پاکستاناہم خبریں

پاکستان میں جی ایچ کیو اور پشاور میں فوجی اعزازات کی پروقار تقریبات، شہداء اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش

پاک فوج کے افسران اور جوانوں کو اعلیٰ عسکری اعزازات سے نوازا گیا,ستارۂ امتیاز (ملٹری) اور تمغۂ بسالت سمیت اہم اعزازات تقسیم

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

پاک فوج کے افسران اور جوانوں کو عسکری خدمات، غیر معمولی بہادری اور وطن کے دفاع میں نمایاں کردار ادا کرنے پر فوجی اعزازات دینے کی پروقار تقریب آج جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں پاک فوج کے سربراہ اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔

تقریب میں شہداء کے اہل خانہ، حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران، جوانوں اور اعلیٰ عسکری حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر وطن عزیز کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں خدمات انجام دینے والے غازیوں کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

ستارۂ امتیاز (ملٹری) اور تمغۂ بسالت سمیت اہم اعزازات تقسیم

فوجی اعزازات کی اس تقریب میں پاک فوج کے افسران اور جوانوں کو مختلف اعلیٰ عسکری اعزازات سے نوازا گیا۔ جاری کردہ تفصیلات کے مطابق تقریب میں:

  • 50 افسران اور جوانوں کو ستارۂ امتیاز (ملٹری) عطا کیا گیا۔
  • 12 افسران اور جوانوں کو تمغۂ بسالت سے نوازا گیا۔
  • متعدد اعزازات بعد از شہادت عطا کیے گئے جنہیں شہداء کے اہل خانہ نے اعزاز اور وقار کے ساتھ وصول کیا۔

شہداء کے لواحقین کی تقریب میں موجودگی نے فضا کو انتہائی جذباتی بنا دیا، جہاں شرکاء نے وطن کے لیے عظیم قربانیاں دینے والوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔

شہداء اور غازی قوم کا لازوال فخر ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ شہداء اور غازی پوری قوم کا لازوال فخر ہیں اور ان کی قربانیاں قوم کے لیے ایک مقدس امانت کی حیثیت رکھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا امن، سلامتی اور استحکام ان عظیم سپوتوں کی قربانیوں اور فرض شناسی کا مرہون منت ہے، جنہوں نے مادر وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی اور ان کے اہل خانہ کی عزت و تکریم ہر سطح پر یقینی بنائی جائے گی۔

شہداء کے خاندانوں کے صبر اور استقامت کو خراج تحسین

آرمی چیف نے شہداء کے اہل خانہ کی عظیم قربانیوں، حوصلے اور ثابت قدمی کو بھی بھرپور انداز میں سراہا۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے خاندانوں نے جس صبر، وقار اور عزم کا مظاہرہ کیا وہ پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شہداء کے اہل خانہ دراصل پوری قوم کے محسن ہیں، جنہوں نے اپنے پیاروں کی قربانی دے کر ملک کے امن اور مستقبل کو محفوظ بنایا۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ

تقریب کے دوران پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آپریشنل تیاریوں اور دہشت گردی کے خلاف مسلسل کارروائیوں کو بھی سراہا گیا۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور ملک بھر میں پائیدار امن کے قیام تک یہ جنگ مکمل قومی عزم کے ساتھ جاری رہے گی۔ انہوں نے سیکیورٹی فورسز کے افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، قربانیوں اور حوصلے کو قوم کے لیے باعثِ اطمینان قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ دشمن عناصر پاکستان کے امن اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر چیلنج سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

پشاور میں بھی اعزازات کی خصوصی تقریب

دوسری جانب پشاور میں بھی فوجی اعزازات کی ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی، جس میں انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور (نارتھ) نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔

اس تقریب میں:

  • 98 شہداء کے لواحقین نے بعد از شہادت تمغۂ بسالت وصول کیے۔
  • 6 افسران کو ستارۂ امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا۔
  • 19 افسران کو تمغۂ امتیاز (ملٹری) عطا کیا گیا۔

تقریب کے دوران شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا جبکہ غازیوں کی بہادری اور وطن سے وفاداری کو بھی بھرپور انداز میں سراہا گیا۔

قومی دفاع کے لیے پاک افواج کے عزم کو سراہا گیا

تقاریب کے اختتام پر شرکاء نے پاک فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے قومی دفاع، سرحدوں کے تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

تقریب میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان کی مسلح افواج ہر قسم کے اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

شرکاء نے شہداء کی قربانیوں کو پاکستان کی تاریخ کا روشن باب قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ قوم اپنے محافظوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی خدمات ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھی جائیں گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button