیس اور متعلقہ ادارے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ زہر کب اور کہاں شامل کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب تک کسی بڑے پیمانے پر نقصان یا متاثرہ بچوں کی اطلاع نہیں ملی، تاہم احتیاطی تدابیر کے طور پر عوام کو خبردار کیا جا رہا ہے۔

ماضی کے ایسے واقعات

ماہرین کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں جب بے بی فوڈ کو بھتہ خوری کے لیے استعمال کیا گیا ہو:

  • برطانیہ میں ایک سابق پولیس افسر نے بے بی فوڈ میں خطرناک اشیاء ڈال کر 40 لاکھ پاؤنڈ بھتہ طلب کیا، بعد ازاں اسے 17 سال قید کی سزا ہوئی۔
  • جرمنی میں اینٹی فریز ملانے کے کیس میں ملزم نے 1 کروڑ 20 لاکھ یورو کا مطالبہ کیا اور 10 سال قید کا سامنا کیا۔
  • 2018 میں برطانیہ میں ایک شخص نے دھاتی ٹکڑوں اور بیکٹیریا کی دھمکی دے کر بٹ کوائن میں بھتہ مانگا، جس پر اسے 14 سال سزا ملی۔
  • 2025 میں پولینڈ میں بھی اسی نوعیت کی دھمکی کا کیس سامنے آیا، تاہم آلودہ مصنوعات برآمد نہیں ہوئیں۔

ماہرین کی رائے

ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کی خوراک کو نشانہ بنانا مجرموں کی ایک خطرناک حکمت عملی ہوتی ہے، کیونکہ اس سے عوام میں فوری خوف پیدا ہوتا ہے اور کمپنیوں پر دباؤ بڑھتا ہے کہ وہ مطالبات مان لیں۔

تاہم وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ بے بی فوڈ انڈسٹری میں سیکیورٹی کے سخت معیار موجود ہوتے ہیں، جن میں محدود فیکٹری رسائی، محفوظ پیکجنگ اور بیچ نمبرز کے ذریعے مصنوعات کی ٹریکنگ شامل ہے۔

نتیجہ

یورپ میں سامنے آنے والا یہ واقعہ نہ صرف فوڈ سیفٹی کے نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے بلکہ صارفین کے اعتماد کے لیے بھی ایک امتحان بن گیا ہے۔ حکام اور کمپنیاں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ عوام سے بھی احتیاط برتنے کی اپیل کی گئی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button