اسٹریٹیجک ذخائر میں اب کتنا تیل باقی ہے؟
امریکہ نے اپنے اسٹریٹیجک پٹرولیم ریزرو میں تقریباً 413 ملین بیرل تیل محفوظ کر رکھا تھا، جبکہ اس کے علاوہ 411 ملین بیرل تیل کمرشل ذخائر کی صورت میں بھی موجود تھا۔
اس صورتحال نے دنیا بھر کے ممالک کو فوری طور پر متبادل ذرائع تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے تاکہ تیل کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔ خاص طور پر وہ ممالک جو توانائی کے لیے درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، اس بحران سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
بہت سے ممالک، خصوصاً ایشیائی ریاستیں جو مشرق وسطیٰ سے درآمدی توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں، نے ایندھن کی طلب کم کرنے کے لیے اقدامات بھی متعارف کرائے ہیں۔
بین الاقوامی انرجی ایجنسی (IEA) نے مارچ میں بڑے پیمانے پر تیل کے ذخائر جاری کرنے کی کارروائی کو مربوط کیا اور تقریباً 400 ملین بیرل تیل صنعتی ممالک کے ہنگامی ذخائر سے فراہم کیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد مناسب سپلائی کو یقینی بنانا اور خام تیل کی قیمتوں کو مستحکم رکھنا تھا۔

اسٹریٹیجک ذخائر اہم کیوں؟
ایران جنگ سے پہلے خام تیل کی عالمی منڈی میں وافر سپلائی موجود تھی، اور بڑی معیشتوں نے وسیع اسٹریٹیجک ذخائر قائم کر رکھے تھے۔ عالمی سطح پر سب سے بڑے ذخائر چین ،امریکہ اور جاپان کے پاس موجود تھے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق دسمبر 2025 تک چین کے پاس تقریباً 1.4 ارب بیرل تیل کے ذخائر موجود تھے، جن میں کمرشل اور سرکاری دونوں قسم کے ذخائر شامل ہیں۔
امریکہ نے اپنے اسٹریٹیجک پٹرولیم ریزرو میں تقریباً 413 ملین بیرل تیل محفوظ کر رکھا تھا، جبکہ اس کے علاوہ 411 ملین بیرل تیل کمرشل ذخائر کی صورت میں بھی موجود تھا۔
جاپان اس فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے، جہاں صرف سرکاری کنٹرول میں تقریباً 263 ملین بیرل تیل کے ذخائر موجود ہیں۔
دوسری جانب یورپی یونین کے ممالک قانوناً اس بات کے پابند ہیں کہ وہ کم از کم 90 دن کی خالص درآمدات یا 61 دن کی کھپت کے برابر ہنگامی ذخائر برقرار رکھیں، تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران کے دوران توانائی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

عالمی تیل بحران اور یورپ اور ایشیا کی اسٹریٹیجی
آئی ای اے کے تحت جاری کیے گئے 400 ملین بیرل تیل میں یورپی یونین کے ممالک نے تقریباً 20 فیصد حصہ ڈالا۔ اس میں جرمنی نے 19.5 ملین بیرل، فرانس نے 14.6 ملین، اسپین نے 11.6 ملین اور اٹلی نے 10 ملین بیرل تیل فراہم کیا۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق بھارت کے پاس تقریباً 21 ملین بیرل کے اسٹریٹیجک ذخائر موجود ہیں۔ یہ ذخائر اس وقت بھارت کی خالص تیل درآمدات کے لیے تقریباً 9.5 دن کی ضروریات پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تاہم اگر سرکاری تیل کمپنیوں کے ذخائر کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ مدت بڑھ کر تقریباً 74 دن تک پہنچ جاتی ہے، جو ملک کو کسی بھی ممکنہ بحران سے نمٹنے میں بہتر مدد فراہم کر سکتی ہے۔
دوسری جانب عالمی سپلائی بڑھانے کے لیے ایک اہم پیش رفت یہ بھی ہوئی کہ سمندر میں پھنسے روسی خام تیل کے لاکھوں بیرل ایشیائی خریداروں کے لیے دستیاب ہو گئے۔ یہ اس وقت ممکن ہوا جب امریکہ نے عارضی طور پر ان تیل بردار جہازوں پر عائد پابندیوں میں نرمی کی، جس کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی کو بہتر بنانا تھا۔
گرمیوں میں جبکہ تیل کی طلب اپنے عروج پر ہوتی ہے، تیل کی دستیابی میں قلت کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔



