یورپتازہ ترین

تین سال بعد پہلی بار جرمنی سے بجلی کی برآمد درآمد سے زیادہ

بجلی کی ترسیل کے نگران اس وفاقی ادارے نے مزید بتایا کہ ملک سے بجلی کی برآمد کے درآمد سے زیادہ رہنے کا گزشتہ ریکارڈ 2023ء کی آخری سہ ماہی میں دیکھنے میں آیا تھا۔

ڈی پی اے کے ساتھ

جرمنی نے رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران گزشتہ تین برسوں میں پہلی بار اپنے ہاں جتنی بجلی درآمد کی، اس سے زیادہ برآمد کی۔ یہ بات بجلی کی ترسیل کے نگران وفاقی ادارے فیڈرل نیٹ ورک ایجنسی کی طرف سے بتائی گئی۔

لیکن اسی عرصے میں 2023ء کے بعد پہلی بار ایسا بھی ہوا کہ جرمنی سے جتنی بجلی بیرون ملک برآمد کی گئی، اس کی مقدار درآمد کردہ بجلی سے زیادہ تھی۔ فیڈرل نیٹ ورک ایجنسی نے بتایا کہ رواں برس کی پہلی سہ ماہی کے دوران درآمد کردہ 15.3 ٹیرا واٹ گھنٹے کے مقابلے میں برآمد کردہ بجلی کا حجم 17.9 ٹیرا واٹ گھنٹے رہا۔

بجلی کی ترسیل کے نگران اس وفاقی ادارے نے مزید بتایا کہ ملک سے بجلی کی برآمد کے درآمد سے زیادہ رہنے کا گزشتہ ریکارڈ 2023ء کی آخری سہ ماہی میں دیکھنے میں آیا تھا۔ اس کے بعد ایسا پہلی بار رواں برس مارچ میں ختم ہونے والی پہلی سہ ماہی میں ہوا۔

ہوا سے بجلی پیدا کرنے والی ایک بہت اونچی ونڈ مل
ہوا سے بجلی پیدا کرنے والی ایک بہت اونچی ونڈ ملتصویر: Michael Sohn/AP Photo/picture alliance

اس کے برعکس گزشتہ برس کی پہلی سہ ماہی میں جرمنی سے جتنی بجلی برآمد کی گئی تھی، اس کے مقابلے میں سہ ماہی درآمد چار ٹیرا واٹ گھنٹے زیادہ رہی تھی۔

بجلی کی برآمد میں اضافے کی بڑی وجہ

فیڈرل نیٹ ورک ایجنسی کے مطابق جنوری تا مارچ 2026ء میں جرمنی سے دیگر ممالک کو بجلی کی برآمد میں اضافے کی بڑی وجہ یہ رہی کہ اس عرصے کے دوران جرمنی کے ہمسایہ زیادہ تر ممالک کے مقابلے میں  یورپ کی اس سب سے بڑی معیشت میں بجلی کی ہول سیل قیمتوں میں ہونے والی کمی زیادہ تھی۔

اس لیے بڑے پیمانے پر خریداری کے وقت قیمتیں کم ہونے پر کئی ہمسایہ ممالک نے جرمنی سے اپنے ہاں بجلی درآمد کرنے کو ترجیح دی۔

جرمنی کے ایک دیہی علاقے میں بجلی کا سپلائی سسٹم اور درمیان میں ایک بجلی گھر
جرمنی کے ایک دیہی علاقے میں بجلی کا سپلائی سسٹم اور درمیان میں ایک بجلی گھرتصویر: Julian Stratenschulte/dpa/picture alliance

فیڈرل نیٹ ورک ایجنسی کے مطابق جرمنی کے متعدد ہمسایہ ممالک میں بجلی مہیا کرنے والے کئی ادارون نے جرمن پیداواری اداروں کی تیار کردہ بجلی خریدنے کو اس لیے ترجیح دی کہ یہ بات مالیاتی حوالے سے ان کے اپنے فائدے میں تھی۔

جرمنی سے سب سے زیادہ بجلی آسٹریا نے درآمد کی

دوسری طرف جرمن پاور ڈسٹری بیوشن اداروں نے بیرون ملک سے اس لیے کم بجلی درآمد کی کہ وہ انہیں داخلی سطح پر تیار کردہ بجلی سے مہنگی پڑتی تھی۔

اس حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ اس سال کی پہلی سہ ماہی میں جس ہمسایہ ملک نے جرمنی سے سب سے زیادہ بجلی خریدی، وہ آسٹریا تھا۔

اس کے مقابلے میں اسی عرصے میں جرمنی کو سب سے زیادہ بجلی برآمد کرنے والا ملک ڈنمارک تھا، جس کے بعد دوسرے نمبر پر نیدرلینڈز اور تیسرے نمبر پر فرانس رہا۔

جرمنی میں کافی زیادہ ماحول دوست بجلی شمسی توانائی (تصویر) اور ہوا سے بھی پیدا کی جاتی ہے
جرمنی میں کافی زیادہ ماحول دوست بجلی شمسی توانائی اور ہوا سے بھی پیدا کی جاتی ہےتصویر: M. Woike/blickwinkel/picture alliance

ماحولیاتی حوالے سے یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جرمنی نے اس عرصے کے دوران جتنی بھی بجلی برآمد کی، اس کا 57 فیصد سے زیادہ حصہ توانائی کے قابل تجدید ذرائع سے حاصل کیا گیا تھا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button