یورپتازہ ترین

یورپی کمیشن کا تمام رکن ممالک سے ’کنورژن تھیراپی‘ پر پابندی کا مطالبہ، ایل جی بی ٹی کیو حقوق کے تحفظ کے لیے یورپی یونین کا اہم اقدام

2016 مالٹامیں یورپی یونین کا پہلا ملک بنا جس نے ہم جنس پسند افراد کے جنسی رجحان کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو غیر قانونی قرار دیا

یورپی کمیشن ے یورپی یونین کے تمام رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہم جنس پسند افراد اور صنفی شناخت رکھنے والے شہریوں کے جنسی رجحان یا صنفی شناخت تبدیل کرنے کے لیے استعمال ہونے والی متنازع ’’کنورژن تھیراپی‘‘ پر مکمل پابندی عائد کریں۔
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپ بھر میں ایل جی بی ٹی کیو کمیونٹی کے حقوق، مساوات اور تحفظ کے حوالے سے عوامی مہم تیزی سے زور پکڑ رہی ہے، جبکہ چند روز بعد Brussels میں سالانہ پرائڈ فیسٹیول بھی منعقد ہونے جا رہا ہے۔
یورپی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام انسانی حقوق کے تحفظ، امتیازی سلوک کے خاتمے اور ذہنی و جسمانی استحصال کی روک تھام کے لیے ضروری ہے۔
ارزولا فان ڈیر لائن کا سخت مؤقف
ارسولا وان ڈیر لیین نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’کنورژن پریکٹسز‘‘ کی یورپی یونین میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق ایل جی بی ٹی کیو شہریوں کے بنیادی حقوق، وقار اور تحفظ کو یقینی بنانا یورپی کمیشن کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ یورپ مساوات، آزادی اور انسانی وقار کی بنیاد پر قائم ہے، اس لیے ایسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی جو افراد کو ان کی شناخت یا جنسی رجحان کی بنیاد پر ذہنی دباؤ، خوف یا تشدد کا نشانہ بنائیں۔
یورپی کمیشن کی صدر نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اس حوالے سے واضح اور مؤثر قانون سازی کریں تاکہ ایسے تمام طریقوں کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
کنورژن تھیراپی کیا ہے؟
کنورژن تھیراپی سے مراد وہ متنازع طریقے یا سرگرمیاں ہیں جن کے ذریعے کسی فرد کے جنسی رجحان یا صنفی شناخت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ان طریقوں میں نفسیاتی دباؤ، مذہبی رسومات، مشاورت، بعض اوقات جسمانی یا جذباتی تشدد اور سماجی دباؤ جیسے عناصر شامل ہو سکتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور طبی ماہرین طویل عرصے سے ان پریکٹسز کو غیر سائنسی، نقصان دہ اور انسانی حقوق کے خلاف قرار دیتے آئے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت اور متعدد بین الاقوامی طبی تنظیمیں بھی اس عمل کی مخالفت کر چکی ہیں اور اسے ذہنی صحت کے لیے خطرناک قرار دیتی ہیں۔
یورپی سروے میں تشویشناک انکشافات
یورپی یونین ایجنسی برائے بنیادی حقوق کی جانب سے 2024 میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق ہر چار میں سے ایک ایل جی بی ٹی کیو شہری نے بتایا کہ اسے کسی نہ کسی شکل میں کنورژن تھیراپی یا اس جیسے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ اس قسم کے واقعات سب سے زیادہ یونان، قبرص، جمہوریہ چیک، ایسٹونیا اور سلوواکیہ میں رپورٹ ہوئے۔
ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یورپ میں قانونی پیش رفت کے باوجود ایل جی بی ٹی کیو افراد کو اب بھی سماجی اور نفسیاتی دباؤ کا سامنا ہے۔
عوامی مہم اور دس لاکھ دستخط
یورپی کمیشن کا یہ اقدام ایک بڑی عوامی مہم کے بعد سامنے آیا ہے۔ ایک درخواست پر دس لاکھ سے زائد یورپی شہریوں نے دستخط کیے، جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ یورپی یونین بھر میں کنورژن تھیراپی پر مکمل قانونی پابندی عائد کی جائے۔
شہریوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور ایل جی بی ٹی کیو کارکنوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسے اقدامات انسانی آزادیوں کے منافی ہیں اور انہیں فوری طور پر غیر قانونی قرار دیا جانا چاہیے۔
یورپ میں موجودہ قانونی صورتحال
بین الاقوامی تنظیم ILGA-Europe کے مطابق یورپی یونین کے 27 رکن ممالک میں سے صرف 10 ممالک میں کنورژن تھیراپی پر مکمل یا جزوی پابندی موجود ہے۔
2016 مالٹامیں یورپی یونین کا پہلا ملک بنا جس نے ہم جنس پسند افراد کے جنسی رجحان کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو غیر قانونی قرار دیا۔ بعد ازاں فرانس نے بھی اس عمل پر پابندی عائد کرتے ہوئے اس میں ملوث افراد کے لیے قید اور جرمانے کی سزائیں مقرر کیں۔
دیگر کئی یورپی ممالک میں اس حوالے سے قانون سازی پر بحث جاری ہے، تاہم بعض حلقے مذہبی آزادی اور خاندانی اقدار کے نام پر اس معاملے میں اختلاف بھی رکھتے ہیں۔
برسلز میں سالانہ پرائڈ فیسٹیول کی تیاریاں
ہفتے کے روز برسلز میں دسیوں ہزار افراد کی شرکت متوقع ہے، جہاں شہر اپنی 30ویں سالانہ پرائڈ پریڈ اور فیسٹیول کا انعقاد کرے گا۔
اس موقع پر ایل جی بی ٹی کیو حقوق، مساوات، سماجی قبولیت اور امتیازی سلوک کے خاتمے کے حوالے سے مختلف تقاریب، مارچز اور ثقافتی سرگرمیاں منعقد کی جائیں گی۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ اس سال کا فیسٹیول خاص طور پر انسانی حقوق، تنوع اور سماجی تحفظ کے پیغامات پر مرکوز ہوگا، جبکہ یورپی کمیشن کے حالیہ مؤقف کو بھی اس حوالے سے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یورپ میں سماجی اور سیاسی بحث میں شدت
تجزیہ کاروں کے مطابق کنورژن تھیراپی پر پابندی کے مطالبے نے یورپ میں ایک نئی سماجی اور سیاسی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ایک طرف انسانی حقوق کی تنظیمیں اسے آزادی اور مساوات کی جانب اہم قدم قرار دے رہی ہیں، جبکہ دوسری جانب بعض مذہبی اور قدامت پسند حلقے اسے خاندانی اور مذہبی اقدار کے خلاف قرار دیتے ہیں۔
تاہم یورپی کمیشن واضح کر چکا ہے کہ اس کا بنیادی مقصد شہریوں کو ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی استحصال سے بچانا اور تمام افراد کے لیے محفوظ اور مساوی ماحول فراہم کرنا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button