پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

پاکستان:‌پنجاب میں بڑھتے جرائم پر وزیراعلیٰ کا سخت ایکشن

وزیراعلیٰ ہاؤس لاہور میں ’ہائی وولٹیج‘ اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

سید عاطف ندیم پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

لاہور: صوبہ پنجاب میں حالیہ مہینوں کے دوران جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں، شہریوں کے عدم تحفظ اور سوشل میڈیا پر پولیس کے خلاف سامنے آنے والی شکایات نے صوبائی حکومت کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اسی پس منظر میں گزشتہ ہفتے وزیراعلیٰ ہاؤس لاہور میں ایک اہم اور غیرمعمولی اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے کی امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہ اجلاس نہ صرف سخت نوعیت کا تھا بلکہ اس میں پولیس کی کارکردگی پر کھل کر برہمی کا اظہار بھی کیا گیا۔


سوشل میڈیا ویڈیوز نے اجلاس کا رخ بدل دیا

ذرائع کے مطابق اجلاس کے آغاز میں ہی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر ہال میں نصب بڑی اسکرین پر مختلف شہروں سے وائرل ہونے والی ویڈیوز چلائی گئیں۔ ان ویڈیوز میں شہری ٹک ٹاک، فیس بک اور انسٹاگرام کے ذریعے ڈکیتی، راہزنی، چوری اور دیگر جرائم کے واقعات بیان کرتے ہوئے پولیس کی مبینہ غفلت اور نااہلی پر شدید تنقید کرتے نظر آئے۔

ویڈیوز میں بعض متاثرین نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پولیس مقدمات درج کرنے میں تاخیر کرتی ہے جبکہ بعض علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر کھلے عام سرگرم ہیں۔ اجلاس میں شریک افسران کے مطابق ویڈیوز چلنے کے دوران ہال میں مکمل خاموشی طاری رہی اور ماحول غیر معمولی حد تک سنجیدہ ہو گیا۔


“یہ سب کیا ہو رہا ہے؟” — وزیراعلیٰ کا سخت سوال

ویڈیوز ختم ہونے کے فوراً بعد وزیراعلیٰ مریم نواز نے سخت لہجے میں آئی جی پنجاب اور دیگر اعلیٰ حکام سے استفسار کیا:

“یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ کہاں گیا وہ خوف جو جرائم پیشہ عناصر کے دلوں میں ہونا چاہیے تھا؟ اور کہاں گئے وہ دعوے کہ جرائم میں واضح کمی آ چکی ہے؟”

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے واضح الفاظ میں کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور اس معاملے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے پولیس حکام کو ہدایت دی کہ صرف کاغذی رپورٹوں اور اعدادوشمار پر انحصار کرنے کے بجائے زمینی حقائق پر توجہ دی جائے کیونکہ عوام کی اصل رائے اب سوشل میڈیا پر فوری طور پر سامنے آ جاتی ہے۔


شہباز شریف کے دور کی یاد تازہ ہوگئی

اجلاس میں شریک ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کا اندازِ احتساب سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کی یاد دلاتا ہے۔

افسر کے مطابق:

“شہباز شریف اپنے دور میں اخبارات کی تراشیں سامنے رکھ کر افسران سے جواب طلبی کرتے تھے، جبکہ مریم نواز نے جدید دور کے مطابق سوشل میڈیا کلپس کو بطور چارج شیٹ استعمال کیا۔”

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اب حکومت کے لیے زمینی حقائق چھپانا ممکن نہیں کیونکہ ہر شہری اپنے موبائل فون کے ذریعے براہِ راست حالات دنیا کے سامنے لا رہا ہے۔


فیصل آباد، گوجرانوالہ اور گلبرگ لاہور خاص ہدف

ذرائع کے مطابق اجلاس میں خاص طور پر فیصل آباد، گوجرانوالہ اور لاہور کے پوش علاقے گلبرگ میں بڑھتے جرائم پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔

