عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان میرین اکیڈمی کو ڈگری دینے والے ادارے کا درجہ دینے کے لیے اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے، جہاں وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے اعلان کیا ہے کہ اس حوالے سے تیار کیا گیا بل جلد پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ اس اقدام کو پاکستان کے میری ٹائم تعلیمی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور عالمی معیار سے ہم آہنگ بنانے کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے یہ اعلان اسلام آباد میں اکیڈمی کے دورے کے دوران کیا، جہاں انہیں قائم مقام کمانڈنٹ محمد آصف فاروق نے ادارے کی جاری ترقیاتی سرگرمیوں، تربیتی پروگرامز اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر وزیر بحری امور نے کہا کہ پاکستان کے میری ٹائم سیکٹر کی تیز رفتار ترقی کے لیے جدید تعلیمی اور پیشہ ورانہ تربیتی اداروں کا قیام ناگزیر ہے، اور اسی وژن کے تحت پاکستان میرین اکیڈمی کو مکمل ڈگری ایوارڈنگ انسٹیٹیوشن بنانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ اس مجوزہ اپ گریڈیشن کے حوالے سے تمام متعلقہ اداروں، ماہرین اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت مکمل کر لی گئی ہے۔ ان کے مطابق بل کو قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد جلد قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا، جس سے اکیڈمی کو نہ صرف اعلیٰ تعلیمی اختیارات حاصل ہوں گے بلکہ یہ ادارہ بین الاقوامی معیار کے مطابق میری ٹائم ڈگریاں بھی جاری کر سکے گا۔
دورے کے دوران قائم مقام کمانڈنٹ محمد آصف فاروق نے وفاقی وزیر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم کے میری ٹائم سیکٹر اصلاحاتی پروگرام کے تحت اکیڈمی میں مختلف تربیتی اور ادارہ جاتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ، پورٹ قاسم اتھارٹی اور گوادر پورٹ اتھارٹی سے افسران اور عملے نے اکیڈمی میں خصوصی تربیتی کورسز مکمل کیے ہیں، جن میں بنیادی فائر فائٹنگ، میری ٹائم سیفٹی اور نومبر 2025 میں منعقد کیے گئے نیوی ٹرینر پروفیشنل پروگرامز شامل ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اکیڈمی کے 14 انسٹرکٹرز نے “کوالیفائیڈ ٹرینرز” کا درجہ حاصل کر لیا ہے، جس سے ادارے کی تدریسی اور تربیتی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی پیشہ ورانہ ادارے میں تربیت یافتہ انسٹرکٹرز کی موجودگی تعلیمی معیار کو بہتر بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے، اور یہ پیش رفت پاکستان میرین اکیڈمی کو عالمی معیار کے ادارے میں تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے قائم مقام کمانڈنٹ نے بتایا کہ اکیڈمی کے پہلے مرحلے کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 421 ملین روپے کی مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ فنڈنگ مختلف قومی اداروں کی کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (CSR) اسکیموں کے تحت مہیا کی جائے گی، جن میں کراچی پورٹ ٹرسٹ، پورٹ قاسم اتھارٹی اور پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن شامل ہیں۔
اس مالی معاونت کے ذریعے اکیڈمی میں جدید کلاس رومز، ٹریننگ لیبارٹریز، سمولیشن سینٹرز، حفاظتی تربیتی سہولیات اور دیگر جدید تعلیمی انفراسٹرکچر قائم کیے جائیں گے۔ حکام کے مطابق ان اقدامات سے پاکستان میں میری ٹائم تعلیم اور تربیت کا معیار نمایاں طور پر بلند ہوگا اور نوجوانوں کو عالمی سطح پر روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔
وفاقی وزیر محمد جنید انور چوہدری نے اس موقع پر بلوچستان کے نوجوانوں کی شمولیت پر خصوصی زور دیتے ہوئے اکیڈمی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ تربیتی پروگراموں اور داخلہ مواقع کو صوبہ بلوچستان تک وسیع کیا جائے تاکہ وہاں کے نوجوان بھی میری ٹائم سیکٹر میں اپنے مستقبل کو بہتر بنا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے بھی تعاون حاصل کیا جائے گا تاکہ معاشی طور پر کمزور طلبہ کو مالی معاونت اور تربیتی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک اہم بحری محل وقوع رکھتا ہے اور عالمی تجارت کا بڑا حصہ سمندری راستوں سے گزرتا ہے، اس لیے ملک کے میری ٹائم سیکٹر کو جدید تقاضوں کے مطابق ترقی دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ پاکستان نہ صرف خطے میں ایک مضبوط بحری تجارتی مرکز بنے بلکہ یہاں کے نوجوان عالمی شپنگ اور میری ٹائم انڈسٹری میں نمایاں مقام حاصل کریں۔
دفاعی اور معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کی معیشت میں میری ٹائم سیکٹر انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ملکی تجارت کا بڑا حصہ بندرگاہوں کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ ایسے میں جدید تربیت یافتہ افرادی قوت کی تیاری نہ صرف بندرگاہی نظام کو مضبوط بنائے گی بلکہ عالمی شپنگ مارکیٹ میں پاکستان کی مسابقتی صلاحیت کو بھی بہتر کرے گی۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میرین اکیڈمی کو ڈگری ایوارڈنگ ادارہ بنانے سے نوجوانوں کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تعلیمی اسناد حاصل ہوں گی، جس سے وہ عالمی شپنگ کمپنیوں، بحری اداروں اور بین الاقوامی میری ٹائم تنظیموں میں بہتر روزگار حاصل کر سکیں گے۔ اس اقدام سے پاکستان میں میری ٹائم ریسرچ، جدید بحری ٹیکنالوجی اور سمندری تجارت سے متعلق تعلیم کو بھی فروغ ملے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام حکومت کی اس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت پاکستان کے میری ٹائم سیکٹر کو جدید، خود کفیل اور عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا رہا ہے۔ گوادر پورٹ کی ترقی، بندرگاہی انفراسٹرکچر کی توسیع، شپنگ انڈسٹری کی بہتری اور میری ٹائم تعلیم کے فروغ کو اسی وژن کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے اپنے خطاب میں اس امید کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان میرین اکیڈمی مستقبل میں خطے کے نمایاں بحری تعلیمی اداروں میں شمار ہوگی اور یہاں سے فارغ التحصیل نوجوان عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو جدید تعلیم اور پیشہ ورانہ مہارتوں سے آراستہ کر کے ملکی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا چاہتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پاکستان میرین اکیڈمی کو ڈگری دینے کا درجہ مل جاتا ہے تو یہ نہ صرف تعلیمی شعبے بلکہ ملکی بحری معیشت کے لیے بھی ایک بڑی پیش رفت ہوگی، جس سے پاکستان کے میری ٹائم سیکٹر میں جدیدیت، پیشہ ورانہ مہارت اور عالمی سطح پر مسابقتی صلاحیت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔



