حزب اللہ کے سستے ڈرونز اسرائیلی آئرن ڈوم کے لیے بڑا چیلنج؟
یہ ویڈیو مبینہ طور پر لبنان میں سرگرم ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی جانب سے جاری کی گئی تھی، جسے جرمنی، امریکا اور کئی عرب ممالک دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں
ژان فیلپ شولس
اگرچہ اس ویڈیو کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق ابھی تک نہیں ہو سکی تاہم دفاعی ماہرین کے مطابق اس کے حقیقی ہونے کا کافی امکان موجود ہے۔ یہ ویڈیو مبینہ طور پر لبنان میں سرگرم ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی جانب سے جاری کی گئی تھی، جسے جرمنی، امریکا اور کئی عرب ممالک دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں۔

رپورٹوں کے مطابق اس سال مارچ سے حزب اللہ نے اسرائیل پر حملوں کے لیے ایف پی وی (فرسٹ پرسن ویو) ڈرونز کا استعمال بڑھا دیا ہے، جن کے ذریعے پائلٹس کو براہ راست ہدف کی ویڈیو فیڈ ملتی ہے۔ ان حملوں میں متعدد اسرائیلی فوجی ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے ڈرونز ریڈیو سگنلز کے بجائے فائبر آپٹک کیبلز کے ذریعے کنٹرول کیے جا رہے ہیں، جس سے ان کی نشاندہی کرنا اور انہیں جام کر دینا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔
یہی ٹیکنالوجی روس اور یوکرین کی جنگ میں بھی بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہی ہے، جہاں دونوں فریقوں نے اس کے خلاف عارضی اقدامات جیسے جال لگانا، کیبل کاٹنے یا شاٹ گن سے نشانہ بنانے جیسے طریقے اپنائے ہیں تاہم ان ڈرونز کے حملوں سے بچنے کے لیے کوئی مکمل اور مؤثر حل ابھی تک سامنے نہیں آیا۔
اسرائیلی دفاعی ماہرین اس بات پر حیران ہیں کہ ملک کی فوج اس نئے خطرے کے مقابلے کے لیے شاید اتنی تیار نہیں تھی، جتنی ہونا چاہیے تھی۔ ایک اسرائیلی دفاعی ٹیکنالوجی کمپنی کے سربراہ نے کہا کہ بڑی افواج اکثر نئے خطرات کے مقابلے میں سست روی کا شکار ہو جاتی ہیں، جس سے مہنگے جنگی نظام سستے ڈرونز کے سامنے کمزور پڑ سکتے ہیں۔

یوکرین کے اسرائیل میں سفیر نے بھی اس بات پر تعجب ظاہر کیا ہے کہ اسرائیل یوکرین کے تجربات سے زیادہ فائدہ نہیں اٹھا رہا۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق یہ فوج دنیا بھر کے جنگی محاذوں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے اور ڈرونز کی وجہ سے خطرات سے نمٹنے کے لیے نئے ٹولز تیار کیے جا رہے ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے بھی کہا ہے کہ ڈرون خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی منصوبہ شروع کیا گیا ہے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اس میں وقت لگے گا۔
ماہرین کے مطابق مستقبل کے جنگی نظاموں میں کم قیمت، مؤثر اور تیز رفتار اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی ناگزیر ہو چکی ہے، کیونکہ روایتی مہنگے دفاعی نظام ہر قسم کے نئے خطرات کا مؤثر جواب دینے کے قابل نہیں رہے۔



