سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
جنیوا میں منعقد ہونے والی 79ویں عالمی صحت اسمبلی میں پاکستان کے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ دنیا کو درپیش صحت کے بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون، مشترکہ حکمت عملی اور انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وبائی امراض، موسمیاتی تبدیلی، غذائی قلت اور صحت کی سہولیات تک غیر مساوی رسائی جیسے مسائل اب کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہے بلکہ پوری دنیا کے لیے مشترکہ خطرہ بن چکے ہیں۔
وفاقی وزیر صحت نے یہ خطاب 79th World Health Assembly کے اجلاس میں کیا، جہاں دنیا بھر سے وزرائے صحت، عالمی ادارہ صحت کے نمائندے، ماہرین اور پالیسی ساز شریک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان محدود وسائل اور متعدد معاشی چیلنجز کے باوجود عوامی صحت کے شعبے میں نمایاں پیش رفت حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
ماں اور بچے کی صحت میں نمایاں بہتری
اپنے خطاب میں مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں ماں اور بچے کی صحت کے شعبے میں گزشتہ چند برسوں کے دوران اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زچہ و بچہ کی شرح اموات میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج میں بھی مسلسل اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں بنیادی صحت کی سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ ہر شہری کو بروقت طبی امداد میسر آ سکے۔ ان کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ نومولود بچوں، حاملہ خواتین اور کمزور طبقات کو صحت کی معیاری سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ قومی سطح پر صحت کے اشاریوں کو بہتر بنایا جا سکے۔
یونیورسل ہیلتھ کوریج میں بڑی پیش رفت
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان نے یونیورسل ہیلتھ کوریج (UHC) کے شعبے میں بھی قابلِ ذکر کامیابی حاصل کی ہے۔ ان کے مطابق ملک کا یو ایچ سی انڈیکس 40 فیصد سے بڑھ کر 56 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جو صحت کے شعبے میں بہتری کی اہم علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت صحت کی سہولیات کو عام آدمی کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے متعدد اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔ ان اصلاحات کا مقصد علاج معالجے کے اخراجات میں کمی، غریب اور متوسط طبقے کو طبی سہولیات تک رسائی اور سرکاری اسپتالوں کی کارکردگی بہتر بنانا ہے۔
پولیو کے خاتمے کو قومی ترجیح قرار
مصطفیٰ کمال نے اپنے خطاب میں پولیو کے خاتمے کو پاکستان کی اولین قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت، سیکیورٹی ادارے، طبی عملہ اور عالمی شراکت دار اس مقصد کے لیے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری، خصوصاً World Health Organization اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی معاونت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی تکنیکی اور مالی مدد پاکستان کی پولیو کے خلاف جدوجہد میں انتہائی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پولیو فری ملک بننے کے ہدف کے بہت قریب پہنچ چکا ہے اور حکومت اس بیماری کے مکمل خاتمے کے لیے بھرپور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
متعدی امراض کے خلاف اقدامات مزید مضبوط
وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ پاکستان میں تپ دق، ایچ آئی وی، ملیریا، ڈینگی اور ہیپاٹائٹس جیسے متعدی امراض کے خلاف قومی سطح پر اقدامات مزید مضبوط کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ:
- بیماریوں کی جلد تشخیص کے نظام کو بہتر بنایا جا رہا ہے
- ویکسینیشن پروگرام کو وسعت دی جا رہی ہے
- ہنگامی ردعمل کے نظام کو جدید بنایا جا رہا ہے
- لیبارٹری نیٹ ورک کو مضبوط کیا جا رہا ہے
- دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات بڑھائی جا رہی ہیں
ان کے مطابق پاکستان نے حالیہ برسوں میں وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے اپنے ہیلتھ سسٹم کی استعداد میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
علاج پر مبنی نظام سے احتیاطی صحت کی جانب پیش رفت
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان صحت کے روایتی علاج پر مبنی نظام سے نکل کر احتیاطی اور حفاظتی صحت کے نظام کی طرف بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ اب صرف بیماری کے علاج تک محدود نہیں بلکہ بیماریوں کی روک تھام، صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ، غذائیت، صاف پانی اور ماحولیاتی تحفظ جیسے عوامل پر بھی مرکوز ہے۔
ان کے مطابق 10 سالہ ہیلتھ اینڈ پاپولیشن اسٹریٹیجی پر تیزی سے کام جاری ہے، جس کے ذریعے:
- آبادی میں توازن
- بنیادی صحت کی بہتری
- غذائی تحفظ
- ماں اور بچے کی صحت
- ویکسینیشن
- ہیلتھ انفراسٹرکچر
جیسے شعبوں میں طویل المدتی اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں۔
قومی ویکسین پالیسی کی منظوری
وفاقی وزیر صحت نے انکشاف کیا کہ پاکستان نے اپنی پہلی قومی ویکسین پالیسی کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت ملک میں مقامی سطح پر ویکسین تیار کرنے کی صلاحیت کو فروغ دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت قومی اور بین الاقوامی شراکت داریوں کے ذریعے:
- مقامی ویکسین مینوفیکچرنگ
- تحقیق و ترقی
- بائیو ٹیکنالوجی
- ادویات کی تیاری
جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھا رہی ہے تاکہ مستقبل میں وبائی امراض سے بہتر انداز میں نمٹا جا سکے۔
پاکستان ہر سال ہزاروں ڈاکٹرز تیار کر رہا ہے
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ پاکستان کے 188 میڈیکل کالجز ہر سال 22 ہزار سے زائد ڈاکٹرز تیار کر رہے ہیں، جو نہ صرف ملک بلکہ دنیا بھر میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز عالمی سطح پر اپنی مہارت، پیشہ ورانہ صلاحیت اور انسانی خدمت کے جذبے کے باعث پہچانے جاتے ہیں۔ حکومت طبی تعلیم اور تحقیق کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔
عالمی برادری سے مشترکہ سرمایہ کاری کی اپیل
خطاب کے اختتام پر وفاقی وزیر صحت نے عالمی برادری پر زور دیا کہ صحت کے شعبے میں پائیدار ترقی کے لیے مشترکہ سرمایہ کاری ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو مالی، تکنیکی اور تحقیقی تعاون فراہم کیے بغیر عالمی صحت کے اہداف حاصل کرنا ممکن نہیں۔ ان کے مطابق صحت مند معاشرے ہی مضبوط معیشت اور پائیدار ترقی کی بنیاد ہوتے ہیں۔
ترجمان وزارت صحت کے مطابق اجلاس کے دوران مختلف ممالک کے نمائندوں نے پاکستان کے صحت کے شعبے میں جاری اصلاحاتی اقدامات کو سراہا اور مستقبل میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔



