بین الاقوامیاہم خبریںسائنس و ٹیکنالوجی

شیلڈ اے آئی کا انقلابی X-BAT، رن وے کے بغیر اڑنے والا خودمختار جنگی طیارہ منظرِ عام پر

اس کا بنیادی مقصد ایسے ماحول میں موثر کارروائی کرنا ہے جہاں دشمن کی جانب سے روایتی ایئر بیسز کو ابتدائی حملوں میں نشانہ بنایا جا سکتا ہو۔

واشنگٹن: امریکی دفاعی ٹیکنالوجی کمپنی Shield AI نے مستقبل کی فضائی جنگ کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جدید خودمختار جنگی طیارہ تیار کرنے کا اعلان کیا ہے، جو روایتی رن ویز کے بغیر عمودی طور پر ٹیک آف اور لینڈنگ کی صلاحیت رکھتا ہے۔

X-BAT نامی یہ جدید جیٹ سے چلنے والا بغیر پائلٹ جنگی طیارہ نہ صرف سڑکوں، بحری جہازوں اور دور دراز علاقوں سے آپریٹ کر سکے گا بلکہ دشمن کے حملوں سے متاثر روایتی فضائی اڈوں کے متبادل کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکے گا۔ دفاعی ماہرین اسے مستقبل کی جنگی حکمت عملی میں ایک بڑی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

کمپنی کے مطابق X-BAT کو ایک “مشترکہ جنگی پلیٹ فارم” کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے، جو جدید لڑاکا طیاروں کے ساتھ مل کر فضائی دفاع، حملہ آور مشنز اور نگرانی کی کارروائیوں میں حصہ لے سکے گا۔ اس کا بنیادی مقصد ایسے ماحول میں موثر کارروائی کرنا ہے جہاں دشمن کی جانب سے روایتی ایئر بیسز کو ابتدائی حملوں میں نشانہ بنایا جا سکتا ہو۔

روایتی رن وے کے بغیر جنگی صلاحیت

X-BAT کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی Vertical Take-Off and Landing (VTOL) صلاحیت ہے، جس کے ذریعے یہ طیارہ بغیر کسی لمبے رن وے کے سیدھا فضا میں بلند ہو سکتا ہے۔

روایتی جنگی طیاروں کے برعکس، جو بڑے فضائی اڈوں اور پیچیدہ انفراسٹرکچر پر انحصار کرتے ہیں، X-BAT کو منتشر اور سخت جغرافیائی مقامات سے آپریٹ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ طیارہ:

  • سڑکوں سے لانچ ہو سکتا ہے
  • جنگی بحری جہازوں سے آپریٹ کر سکتا ہے
  • جنگلاتی کلیئرنگ یا دور افتادہ علاقوں میں تعینات کیا جا سکتا ہے
  • محدود سہولیات والے مقامات پر بھی مشن انجام دے سکتا ہے

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صلاحیت جدید جنگی ماحول میں انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ مستقبل کے تنازعات میں فضائی اڈوں کو نشانہ بنانا دشمن کی اولین ترجیح ہو سکتی ہے۔

موبائل لانچ اینڈ ریکوری سسٹم

X-BAT کو خصوصی موبائل لانچ اینڈ ریکوری وہیکل (LRV) کے ذریعے لانچ کیا جاتا ہے۔

یہ نظام طیارے کو عمودی انداز میں فضا میں بلند کرتا ہے، جس کے بعد یہ تقریباً پانچ سیکنڈ کے اندر روایتی فارورڈ فلائٹ میں منتقل ہو جاتا ہے۔

شیلڈ اے آئی کے مطابق طیارہ صرف ایک منٹ میں اپنی کروزنگ بلندی تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے ہنگامی یا جنگی حالات میں فوری ردعمل ممکن بنایا جا سکے گا۔

جدید جیٹ انجن اور تھرسٹ ویکٹرنگ ٹیکنالوجی

X-BAT کی تیاری میں امریکی ایوی ایشن کمپنی GE Aerospace بھی شامل ہے، جو اس منصوبے کے لیے ایک ترمیم شدہ F110-GE-129 آفٹر برننگ ٹربوفین انجن فراہم کر رہی ہے۔

یہ انجن Axisymmetric Vectoring Exhaust Nozzle (AVEN) ٹیکنالوجی سے لیس ہوگا، جو طیارے کو تھرسٹ ویکٹرنگ کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

اس جدید نظام کے ذریعے:

  • انجن کا زور نیچے کی جانب موڑا جا سکتا ہے
  • عمودی ٹیک آف اور لینڈنگ ممکن ہوتی ہے
  • فضائی چالاکی اور maneuverability میں اضافہ ہوتا ہے
  • کم رفتار پر بھی استحکام برقرار رہتا ہے

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی ٹیکنالوجی X-BAT کو روایتی جنگی ڈرونز سے ممتاز بناتی ہے۔

اسٹیلتھ ڈیزائن اور کم ریڈار شناخت

X-BAT کا ڈیزائن جدید اسٹیلتھ اصولوں کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔

طیارے کی ساخت تیر کے نشان جیسی رکھی گئی ہے جبکہ اس کے پروں کو زیادہ زاویے کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ ریڈار پر اس کی شناخت کم سے کم ہو سکے۔

کمپنی کے مطابق اس کا سائز Lockheed Martin F-35 Lightning II کے تقریباً نصف کے برابر ہے، تاہم اس میں جدید جنگی صلاحیتیں شامل کی جا رہی ہیں۔

کم ریڈار دستخط کی بدولت یہ طیارہ دشمن کے فضائی دفاعی نظام کے قریب جا کر نگرانی، انٹیلی جنس اور حملہ آور مشنز انجام دے سکتا ہے۔

خودمختار جنگی صلاحیتیں

X-BAT کو مصنوعی ذہانت پر مبنی خودمختار نظاموں کے ساتھ تیار کیا جا رہا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ طیارہ:

  • بغیر انسانی پائلٹ کے مشن انجام دے سکے گا
  • خودکار نیویگیشن استعمال کرے گا
  • فضائی خطرات کا تجزیہ کر سکے گا
  • پائلٹ جنگی طیاروں کے ساتھ مشترکہ کارروائی کرے گا
  • نگرانی اور حملے دونوں مشنز انجام دے سکے گا

یہ تصور مستقبل کی “Loyal Wingman” حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جہاں خودمختار ڈرونز انسانی پائلٹس کے ساتھ مل کر جنگی کارروائیاں انجام دیتے ہیں۔

طویل رینج اور ہتھیاروں کی صلاحیت

شیلڈ اے آئی کے مطابق X-BAT کی متوقع رینج تقریباً 2000 ناٹیکل میل ہوگی، جو اسے طویل فاصلے کے مشنز کے لیے موزوں بناتی ہے۔

یہ طیارہ اندرونی اور بیرونی دونوں انداز میں ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جن میں ممکنہ طور پر:

  • ہوا سے ہوا میں مار کرنے والے میزائل
  • پریسیژن گائیڈڈ بم
  • اسمارٹ اسٹرائیک ہتھیار
  • نگرانی کے سینسرز اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز

شامل کیے جا سکتے ہیں۔

مستقبل کی جنگی حکمت عملی میں اہم کردار

دفاعی ماہرین کے مطابق X-BAT جیسے پلیٹ فارمز مستقبل کی جنگوں میں فضائی طاقت کے استعمال کا انداز بدل سکتے ہیں۔

روایتی فضائی اڈوں پر انحصار کم ہونے سے دشمن کے لیے فضائی آپریشنز کو مفلوج کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت اور خودمختار پرواز کی صلاحیت جدید فضائی جنگ میں انسانی خطرات کو بھی کم کر سکتی ہے۔

امریکی دفاعی حلقوں میں یہ منصوبہ چین اور روس جیسے ممالک کے بڑھتے ہوئے اینٹی ایکسس اور ایریا ڈینائل (A2/AD) دفاعی نظاموں کے مقابلے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اگر X-BAT اپنی آزمائشی اور آپریشنل مراحل میں کامیاب رہتا ہے تو یہ آنے والے برسوں میں عالمی فضائی جنگی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ بن سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button