مشرق وسطیٰاہم خبریں

ڈرون حملے کے بعد متحدہ عرب امارات کے براکہ ایٹمی پاور پلانٹ کے قریب آتشزدگی، تابکاری کا خطرہ مسترد

جوہری تحفظ کے بین الاقوامی معیار کے مطابق تمام احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں اور پلانٹ کی سکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے

ابوظہبی: متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی کے الظفرہ ریجن میں واقع براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریب ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک برقی جنریٹر میں آگ بھڑک اٹھی، جس کے بعد ہنگامی ادارے فوری طور پر حرکت میں آگئے۔ حکام کے مطابق واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جبکہ تابکاری کے اخراج یا جوہری سلامتی کو لاحق کسی خطرے کی بھی تردید کر دی گئی ہے۔
ابوظہبی میڈیا آفس کے مطابق یہ واقعہ اتوار کے روز پیش آیا، جب پلانٹ کے اندرونی حصے کے باہر نصب ایک الیکٹریکل جنریٹر میں اچانک آگ لگ گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ ڈرون حملے کے بعد بھڑکی، تاہم حکام نے حملے کی نوعیت، ڈرون کی شناخت اور اس کے ممکنہ ماخذ کے بارے میں فوری طور پر کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ سول ڈیفنس، ایمرجنسی رسپانس یونٹس اور تکنیکی ماہرین نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا۔ واقعے کے بعد علاقے کو حفاظتی حصار میں لے لیا گیا اور احتیاطی طور پر پلانٹ کے اطراف نگرانی بڑھا دی گئی۔
متحدہ عرب امارات کی فیڈرل اتھارٹی فار نیوکلیئر ریگولیشن (FANR) نے اپنے بیان میں کہا کہ آگ سے براکہ پاور پلانٹ کے بنیادی نظام، ری ایکٹرز یا حساس تنصیبات متاثر نہیں ہوئیں۔ ادارے کے مطابق پلانٹ کے تمام یونٹس معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں اور توانائی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جوہری تحفظ کے بین الاقوامی معیار کے مطابق تمام احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں اور پلانٹ کی سکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ حکام نے شہریوں کو یقین دہانی کرائی کہ تابکاری کی سطح معمول کے مطابق ہے اور ماحول یا انسانی صحت کو کسی فوری خطرے کا سامنا نہیں۔
دوسری جانب انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) نے تصدیق کی کہ متحدہ عرب امارات نے واقعے کے حوالے سے ادارے کو آگاہ کر دیا ہے۔ آئی اے ای اے کے مطابق ابتدائی معائنے میں تابکاری کی سطح کم اور محفوظ پائی گئی ہے، تاہم عالمی ادارہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جوہری تنصیبات کے قریب کسی بھی قسم کی فوجی سرگرمی عالمی سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام ممالک اور فریقین کو بین الاقوامی قوانین اور جوہری تحفظ کے اصولوں کی مکمل پاسداری کرنی چاہیے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ خطے کے اہم ترین توانائی منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ پلانٹ متحدہ عرب امارات کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کی صاف توانائی پالیسی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ کسی بھی سکیورٹی واقعے کو نہ صرف ملکی سلامتی بلکہ پورے خلیجی خطے کے لیے حساس سمجھا جاتا ہے۔
سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں مشرق وسطیٰ میں ڈرون ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال نے حساس تنصیبات کے تحفظ کو ایک بڑا چیلنج بنا دیا ہے۔ تیل، گیس اور جوہری تنصیبات پر ممکنہ حملوں کے خدشات کے باعث خلیجی ممالک مسلسل اپنے دفاعی اور نگرانی کے نظام کو اپ گریڈ کر رہے ہیں۔
متحدہ عرب اماراتی حکام نے کہا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور دستیاب ہوتے ہی مزید تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔ حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک کی جوہری تنصیبات کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button