اے ایف پی
فلسطینی حکام نے بتایا کہ اسرائیلی حکام نے بدھ کے روز فلسطینی خواتین کی قومی فٹ بال ٹیم کی ایک کھلاڑی کی حراست میں توسیع کر دی۔ انہیں یروشلم میں تفتیش کے لیے طلب کیا گیا تھا۔
فلسطینی فٹ بال ایسوسی ایشن (پی ایف اے) نے 20 سالہ رند حلوانی کی طویل حراست کی مذمت کی جنہیں منگل کی شام گرفتار کیا گیا تھا۔
ایک بیان میں ایسوسی ایشن نے کہا کہ حلوانی اور قومی ٹیم کی ایک سابق کھلاڑی کی گرفتاری "کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے، یہ فلسطینی کھلاڑیوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے کے ایک دستاویزی عمل کا حصہ ہے جو بغیر کسی جوابدہی کے جاری ہے۔”
یروشلم کے لیے فلسطینی گورنری کے مطابق ایک اسرائیلی عدالت نے حلوانی کی نظربندی میں جمعہ تک توسیع کر دی۔
اسرائیلی فوج نے منگل کے روز مقبوضہ مغربی کنارے میں سابق قومی فٹ بال کھلاڑی اور بیرزیت یونیورسٹی کی طالبہ نتالی ابو دیۃ کے ساتھ ساتھ تین دیگر نوجوان فلسطینی خواتین کو بھی گرفتار کر لیا۔
فوج نے ایک بیان میں کہا کہ چار خواتین پر "دہشت گردانہ سرگرمیوں اور دہشت گردی سے متعلق اضافی سرگرمیوں کو فروغ دینے” کا شبہ ہے۔
برزیت یونیورسٹی نے گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں اسرائیل کی طرف سے "فلسطینی تعلیم اور طلباء کے تعلیمی سفر کو جاری رکھنے کے حق کو نشانہ بنانے والی منظم پالیسی” قرار دیا۔
اردن اور ارضِ مقدسہ جس سے نتالی ابو دیۃ کا تعلق ہے، کے ایوینجلیکل لوتھرن چرچ کے بشپ عماد حداد نے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
حداد نے منگل کو ایک بیان میں کہا، "ہم اس خبر سے اور ساتھ ہی اس بات سے شدید صدمے میں اور خوفزدہ ہیں کہ ان کے اہلِ خانہ کو تاحال نہیں معلوم کہ انہیں کہاں لے جایا گیا ہے۔”
فلسطینی علاقوں میں قیدیوں کے حقوق کی مرکزی انجمن پرزنرز کلب کے مطابق اس وقت 89 فلسطینی خواتین اسرائیلی جیلوں میں بند ہیں جن میں تین نابالغ اور تین حاملہ خواتین بھی شامل ہیں۔
فلسطینی اتھارٹی سے وابستہ قیدیوں کے کلب نے مئی کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ 9,400 سے زیادہ فلسطینی قیدی اسرائیلی جیلوں میں بند ہیں جن میں اسرائیل کے فلسطینی شہری بھی شامل ہیں جنہیں بعض اوقات عرب اسرائیلی بھی کہا جاتا ہے۔


