مشرق وسطیٰتازہ ترین

بیروت کے جنوب میں اسرائیلی فضائی حملے، آٹھ افراد جاں بحق، جنوبی لبنان اور بیروت کے اطراف شدید بمباری،خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں حزب اللہ کے ’’دہشت گردی کے انفراسٹرکچر‘‘ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے

اسرائیل نے بدھ کے روز جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں تازہ فضائی حملوں کا آغاز کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ کارروائیوں کا مقصد ایران نواز مسلح تنظیم حزب اللہ کے عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنانا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق حملوں میں دو بچوں کی ہلاکت کی بھی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور متاثرہ علاقوں میں پھنسے افراد کو نکالنے میں مصروف ہیں۔

بیروت کو جنوبی لبنان سے ملانے والی شاہراہ نشانہ

لبنانی سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے بیروت کو جنوبی لبنان سے ملانے والی اہم شاہراہ پر دو گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔ حملے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ مرکزی سڑک پر ٹریفک معطل ہو گئی۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ کئی کلومیٹر دور تک دھوئیں کے بادل دکھائی دیتے رہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ حملوں کے فوراً بعد ایمبولینسیں اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، جبکہ کئی گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی۔

اسرائیلی فوج کا مؤقف

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں حزب اللہ کے ’’دہشت گردی کے انفراسٹرکچر‘‘ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق حزب اللہ سرحدی علاقوں میں اپنے عسکری مراکز، راکٹ لانچنگ سائٹس اور اسلحہ ڈپو استعمال کر رہی تھی، جنہیں تباہ کرنا ضروری تھا۔

فوج نے دعویٰ کیا کہ حملوں سے قبل شہریوں کو انخلا کی وارننگز بھی جاری کی گئی تھیں، تاہم لبنانی حکام نے اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملوں میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

جنگ بندی کے باوجود حملے جاری

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان اپریل کے وسط میں جنگ بندی طے پائی تھی، لیکن اس کے باوجود سرحدی علاقوں میں کشیدگی مسلسل برقرار ہے۔ اسرائیلی فوج وقفے وقفے سے جنوبی لبنان میں فضائی کارروائیاں کر رہی ہے، جبکہ حزب اللہ بھی اسرائیلی فوجی نقل و حرکت پر ردعمل دیتی رہی ہے۔

لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق صرف منگل کے روز جنوبی لبنان کے مختلف قصبوں پر اسرائیلی حملوں میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حکام کے مطابق جنگ بندی کے آغاز سے اب تک 380 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے۔

نعیم قاسم کی سخت وارننگ

نعیم قاسم نے منگل کو اپنے خطاب میں اسرائیل کو سخت نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں موجود رہی تو جنگ کے میدان کو ’’جہنم‘‘ بنا دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حزب اللہ اپنے علاقوں کے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور اسرائیلی حملوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ان کے بیان کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صورتحال ایک وسیع جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

لبنان میں انسانی بحران سنگین

لبنانی حکومت کے مطابق مارچ کے آغاز میں حزب اللہ کی جانب سے ایران کی حمایت میں جنگ میں شامل ہونے کے بعد سے اب تک لبنان میں 2 ہزار 800 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں تقریباً 200 بچے شامل ہیں۔

مسلسل بمباری کے باعث ہزاروں خاندان نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں، جبکہ جنوبی لبنان کے کئی علاقوں میں بنیادی سہولیات شدید متاثر ہوئی ہیں۔ اسپتالوں میں ادویات کی کمی، بجلی کے بحران اور خوراک کی قلت کے باعث انسانی صورتحال تیزی سے خراب ہو رہی ہے۔

اقوام متحدہ اور عالمی امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ بندی کو مؤثر نہ بنایا گیا تو لبنان میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

خطے میں وسیع جنگ کا خدشہ

مشرقِ وسطیٰ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی جھڑپیں پورے خطے کو ایک نئی جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔ ایران، شام اور دیگر علاقائی قوتوں کی شمولیت کے امکانات کے باعث عالمی طاقتیں بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

امریکہ، اقوام متحدہ اور یورپی ممالک نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور فوری جنگ بندی پر عملدرآمد یقینی بنانے کی اپیل کی ہے، تاہم زمینی صورتحال مسلسل کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button