پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

پنجاب اسمبلی تاریخ کے نئے دور میں داخل، پہلی ای اسمبلی کا آغاز، کارروائی مکمل طور پر پیپر لیس

پیپر لیس اسمبلی کے باعث قومی خزانے کے کروڑوں روپے کی بچت ہوگی۔ سپیکر نے بتایا کہ تمام ارکان اسمبلی کی نشستوں پر خصوصی کوڈ کے حامل ٹیبلٹس فراہم کیے جا چکے

ناصف اعوان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پنجاب اسمبلی نے پارلیمانی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے پہلی مرتبہ مکمل طور پر ای اسمبلی نظام کے تحت اجلاس منعقد کیا، جس کے ساتھ ہی ایوان کی کارروائی پیپر لیس ہو گئی۔ اجلاس ایک گھنٹہ 53 منٹ کی تاخیر سے سپیکر ملک محمد احمد خان کی صدارت میں شروع ہوا۔ اجلاس کے آغاز پر نومنتخب رکن صوبائی اسمبلی ظفر عباس خان نے حلف اٹھایا جبکہ ایوان میں سابق رکن اسمبلی ملک ندیم کامران، صفدر لغاری اور تربت میں وفات پانے والے پاکستانی شہریوں کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔اجلاس میں سپیکر پنجاب اسمبلی نے جنرل یوتھ اسمبلی سے منسلک فہد شہباز کو امریکی جریدے کی بااثر نوجوان رہنماؤں کی فہرست میں شامل ہونے پر مبارکباد دی جبکہ ارکان اسمبلی نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر ان کی کامیابی کو سراہا۔بعد ازاں سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے پہلی ای اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب اسمبلی پیپر لیس نظام کے ذریعے جدید پارلیمانی دور میں داخل ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے کاغذ کے استعمال میں نمایاں کمی آئے گی، جنگلات کے تحفظ میں مدد ملے گی اور کاربن فٹ پرنٹ کم ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپر لیس اسمبلی کے باعث قومی خزانے کے کروڑوں روپے کی بچت ہوگی۔ سپیکر نے بتایا کہ تمام ارکان اسمبلی کی نشستوں پر خصوصی کوڈ کے حامل ٹیبلٹس فراہم کیے جا چکے جبکہ ای اسمبلی کے نظام کو وقت کے ساتھ مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ای پارلیمنٹ کے اس سفر میں تمام ارکان کا تعاون ناگزیر ہے اور مکمل منتقلی تک بلز اور دیگر دستاویزات کی محدود تعداد میں ہارڈ کاپیاں بھی فراہم کی جاتی رہیں گی۔
حکومتی ارکان سمیع اللہ خان اور امجد علی جاوید نے پنجاب اسمبلی کو ای اسمبلی بنانے کے اقدام پر سپیکر کو خراج تحسین پیش کیا۔ سمیع اللہ خان نے کہا کہ اسمبلی کا پیپر لیس ہونا ایک تاریخی پیش رفت ہے جبکہ امجد علی جاوید نے کہا کہ سپیکر پنجاب اسمبلی کا نام اس اقدام کی بدولت تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔اجلاس کے دوران سوالات کے وقفے میں ریونیو اور کالونیز سے متعلق امور زیر بحث آئے۔ پارلیمانی سیکرٹری عون جہانگیر نے بتایا کہ سب تحصیل فتح پور میں ریونیو افسر کی پوسٹ خالی ہے اور اس کا اضافی چارج تحصیلدار لیہ کے پاس ہے۔ اس موقع پر ارکان نے سیلاب متاثرین کی بحالی، ریونیو مسائل اور عوامی شکایات کا معاملہ بھی اٹھایا۔حکومتی رکن امجد علی جاوید نے ایوان کو بتایا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں لینڈ مافیا اور فراڈیوں سے 758 ایکڑ سرکاری زمین واگزار کرائی گئی ہے جس کی مالیت تقریباً چار ارب روپے بنتی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض سرکاری افسران مافیا کے خلاف کارروائی سے گریز کرتے ہیں۔ خانیوال میں سرکاری اراضی کی لیز کے معاملے پر بھی تفصیلی بحث ہوئی جہاں پارلیمانی سیکرٹری عون جہانگیر نے بتایا کہ 6 ہزار 700 ایکڑ سرکاری زمین لیز پر دی گئی ہے جس سے سالانہ آمدن حاصل ہو رہی ہے۔اجلاس میں متعدد اہم آرڈیننس اور بل پیش کیے گئے جن میں پنجاب جوڈیشل اکیڈمی ترمیمی آرڈیننس 2026ء، پنجاب فوڈ سیفٹی لاز ترمیمی آرڈیننس 2026ء، آغا خان پراپرٹیز سیکسیشن اینڈ ٹرانسفر بل 2026ء، پنجاب ٹرسٹس ترمیمی بل 2026ء، پنجاب کنٹرول آف ہیبیچوئل آفینڈرز اینڈ اینٹی سوشل بی ہیویئر بل 2026ء، قائداعظم انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز سرگودھا بل 2026ء، پبلک سیکٹر میڈیکل یونیورسٹیز ترمیمی بل 2026ء، پنجاب کنسولیڈیشن آف ہولڈنگز بل 2026ء، پنجاب سنٹر آف ایکسیلینس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم ترمیمی بل 2026ء، اینٹی ٹیررازم پنجاب ترمیمی بل 2026ء، سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی بل 2026ء اور پنجاب ویجیٹیبل مارکیٹ لاہور بل 2026ء شامل تھے۔ تمام بل مزید غور و خوض کے لیے دو ماہ کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیے گئے۔دوسری جانب اپوزیشن ارکان نے گندم کے مسائل پر بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر احتجاج کیا۔ اپوزیشن رکن بریگیڈیئر مشتاق احمد نے کورم کی نشاندہی کی جس پر گھنٹیاں بجائی گئیں، تاہم کورم مکمل نہ ہونے پر سپیکر ملک محمد احمد خان نے چیف وہپ رانا محمد ارشد کو سخت الفاظ میں تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ کورم پورا کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ بعد ازاں اجلاس آج بروز منگل دوپہر دو بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button