
ڈی پی اے کے ساتھ
لیکن اسی عرصے میں 2023ء کے بعد پہلی بار ایسا بھی ہوا کہ جرمنی سے جتنی بجلی بیرون ملک برآمد کی گئی، اس کی مقدار درآمد کردہ بجلی سے زیادہ تھی۔ فیڈرل نیٹ ورک ایجنسی نے بتایا کہ رواں برس کی پہلی سہ ماہی کے دوران درآمد کردہ 15.3 ٹیرا واٹ گھنٹے کے مقابلے میں برآمد کردہ بجلی کا حجم 17.9 ٹیرا واٹ گھنٹے رہا۔
بجلی کی ترسیل کے نگران اس وفاقی ادارے نے مزید بتایا کہ ملک سے بجلی کی برآمد کے درآمد سے زیادہ رہنے کا گزشتہ ریکارڈ 2023ء کی آخری سہ ماہی میں دیکھنے میں آیا تھا۔ اس کے بعد ایسا پہلی بار رواں برس مارچ میں ختم ہونے والی پہلی سہ ماہی میں ہوا۔

اس کے برعکس گزشتہ برس کی پہلی سہ ماہی میں جرمنی سے جتنی بجلی برآمد کی گئی تھی، اس کے مقابلے میں سہ ماہی درآمد چار ٹیرا واٹ گھنٹے زیادہ رہی تھی۔
بجلی کی برآمد میں اضافے کی بڑی وجہ
فیڈرل نیٹ ورک ایجنسی کے مطابق جنوری تا مارچ 2026ء میں جرمنی سے دیگر ممالک کو بجلی کی برآمد میں اضافے کی بڑی وجہ یہ رہی کہ اس عرصے کے دوران جرمنی کے ہمسایہ زیادہ تر ممالک کے مقابلے میں یورپ کی اس سب سے بڑی معیشت میں بجلی کی ہول سیل قیمتوں میں ہونے والی کمی زیادہ تھی۔
اس لیے بڑے پیمانے پر خریداری کے وقت قیمتیں کم ہونے پر کئی ہمسایہ ممالک نے جرمنی سے اپنے ہاں بجلی درآمد کرنے کو ترجیح دی۔

فیڈرل نیٹ ورک ایجنسی کے مطابق جرمنی کے متعدد ہمسایہ ممالک میں بجلی مہیا کرنے والے کئی ادارون نے جرمن پیداواری اداروں کی تیار کردہ بجلی خریدنے کو اس لیے ترجیح دی کہ یہ بات مالیاتی حوالے سے ان کے اپنے فائدے میں تھی۔
جرمنی سے سب سے زیادہ بجلی آسٹریا نے درآمد کی
دوسری طرف جرمن پاور ڈسٹری بیوشن اداروں نے بیرون ملک سے اس لیے کم بجلی درآمد کی کہ وہ انہیں داخلی سطح پر تیار کردہ بجلی سے مہنگی پڑتی تھی۔
اس حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ اس سال کی پہلی سہ ماہی میں جس ہمسایہ ملک نے جرمنی سے سب سے زیادہ بجلی خریدی، وہ آسٹریا تھا۔
اس کے مقابلے میں اسی عرصے میں جرمنی کو سب سے زیادہ بجلی برآمد کرنے والا ملک ڈنمارک تھا، جس کے بعد دوسرے نمبر پر نیدرلینڈز اور تیسرے نمبر پر فرانس رہا۔

ماحولیاتی حوالے سے یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جرمنی نے اس عرصے کے دوران جتنی بھی بجلی برآمد کی، اس کا 57 فیصد سے زیادہ حصہ توانائی کے قابل تجدید ذرائع سے حاصل کیا گیا تھا۔



