پاکستاناہم خبریں

پاکستان کا ابراہیم معاہدے میں شمولیت سے انکار، فلسطینی ریاست کے قیام تک خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا امکان مسترد

پاکستان نے اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا اور مختلف حکومتوں کے ادوار میں بھی یہی پالیسی برقرار رہی ہے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اسرائیل کے حوالے سے کوئی تبدیلی نہیں آئی اور نہ ہی ابراہیم معاہدے میں شمولیت زیر غور ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو جاتی جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے ان خبروں اور افواہوں کو مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ پاکستان پر ابراہیم معاہدے میں شامل ہونے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے یا اسلام آباد اس حوالے سے کسی قسم کے غور و فکر میں مصروف ہے۔

وزیر خارجہ نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان کا مؤقف کئی دہائیوں سے واضح اور مستقل ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، آزاد ریاست اور القدس الشریف کو دارالحکومت تسلیم کیے بغیر پاکستان اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے کسی بھی اقدام کا حصہ نہیں بنے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کسی ایک حکومت یا سیاسی جماعت کی پالیسی نہیں بلکہ ریاستی مؤقف ہے، جس پر تمام ادوار میں تسلسل کے ساتھ عمل کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق حکومتیں بدل سکتی ہیں لیکن فلسطین کے مسئلے پر پاکستان کا اصولی مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔

ابراہیم معاہدہ کیا ہے؟

ابراہیم معاہدہ 2020 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران طے پایا تھا، جس کے تحت کئی عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کا فیصلہ کیا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے، جبکہ بعد ازاں مراکش اور سوڈان بھی اس فریم ورک میں شامل ہو گئے۔

امریکہ نے اس معاہدے کو مشرق وسطیٰ میں امن، استحکام اور اقتصادی تعاون کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا تھا۔ تاہم بعض مسلم ممالک اور سیاسی حلقوں نے فلسطینی مسئلے کے حتمی حل سے قبل اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

ٹرمپ کے حالیہ بیان کے بعد بحث میں تیزی

ابراہیم معاہدے سے متعلق بحث ایک بار پھر اس وقت شدت اختیار کر گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور امریکہ-ایران مذاکرات کے تناظر میں مسلم اکثریتی ممالک کو اس فریم ورک میں شامل ہونے کی تجویز دی۔

ٹرمپ نے اپنی ایک تفصیلی پوسٹ میں پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکی اور دیگر مسلم ممالک کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ خطے میں وسیع تر امن اور اقتصادی انضمام کے لیے مزید ممالک کو بھی اس عمل کا حصہ بننا چاہیے۔

امریکی صدر کے اس بیان کے بعد مختلف بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور سفارتی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ آیا پاکستان مستقبل میں اپنی پالیسی پر نظرثانی کر سکتا ہے یا نہیں۔ تاہم اسحاق ڈار کے حالیہ بیان نے ان تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا ہے۔

فلسطین کے مسئلے پر پاکستان کا تاریخی مؤقف

پاکستان قیام کے بعد سے ہی فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرتا رہا ہے۔ اسلام آباد ہمیشہ دو ریاستی حل کی حمایت کرتا آیا ہے، جس کے تحت فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے لیے الگ الگ ریاستوں کے قیام کی بات کی جاتی ہے۔

پاکستان اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں کی روشنی میں اس بات پر زور دیتا ہے کہ فلسطینی عوام کو ایک آزاد ریاست کا حق حاصل ہے اور مشرقی یروشلم (القدس الشریف) کو اس ریاست کا دارالحکومت تسلیم کیا جانا چاہیے۔

پاکستان نے اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا اور مختلف حکومتوں کے ادوار میں بھی یہی پالیسی برقرار رہی ہے۔

سیاسی اور عوامی سطح پر اتفاقِ رائے

مبصرین کے مطابق فلسطین کے مسئلے پر پاکستان میں غیر معمولی سیاسی اور عوامی اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے۔ مذہبی جماعتوں، قوم پرست حلقوں، مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے بیشتر نمائندے فلسطینی حقوق کی حمایت کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون قرار دیتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فلسطینی عوام کے ساتھ ہمدردی پاکستانی معاشرے میں ایک مضبوط جذباتی، مذہبی اور تاریخی بنیاد رکھتی ہے، جس کے باعث اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا معاملہ ہمیشہ حساس موضوع رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سفارت کاری

عالمی امور کے ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی سفارتی صف بندیوں، ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ پیش رفت، اور علاقائی سکیورٹی کے نئے تقاضوں کے باعث مختلف ممالک اپنی خارجہ پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں۔

تاہم پاکستان کی موجودہ قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ فلسطین کے مسئلے پر اسلام آباد اپنی طویل المدتی پالیسی پر قائم رہے گا اور کسی بھی ممکنہ سفارتی پیش رفت کو فلسطینی عوام کے حقوق اور اقوام متحدہ کی قراردادوں سے مشروط تصور کرے گا۔

مستقبل کا منظرنامہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ خطے میں سفارتی ماحول تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، لیکن پاکستان کے حالیہ سرکاری مؤقف سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے معاملے میں فوری طور پر کسی بڑی پالیسی تبدیلی کا امکان موجود نہیں۔ ان کے مطابق اسلام آباد کی ترجیح بدستور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور پائیدار حل کی حمایت ہے۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے تازہ ترین بیان نے ایک مرتبہ پھر اس امر کی تصدیق کر دی ہے کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول سمجھتا ہے اور اس سلسلے میں اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button