کالمزحیدر جاوید سید

آزاد کشمیر ، جورہا ہے غلط ہورہا ہے…….حیدر جاوید سید

24 نشستوں پر مجموعی طور 403 امیدوار تھے ان میں 7 خواتین امیدوار بھی تھیں 480 پولنگ اسٹیشنوں کو حساس قرار دیا گیا تھا حساس قرار دیئے جانے کی مختلف وجوہات رہیں

جس وقت آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے گلگت بلتستان اسمبلی کے ابتدائی نتائج سامنے آچکے ہوں گے اس انتخابی مہم کے دوران انتظامیہ سے بہت ساری غلطیاں ہوئیں لیکن زمینی حقائق سوشل میڈیا کی دنیاوں سے مختلف تھے مثلاً تحریک انصاف کے متعدد رہنماوں کو گلگت بلتستان جانے سے روکا گیا لیکن پی ٹی آئی کے سربراہ بیرسٹر گوہر علی خان ، شاہد خٹک ، شاندانہ گلزار ، عثمان ڈار ان کی والدہ ریحانہ ڈار اور دیگر بہت سارے معروف و غیرمعروف رہنما گلگت بلتستان کی انتخابی مہم میں شریک رہے انہوں نے جلسوں سے خطاب کیا مخالفوں کو یزید قرار دیتے ہوئے تحریک انصاف کو کربلا کے حسینی لشکر کا حصہ بتایا
مگر پی ٹی آئی کے حامی سوشل میڈیا مجاہدین اور یوٹیوبرز نے سوشل میڈیا پر مختلف فضا بنائے رکھی سادہ لفظوں میں یوں کہہ لیجے کہ منفی ذہن سازی کے ریکارڈ بنائے گئے پیپلز پارٹی و مسلم لیگ ن سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی سے بہت پیچھے رہے اور ہیں بہر حال اتوار 7 جون کو گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 جنرل نشستوں پر رائے دہندگان نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا یہ سطور لکھتے وقت تک ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی کہ کہیں معاملات بگڑے ہیں
دعا یہی ہے کہ پولنگ کا عمل پر امن انداز میں مکمل ہو البتہ ایک امکان ہے وہ یہ کہ انتخابی نتائج کو تحریک انصاف کی جانب سے تسلیم نہیں کیا جائے گا وہ اپنی پچانوے فیصد فتح کے نقارے سوشل میڈیا پر پیٹیں گے اور مخصوص فضا بنائیں گے یہی پی ٹی آئی کی سیاست کا رزق ہے
انتخابی عمل کے آغاز سے اختتام تک جی بی انتظامیہ سے جو غلطیاں سرزد ہوئیں انہیں ہم عام فہم زبان میں طنزاً ” غلطان” کہتے ہیں ان غلطان کے تابوت میں آخری کیل گلگت بلتستان میں ہفتہ 6 جون کو انٹرنیٹ بند کر کے ٹھوکی گئی اس کا مشورہ جس بھی عظیم کاریگر نے دیا تھا اسے ذہنی امراض کے کسی مستند ماہر کو دیکھانے کی ضرورت ہے بلکہ یوں کہہ لیجے کہ یہ کام پہلی فہرصت میں کرنے والا ہے
24 نشستوں پر مجموعی طور 403 امیدوار تھے ان میں 7 خواتین امیدوار بھی تھیں 480 پولنگ اسٹیشنوں کو حساس قرار دیا گیا تھا حساس قرار دیئے جانے کی مختلف وجوہات رہیں 5 اور 6 جون کی درمیانی شب انتخابی قوانین کے تحت ختم ہونے والی انتخابی مہم میں سنجیدگی متانت سیاسی طرز عمل پچاس فیصد رہا اور پچاس فیصد فرقہ وارانہ
دیکھتے ہیں کونسا پچاس فیصد دوسرے پچاس فیصد پر غالب آتا ہے صحافت و سیاسیات کے طالبعلم کو کچھ خطرات و خدشات محسوس ہورہے ہیں سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ اس انتخابی مہم کے دوران کی نعرے بازی سستی تقاریر بازاری بھید بھاو اور بدبودار فتووں کے اثرات انتخابی نتائج کے بعد بھی مقامی سماج کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے اور اس سے وہ عناصر و قوتیں فائدہ اٹھائیں گی جنکا دال دلیہ وحدت سے نہیں انتشار نفرت اور تکفیر سے چلتا ہے
ہم اسے بدقسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے سیاستدان اور مذہبی رہنما جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں فرقہ واریت کی مذمت کرنے والے ہی اسے ہوا دے رہے ہوتے ہیں بہرحال امید کی جانا چاہئے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابی نتائج پرامن انداز میں قبول کیئے جائیں خدشہ ہے کہ ایسا نہیں ہوگا
گلگت بلتستان کے پڑوس میں ہی پاکستان کے زیرانتظام دوسرا علاقہ آزاد کشمیر ہے گزشتہ سے پیوستہ روز آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے آئندہ انتخابات کی تاریخ اور انتخابی شیڈول کا اعلان کیا گیا ریاستی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 27 جولائی کو ہوں گے عام انتخابات کی تاریخ اور انتخابی شیڈول کے اعلان کے باوجود یہ سوال زبانِ زدعام ہے کہ کیا آزاد کشمیر کے موجودہ حالات میں انتخابی شیڈول پر عمل ہوسکے گا ؟
ہماری دانست میں یہ سوال نہ صرف اہم ہے بلکہ اس کا جواب دینے یا تلاش کرنے سے گریز کا مطلب یہ ہوگا کہ ان حقائق سے منہ موڑکے سرپٹ بھاگتے رہا جائے جو صاف سامنے دیکھائی دے رہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور اس سے ملتے جلتے ناموں والی دودوسری تنظیموں پر پابندی لگانے کا فیصلہ انتہائی عاجلانہ ہے عجیب بات ہے جس جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے چنددن قبل تک مذاکرات ہوتے رہے اب وہ عوام ریاست پاکستان اور جمہوریت دشمن ٹھہری یہی نہیں اس کے علاوہ بھی کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر کچھ سنگین نوعیت کے الزامات بھی لگائے جارہے ہیں مثلاً یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ گزشتہ روز ایکشن کمیٹی سے تعلق رکھنے والے جو 72 افراد گرفتار ہوئے ان سے جدید مواصلاتی آلات اور اسلحہ برامد ہوا اور ان کے غیرملکی افراد سے روابط کے شواہد ملے ہیں
کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات کے حق میں 9 جون سے آزاد کشمیر میں شٹرڈاون ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے شہریوں سے ایک ماہ کا راشن گھروں پر جمع کرلینے کی اپیل کی تھی جمعہ 5 جون کی شام سے کچھ بعد آزاد کشمیر کے قائم مقائم صدر کی منظوری کے بعد ریاستی وزارت داخلہ نے ایکشن کمیٹی پر پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب میں ہی ایک دو افسوسناک واقعات پیش آئے ان واقعات کے ردعمل میں ہفتہ 6 جون کو متعدد شہروں میں احتجاج شروع ہوگیا ستم بالائے ستم آزاد کشمیر میں 12 جون تک کیلئے تمام انٹر نیٹ سروسز بند کردی گئی ہیں نتیجتاً ٹھوس و درست اطلاعات کا راستہ بند ہے افواہوں اور دعووں کو تو پر لگے ہی اس کے ساتھ سوشل میڈیا مجاہدین ( ہردوطرف کے حامیوں ) کے اکاونٹس بھی توپیں بن چکے خوب گولہ باری جاری ہے
نرم سے نرم انداز میں بھی بتانے کو یہی کچھ ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے یہ تاثر بن رہا بلکہ بنایا جارہا ہے کہ آزاد کشمیر میں اس وقت بھارتی مقبوضہ کشمیر جیسی صورتحال ہے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جس کسی نے ازاد کشمیر میں انٹر نیٹ سروسز بند کرنے کا مشورہ دیا وہ کسی کا دوست و بہی خوا نہیں بلکہ اس نے حالات کو بگاڑنے میں حصہ ڈالا اب کون روکے گا افواہوں اور پروپیگنڈے کے طوفان کو ؟
یہ درست ہے کہ جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے بعض رہنماوں ( یہ کور ممبر کہلاتے ہیں ) کی تقاریر زہر سے بھری ہوتی تھیں بعض مائیک سامنے دیکھ کر بے قابو ہوجاتے تھے لیکن چند افراد کی نفرت بھری تقاریر منفی نعرے لگوانے کو اجتماعی سوچ قرار دینا بھی غلط تھا اور ہے
یہی وجہ ہے کہ کرائے کے چنددرجن سوشل میڈیا اکاونٹس ہوں یا ایکشن کمیٹی کے بعض حامیوں کے سوشل میڈیا اکاوٹنس سب سے زہر اگلا جارہا ہے کرائے کے سوشل میڈیا اکاونٹس سے ایکشن کمیٹی کو بھارتی ایجنٹ قرار دینے کے ساتھ ننگی گالیاں دی جارہی ہیں تو جواباً پاکستان کو بھارت جیسی ریاست قرار دے کر ایسے ایسے الزامات اچھالے جارہے ہیں جن کا کوئی سر پیر نہیں نفرتوں کے اس کاروبار کو انٹرنیٹ کی بندش سے دوام مل رہا ہے رہی سہی کسر بھارتی ذرائع ابلاغ پوری کررہے ہیں
ہم اس سوچ اور ایکشن کمیٹی پر پابندی کے فیصلے پر افسوس کا اظہار ہی کرسکتے ہیں اس سوچ اور پابندی کے فیصلے نے سیکورٹی اسٹیٹ کے طبقاتی نظام کے منہ پر کالک مل دی ہے عجیب بات ہے کہ اس ملک میں سرکاری اعدادوشمار کے حساب سے بھارتی ایجنٹوں کی تعداد بڑھ رہی ہے
دوسری جانب طرفین کے حامی سنجیدہ بات کرنے کی بجائے گالم گلوچ بریگیڈ کا کردار نبھانے میں جُتے ہوئے ہیں باردیگر عرض ہے کہ ایکشن کمیٹی کے بعض رہنماوں کی زبانیں ان کے اپنے قابو میں نہیں تھیں وہ نفرت بھری تقاریر اور گالم گلوچ کو آزادی اظہار سمجھتے رہے لیکن یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ طرفین نے مسائل کو حل کرنے کرانے کی بجائے ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کیلئے توانائیاں استعمال کیں اب ایسا لگتا ہے بلکہ یہی ہے کہ مہاجرین جموں کشمیر کی 12 نشستوں والا آئینی معاملہ ” ضد ” بن گیا ہے حالانکہ یہ قانون سازی کا مرہون منت ہے
حرف آخر یہ ہے کہ آزاد کشمیر میں سب اچھا ہرگز نہیں اصلاح احوال کیلئے فوراً سنجیدہ کوششیں نہ ہوئیں تو بہت دھول اُڑے گی اور خمیازہ سبھی کو بھگتنا پڑے گا

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button