بین الاقوامیاہم خبریں

آبنائے ہرمز میں ایک اور بھارتی بحری جہاز تباہ، مودی حکومت کی خاموشی پر سوالات اٹھنے لگے

بھارتی سینئر تجزیہ کار سوشانت سنگھ نے مودی حکومت کی پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ نام نہاد “مضبوط قیادت” کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔

رائٹرز کے ساتھ
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتے ہوئے خطرات کے دوران ایک اور بھارتی بحری جہاز کے تباہ ہونے کی اطلاعات نے بھارتی حکومت کی خارجہ اور بحری حکمت عملی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق متحدہ عرب امارات جانے والا بھارتی پرچم بردار بحری جہاز حملے کے بعد سمندر برد ہو گیا، تاہم نئی دہلی اب تک اس واقعے کے اصل محرکات اور ذمہ دار عناصر کے حوالے سے کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کر سکی۔
عالمی مبصرین کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی نے پورے خطے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس حساس صورتحال میں بھارتی جہازوں کو مسلسل خطرات کا سامنا ہونا نئی دہلی کی سفارتی اور سکیورٹی پالیسیوں کی ناکامی قرار دیا جا رہا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق “حاجی علی” نامی بھارتی جہاز کو حملے کے بعد شدید نقصان پہنچا اور وہ بالآخر سمندر میں ڈوب گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی حکومت اس واقعے کے بعد نہ تو کوئی مؤثر جوابی حکمت عملی پیش کر سکی اور نہ ہی یہ واضح کر سکی کہ حملے کے پیچھے کون سے عناصر کارفرما تھے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے حسبِ روایت محض مذمتی بیان جاری کرنے پر اکتفا کیا، جسے ناقدین ناکافی ردعمل قرار دے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگی ماحول کے بعد اب تک کم از کم تین بھارتی پرچم بردار جہاز آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف حملوں یا خطرناک واقعات کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال نے بھارت کی بحری سلامتی، انٹیلی جنس صلاحیتوں اور سفارتی اثر و رسوخ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
بھارتی سیاسی اور دفاعی حلقوں میں بھی مودی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ بھارتی سینئر تجزیہ کار سوشانت سنگھ نے مودی حکومت کی پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ نام نہاد “مضبوط قیادت” کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق اگر بھارتی جہاز مسلسل نشانہ بن رہے ہیں اور حکومت صرف مذمت تک محدود ہے تو یہ بھارت کی کمزور حکمت عملی کا واضح ثبوت ہے۔
سوشانت سنگھ نے کہا کہ مودی حکومت عالمی سطح پر خود کو ایک بڑی طاقت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے تجارتی اور بحری مفادات کے تحفظ میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر بھارت واقعی خطے میں اثر و رسوخ رکھتا ہے تو پھر اس کے بحری جہاز بار بار حملوں کا شکار کیوں ہو رہے ہیں اور حکومت ان واقعات کی مکمل تحقیقات یا عالمی سطح پر مؤثر سفارتی مہم کیوں نہیں چلا پا رہی۔
دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت کی دوغلی خارجہ پالیسی بھی اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ بن رہی ہے۔ ایک جانب نئی دہلی امریکہ اور مغربی اتحاد کے قریب ہونے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ دوسری جانب خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم رکھنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران بھارت سفارتی تنہائی اور غیر یقینی کیفیت کا شکار ہو رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بھارتی جہازوں کو لاحق خطرات صرف تجارتی نقصان تک محدود نہیں بلکہ یہ بھارت کی عالمی ساکھ، توانائی سلامتی اور سمندری تجارت کے مستقبل کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ بھارت اپنی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے حاصل کرتا ہے، جبکہ اس کی بڑی تجارتی سرگرمیاں بھی اسی بحری راستے سے وابستہ ہیں۔ ایسے میں بحری تحفظ کو یقینی بنانے میں ناکامی بھارتی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
ادھر بھارتی میڈیا کے ایک حلقے نے ان واقعات کو معمولی نوعیت کا قرار دینے کی کوشش کی، تاہم سوشل میڈیا اور آزاد تجزیہ کار مودی حکومت کی پالیسیوں پر مسلسل سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت داخلی سطح پر قوم پرستی کے بیانیے کو فروغ دیتی ہے، لیکن عملی میدان میں نہ تو اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کر پا رہی ہے اور نہ ہی بین الاقوامی سطح پر مؤثر کردار ادا کر رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مودی حکومت کو اس وقت اندرونِ ملک بھی شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں حکومت سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ بھارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں کی مکمل تفصیلات قوم کے سامنے لائے اور یہ واضح کرے کہ ان واقعات سے نمٹنے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین نے اس امر کی نشاندہی بھی کی کہ بھارت نے گزشتہ چند برسوں میں خود کو “وشو گرو” اور ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کے طور پر پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی، تاہم حالیہ بحرانوں نے اس تاثر کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی ملک اپنے بحری تجارتی راستوں اور جہازوں کو تحفظ فراہم نہ کر سکے تو اس کی عالمی طاقت ہونے کے دعوے کمزور پڑ جاتے ہیں۔
خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں بھارت کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی، بحری دفاع اور علاقائی سفارت کاری میں واضح اور مؤثر حکمت عملی اختیار کرے۔ بصورت دیگر آبنائے ہرمز جیسے حساس خطے میں اس کے تجارتی اور اسٹریٹجک مفادات مسلسل خطرات سے دوچار رہیں گے۔
مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا نئی دہلی اس معاملے پر عالمی سطح پر کوئی فعال سفارتی کردار ادا کرتا ہے یا پھر ماضی کی طرح صرف رسمی بیانات اور مذمت تک محدود رہتا ہے۔ فی الحال بھارتی حکومت کی خاموشی اور غیر واضح مؤقف نے نہ صرف اندرونِ ملک تشویش پیدا کر دی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button