حکام کو بتایا گیا کہ ان علاقوں میں ڈکیتی، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی چوری، اسٹریٹ کرائم اور شہریوں کو ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بعض افسران سے سوال کیا گیا کہ حساس اور اہم علاقوں میں پولیس کی موجودگی کے باوجود جرائم کیوں قابو میں نہیں آ رہے۔

وزیراعلیٰ نے متعلقہ افسران سے کارکردگی رپورٹس طلب کرتے ہوئے واضح کیا کہ آئندہ اجلاس میں نتائج نہ آنے کی صورت میں سخت انتظامی فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔


سابق آئی جی کے دور کا حوالہ

اجلاس میں بعض سینئر افسران نے سابق آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایک طویل عرصے تک ایک ہی ٹیم اور سیٹ اپ کام کرتا رہا جس کے باعث مختلف اداروں اور افسران کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا ہو گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق بعض شرکا کا مؤقف تھا کہ حالیہ تبادلوں اور نئی تعیناتیوں کے بعد پولیس کا نظام وقتی طور پر متاثر ہوا ہے اور نئے افسران کو معاملات سمجھنے اور نیٹ ورک قائم کرنے میں وقت درکار ہے۔

ایک افسر کے مطابق:

“کچھ نئے تعینات ہونے والے افسران کا جرائم کے خلاف کارروائیوں کا سابقہ ریکارڈ زیادہ مؤثر نہیں رہا، اسی وجہ سے فیلڈ میں مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آ رہے۔”


اجلاس کے بعد پولیس میں ہنگامی صورتحال

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے فوری بعد پنجاب پولیس کے مختلف شعبوں میں غیر معمولی سرگرمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ خاص طور پر سی سی ڈی، انویسٹی گیشن ونگ اور ضلعی پولیس کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے متحرک کر دیا گیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق مختلف اضلاع میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سرچ آپریشنز، ناکہ بندیوں اور خفیہ نگرانی کے عمل میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ زیر التوا مقدمات کی پیش رفت بھی تیز کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔


“پولیس مقابلوں کی خبریں نہ چلیں”

ایک اہم پیش رفت یہ بھی سامنے آئی ہے کہ اجلاس کے بعد میڈیا رپورٹنگ کے حوالے سے بھی نئی احتیاطی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق پہلے بعض پولیس کارروائیوں کی تفصیلات غیر رسمی طور پر میڈیا تک پہنچ جاتی تھیں، تاہم اب سختی کی گئی ہے کہ پولیس مقابلوں اور حساس کارروائیوں سے متعلق معلومات محدود رکھی جائیں۔

ایک افسر نے بتایا:

“اب اگلے اجلاس سے پہلے ہر شعبہ اپنی کارکردگی بہتر دکھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ افسران پر واضح دباؤ موجود ہے کہ جرائم کی شرح کم کر کے عملی نتائج سامنے لائے جائیں۔”


سوشل میڈیا: حکومت کے لیے نیا چیلنج

سیاسی و انتظامی مبصرین کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں کہ حکومت کو عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہو، تاہم سوشل میڈیا کے تیز رفتار اثر نے انتظامیہ پر دباؤ کئی گنا بڑھا دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اب کسی بھی واردات کی ویڈیو چند منٹوں میں وائرل ہو جاتی ہے، جس کے باعث حکومت اور پولیس کے لیے فوری ردعمل دینا ناگزیر ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے سوشل میڈیا شکایات کو براہِ راست گورننس کے پیمانے کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔


آئندہ چند ہفتے اہم قرار

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے پولیس حکام کو مختصر مدت میں نمایاں نتائج دکھانے کی ہدایت کی ہے۔ اسی لیے آئندہ چند ہفتوں میں صوبے بھر میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن، جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائیاں اور پولیس کی فیلڈ سرگرمیوں میں اضافہ متوقع ہے۔

حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر جرائم کی صورتحال میں بہتری نہ آئی تو بڑے پیمانے پر انتظامی تبدیلیاں بھی زیر غور آ سکتی ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button