میسنجر ایپ کے لیے یورپی یونین کے سخت قوانین: میٹا کی اپیل رد
یورپی یونین کے ڈیجیٹل منڈیوں سے متعلق ایکٹ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ان اداروں پر سخت ذمے داریاں عائد کرتا ہے
ڈی پی اے اور اے ایف پی کے ساتھ
ساتھ ہی لکسمبرگ میں یورپی یونین کی جنرل کورٹ نے ماضی میں کی گئی اس تخصیص کو بھی منسوخ کر دیا، جس کے تحت شاپنگ سروس کی وجہ سے میسنجر کو ایک ‘مارکیٹ پلیس‘ قرار دیا گیا تھا۔
میسنجر کے لیے ‘مارکیٹ پلیس‘ کے طور پر یہ یورپی حیثیت پہلے ہی واپس لی جا چکی ہے اور یورپی عدالت کے تین جون کے فیصلے میں میسنجر کی اس سابقہ حیثیت کو قانوناﹰ غلط قرار دے کر قطعی منسوخ شدہ قرار دے دیا گیا۔

یورپی کمیشن کا گزشتہ فیصلہ اور میٹا کی 2023 کی اپیل
یورپی کمیشن نے 2023ء میں اپنے ایک فیصلے میں اور اس بلاک کے ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ یا ڈی ایم اے کے تحت میسنجر کو اصطلاحاﹰ ”گیٹ کیپرز‘‘ میں سے ایک قرار دیتے ہوئے میٹا کے میسنجر کو بھی ایک ‘مارکیٹ پلیس‘ قرار دے دیا تھا۔ تب میٹا نے اس فیصلے کے خلاف ایک اپیل دائر کردی دی تھی، کیونکہ یہ امریکی کمپنی نہیں چاہتی تھی کہ یورپ کے بہت سخت DMA نامی قانون کا اطلاق میسنجر پر بھی ہو۔
یورپی یونین کے ڈیجیٹل منڈیوں سے متعلق ایکٹ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ان اداروں پر سخت ذمے داریاں عائد کرتا ہے، جو اپنے کاروبار کے لیے صارفین تک پہنچنے کی خاطر ”بہت اہم گیٹ ویز‘‘ کا کام کرتی ہیں۔
اس یورپی قانون کا کلیدی مقصد اس بلاک میں ڈیجیٹل منڈیوں میں صحت مند کاروباری مقابلہ بازی کا تحفظ ہے۔

اس فیصلے کے بعد یورپی کمیشن نے 2025ء میں میٹا کے میسنجر کی ایک ‘مارکیٹ پلیس‘ کے طور پر اپنی ہی طے کردہ تخصیص واپس لے لی تھی، کیونکہ تب میسنجر کے حوالے سے تجارتی صارفین کے لیے درکار کم از کم معیارات بھی پورے نہیں ہو سکے تھے۔
میسنجر سے متعلق یورپی عدالت یورپی کمیشن کی ہم خیال
لکسمبرگ میں یورپی یونین کی جنرل کورٹ نے اپنے بدھ کے روز کیے گئے فیصلے میں میٹا کی طرف سے دائر کردہ اپیل مسترد کرتے ہوئے میسنجر سے متعلق یورپی کمیشن کے فیصلے کو درست قرار دے دیا اور کہا کہ ایک ”گیٹ کیپر‘‘ کے طور پر میٹا کے میسنجر پر بھی یونین کے ڈیجیٹل منڈیوں کے سخت قانون کا اطلاق ہوتا ہے۔

عدالت نے ساتھ ہی میٹا اور یورپی کمیشن دونوں کو یہ اجازت بھی دے دی کہ اگر وہ یا ان میں سے کوئی ایک بھی چاہے، تو اس فیصلے کے خلاف یورپی عدالت انصاف میں اپیل دائر کر سکتا ہے۔ یورپی عدالت انصاف یورپی یونین کی اعلیٰ ترین عدالت ہے۔
یورپی کمیشن نے میٹا کے میسنجر کے علاوہ میٹا پلیٹ فارمز نامی امریکی ٹیکنالوجی کمپنی کی کئی دیگر سروسز کو بھی ”گیٹ کیپرز‘‘ قرار دے رکھا ہے۔ ان میں فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور میٹا ایڈز نامی ادارے شامل ہیں۔


