کاروباراہم خبریں

پاکستان: تکنیکی خرابی کے باعث پاسپورٹ سروسز عارضی معطل، سمندر پار پاکستانیوں میں تشویش

یہ صورتحال خاص طور پر ان پاکستانیوں کے لیے تشویشناک ہے جن کے ویزے یا اقامے ختم ہونے کے قریب ہیں یا جو ہنگامی بنیادوں پر وطن واپسی کے لیے پاسپورٹ کی تجدید چاہتے ہیں۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

محکمہ امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کے مرکزی نظام میں پیش آنے والی ایک تکنیکی خرابی کے باعث دنیا بھر میں پاکستانی سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے اجرا کا عمل عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس مسئلے کو آئندہ ایک سے دو روز میں حل کر لیا جائے گا، تاہم اس دوران لاکھوں پاکستانیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔


عالمی سطح پر خدمات متاثر، خلیجی ممالک میں زیادہ پریشانی

ذرائع کے مطابق خلیجی ممالک سمیت مختلف خطوں میں قائم پاکستانی سفارتی مشنز کو باقاعدہ طور پر آگاہ کیا گیا ہے کہ اسلام آباد ہیڈکوارٹر میں ڈیٹا پروسیسنگ سسٹم میں فنی رکاوٹ پیدا ہو گئی ہے، جس کے باعث پاسپورٹ سروسز معطل ہیں۔

یہ صورتحال خاص طور پر ان پاکستانیوں کے لیے تشویشناک ہے جن کے ویزے یا اقامے ختم ہونے کے قریب ہیں یا جو ہنگامی بنیادوں پر وطن واپسی کے لیے پاسپورٹ کی تجدید چاہتے ہیں۔


’فنی خرابی‘ قرار، جلد بحالی کی یقین دہانی

اسلام آباد میں محکمہ امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کے ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مسئلہ ڈیٹا پروسیسنگ میں تکنیکی رکاوٹ کے باعث پیش آیا ہے۔ ان کے مطابق ٹیکنیکل ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں اور امید ہے کہ یہ خرابی جلد دور کر لی جائے گی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا پاسپورٹ کی بین الاقوامی ترسیل کے لیے سروس پرووائڈر کمپنی کی تبدیلی اس مسئلے کی وجہ بنی ہے، تو انہوں نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ کمپنی کی تبدیلی ایک انتظامی عمل ہے اور اس کا موجودہ تعطل سے کوئی تعلق نہیں۔


مالی مسائل کی اطلاعات، حکام کی تردید

دوسری جانب پاسپورٹ آفس کے ایک ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ ادارے کو مالی وسائل کی کمی کا سامنا ہے اور وزارتِ خزانہ کی جانب سے واجب الادا فنڈز جاری نہیں کیے جا رہے۔ اس کے باعث بیرون ملک تعینات عملے کی تنخواہوں میں تاخیر جیسے مسائل بھی سامنے آ رہے ہیں۔

تاہم سرکاری حکام نے ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ تعطل کا ملازمین کے احتجاج یا تنخواہوں کے مسئلے سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ محض ایک تکنیکی خرابی ہے۔


سفارتی مشنز کا کردار اور نظام کی معطلی کے اثرات

واضح رہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے سفارتی مشنز نہایت اہمیت رکھتے ہیں، جہاں مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ (MRP) کی تجدید، نوزائیدہ بچوں کے پاسپورٹ کا اجرا اور گمشدہ دستاویزات کا اندراج کیا جاتا ہے۔

ان مشنز میں نصب بائیومیٹرک سسٹم کے ذریعے شہریوں کا ڈیٹا براہِ راست اسلام آباد منتقل کیا جاتا ہے۔ موجودہ خرابی کے باعث یہ رابطہ منقطع ہو چکا ہے، جس سے مکمل نظام متاثر ہو گیا ہے۔


ماہرین کی وارننگ: قانونی و انتظامی مسائل کا خدشہ

امیگریشن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاسپورٹ سروسز کی بحالی میں تاخیر ہوئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ اسلام آباد میں مقیم امیگریشن ماہر خرم الٰہی کے مطابق، جن افراد کے اقامے ختم ہو رہے ہیں وہ پاسپورٹ کی تجدید نہ ہونے کی صورت میں جرمانوں، قانونی کارروائی یا ملازمت سے محرومی کا شکار ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہنگامی حالات میں وطن واپسی کے خواہشمند افراد کے لیے یہ صورتحال شدید پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔


بیک لاگ میں اضافے کا خدشہ

ماہرین کے مطابق حالیہ تعطل ختم ہونے کے بعد پاسپورٹ آفس کو ایک مرتبہ پھر بیک لاگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یاد رہے کہ 2024 تک محکمہ امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کو پاسپورٹ کی تیاری میں بڑے بیک لاگ کا سامنا تھا، جسے جدید مشینری اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے بڑی حد تک کم کیا گیا تھا۔


نتیجہ: فوری حل ناگزیر

موجودہ صورتحال نے نہ صرف سمندر پار پاکستانیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے بلکہ حکام کے لیے بھی ایک نیا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ اگرچہ حکام جلد مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کرا رہے ہیں، تاہم اس دوران متاثرہ شہریوں کو درپیش مسائل فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button