جرمنی کی آٹو موبائل صنعت، جو کبھی یورپ کی معاشی طاقت اور صنعتی ترقی کی علامت سمجھی جاتی تھی، اب ایک سنگین بحران کے دہانے پر کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ نئی رپورٹس اور صنعتی ماہرین کے تجزیوں کے مطابق آنے والے برسوں میں جرمن آٹو سیکٹر میں لاکھوں افراد کے روزگار متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جبکہ روایتی انجن والی گاڑیوں سے الیکٹرک وہیکلز کی جانب تیزی سے منتقلی اس بحران کی بڑی وجہ قرار دی جا رہی ہے۔
جرمن آٹو انڈسٹری ایسوسی ایشن (VDA) کی صدر ہلڈیگارڈ مولر نے جرمن میڈیا نیٹ ورک آر این ڈی کو دیے گئے انٹرویو میں خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ صنعتی اور ماحولیاتی پالیسیوں میں تبدیلی نہ کی گئی تو 2035 تک جرمنی کے آٹو سیکٹر میں تقریباً 2 لاکھ 25 ہزار ملازمتیں ختم ہو سکتی ہیں۔ یہ تعداد پہلے لگائے گئے اندازوں سے تقریباً 35 ہزار زیادہ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صنعت کو درپیش خطرات توقع سے کہیں زیادہ سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔
جرمنی کی کار انڈسٹری دنیا کی مضبوط ترین صنعتی معیشتوں میں شمار ہوتی ہے اور Volkswagen، BMW، Mercedes-Benz اور Audi جیسی عالمی کمپنیاں اسی شعبے کی بنیاد سمجھی جاتی ہیں۔ تاہم اب یہی صنعت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ماہرین کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کی پیداوار میں اضافے سے روایتی انجن بنانے والی فیکٹریاں، سپلائر کمپنیاں اور پرزہ جات تیار کرنے والے ادارے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
وی ڈی اے کے مطابق صورتحال کا دارومدار اس بات پر ہے کہ مستقبل میں یورپ اور جرمنی کس قسم کی ڈرائیو ٹرین پالیسی اپناتے ہیں۔ اگر حکومتیں ٹیکنالوجی کے حوالے سے زیادہ لچکدار رویہ اختیار کریں اور صرف مکمل الیکٹرک ماڈلز پر انحصار کرنے کے بجائے ہائبرڈ اور متبادل فیول ٹیکنالوجیز کو بھی موقع دیں، تو تقریباً 50 ہزار ملازمتیں بچائی جا سکتی ہیں۔
ہلڈیگارڈ مولر نے کہا کہ اس وقت سب سے زیادہ دباؤ آٹو سپلائرز پر ہے، کیونکہ روایتی انجنوں کے ہزاروں پرزے الیکٹرک گاڑیوں میں استعمال ہی نہیں ہوتے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں وہ کمپنیاں، جو دہائیوں سے انجن اور میکینیکل پارٹس تیار کر رہی تھیں، اب تیزی سے سکڑتی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب یورپی یونین کی ماحولیاتی پالیسیوں نے بھی صنعت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ یورپی یونین نے 2035 کے بعد نئی پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کی فروخت پر پابندی کی تجویز دی ہے، جسے آٹو انڈسٹری اپنی بقا کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہے۔ وی ڈی اے کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ قواعد میں نرمی نہ کی گئی تو مزید 50 ہزار ملازمتیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق جرمنی کی معیشت پہلے ہی سست روی کا شکار ہے، جبکہ صنعتی پیداوار میں کمی، عالمی مسابقت، چین کی الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی برآمدات اور توانائی کے بحران نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ خاص طور پر روس یوکرین جنگ کے بعد توانائی کی قیمتوں میں اضافہ جرمن صنعتوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔
وی ڈی اے کی صدر نے اس بحران کو “سنگین اور مسلسل صنعتی بحران” قرار دیتے ہوئے کہا کہ جرمنی میں کاروباری لاگت خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ ان کے مطابق بلند ٹیکس، مہنگی بجلی، زیادہ اجرتی اخراجات اور پیچیدہ بیوروکریسی صنعتی شعبے کو کمزور کر رہی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں مقابلہ کرنا مزید مشکل بنتا جا رہا ہے۔
اقتصادی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر جرمنی نے اپنی صنعتی پالیسیوں میں فوری اصلاحات نہ کیں تو ملک کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ آٹو سیکٹر نہ صرف جرمنی کی برآمدات کا اہم ستون ہے بلکہ لاکھوں خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ بھی ہے۔ اس صنعت میں بحران کے اثرات اسٹیل، کیمیکل، ٹرانسپورٹ، ٹیکنالوجی اور چھوٹے کاروباروں تک پھیل سکتے ہیں۔
دوسری جانب مزدور یونینز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملازمین کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرے، نئی ٹیکنالوجیز کی تربیت فراہم کرے اور صنعت کو عالمی مقابلے کے قابل بنانے کے لیے توانائی اور ٹیکس کے شعبے میں اصلاحات متعارف کرائے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جرمنی اس وقت ایک تاریخی صنعتی تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے، جہاں ماحولیاتی اہداف، نئی ٹیکنالوجی اور عالمی معاشی دباؤ ایک ساتھ آٹو انڈسٹری کو تبدیل کر رہے ہیں۔ آنے والے برس یہ فیصلہ کریں گے کہ جرمنی اپنی صنعتی برتری برقرار رکھ پاتا ہے یا نہیں۔



