سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان سمیت دنیا بھر میں عالمی یومِ آزادیٔ صحافت کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ حکومت ملک میں میڈیا کے لیے ایک محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، تاکہ صحافی آزادانہ اور ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے سکیں۔
آزادیٔ صحافت کی اہمیت اور عالمی پس منظر
ہر سال 3 مئی کو دنیا بھر میں عالمی یومِ آزادیٔ صحافت منایا جاتا ہے، جس کا مقصد حکومتوں کو آزادیٔ اظہار کے بنیادی اصولوں کی پاسداری کی یاد دہانی کرانا ہے۔ یہ دن نہ صرف صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اہم ہے بلکہ میڈیا کارکنان کو درپیش خطرات، پیشہ ورانہ اخلاقیات اور ذمہ داریوں پر غور و فکر کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
وزیراعظم کا پیغام: آزاد میڈیا، مضبوط جمہوریت
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا:
"میں اپنی حکومت کے اس عزم کا اعادہ کرتا ہوں کہ آزادیٔ صحافت کے تحفظ اور فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے اور میڈیا کو کام کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے گا۔”
انہوں نے کہا کہ آزاد اور ذمہ دار میڈیا کسی بھی جمہوری معاشرے کا بنیادی ستون ہوتا ہے، جو نہ صرف عوام کو باخبر رکھتا ہے بلکہ حکومتی پالیسیوں کی شفافیت اور احتساب کو بھی یقینی بناتا ہے۔
جعلی خبروں اور پروپیگنڈا کے خلاف خبردار
وزیراعظم نے موجودہ دور میں ڈیجیٹل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جعلی خبروں اور غیر مصدقہ معلومات کے پھیلاؤ کی روک تھام کرے۔
انہوں نے خبردار کیا:
"جعلی خبروں کا پھیلاؤ اور غلط معلومات کی منظم مہمات قومی ہم آہنگی اور عالمی ساکھ کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہیں۔”
انہوں نے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ پیشہ ورانہ اخلاقیات کو برقرار رکھتے ہوئے مستند اور تصدیق شدہ معلومات عوام تک پہنچائیں۔
میڈیا کا مثبت کردار اور عالمی روابط
شہباز شریف نے کہا کہ میڈیا نہ صرف داخلی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق میڈیا سفارتی، اقتصادی اور سماجی روابط کو مضبوط بنانے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ڈیجیٹل میڈیا عالمی بیانیے کو تشکیل دے رہا ہے۔
پاکستان میں صحافتی آزادی: چیلنجز اور خدشات
دوسری جانب، پاکستان میں صحافیوں کی جانب سے اظہارِ رائے کی آزادی میں کمی کے حوالے سے خدشات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ میڈیا کارکنان نے گزشتہ برسوں میں ہراسانی، دباؤ، تشدد اور دھمکیوں کی شکایات کی ہیں، تاہم حکومت نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آزادیٔ صحافت کی مکمل حمایت کرتی ہے۔
صدر آصف علی زرداری کا بیان: آئینی ضمانت اور تحفظ پر زور
صدر آصف علی زرداری نے بھی عالمی یومِ آزادیٔ صحافت کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان آئینی اور جمہوری تقاضوں کے تحت آزادیٔ صحافت کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا:
"میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی کریں اور ایک محفوظ ماحول فراہم کریں۔”
صدر نے میڈیا اداروں پر بھی زور دیا کہ وہ اعلیٰ اخلاقی معیارات کو برقرار رکھیں، جبکہ عوام سے اپیل کی کہ وہ مستند صحافت کی حمایت کریں اور جھوٹی معلومات کو مسترد کریں۔
فریڈم نیٹ ورک رپورٹ: صحافیوں کو درپیش خطرات
فریڈم نیٹ ورک کی حالیہ سالانہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں گزشتہ سال کے دوران صحافیوں کو مجموعی طور پر 129 خلاف ورزیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ میں شامل اہم نکات:
- 2 صحافیوں کا قتل
- 5 افراد کو قتل کی دھمکیاں
- 58 قانونی مقدمات (اکثریت پیکا سے متعلق)
- 16 حملوں کے واقعات
- 11 نقصان پہنچانے کی دھمکیاں
- 2 اغوا اور جبری گمشدگی کے کیسز
یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک میں صحافیوں کو پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران مختلف خطرات کا سامنا رہتا ہے۔
نتیجہ: عزم اور حقیقت کے درمیان فاصلہ
عالمی یومِ آزادیٔ صحافت کے موقع پر حکومتی قیادت کی جانب سے مثبت بیانات اور وعدے سامنے آئے ہیں، تاہم زمینی حقائق اور رپورٹ شدہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان میں صحافتی آزادی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
ماہرین کے مطابق، حقیقی بہتری اسی وقت ممکن ہے جب حکومتی عزم کے ساتھ عملی اقدامات بھی کیے جائیں، تاکہ صحافی بلا خوف و خطر اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکیں اور معاشرے میں شفافیت، سچائی اور جمہوری اقدار کو فروغ مل سکے۔



