کالمزناصف اعوان

نئی صبح کی آس میں اٹھہتر برس بیت گئے

شاید اسی لئے ہی آنے جانے اور لانے کی باتیں کی جا رہی ہیں ۔یہ بھی دیکھا جائے تو ہماری معیشت دوڑ نہیں سکی لہذا اب کچھ چہرے بدلنے کی طرف بڑھا جانے والا ہے

ہماری خواہش ہی رہی کہ وطن عزیز ترقی کرے مہذب ملکوں کی صف میں شامل ہو جائے تو زندگی آسان اور پر آسائش ہو جائے گی مگر اٹھہتر برس گزر چکے وہ نئی سویر طلوع نہیں ہو سکی۔ ہر دن مضمحل‘ تلخ اور افسردہ ہی دکھائی دیا۔ اگرچہ فضاؤں میں یہ آوازیں ابھرتی رہیں کہ ہم دکھوں سے نجات پانے والے ہیں اب اندھیرے چھٹ رہے ہیں روشنی کی نمود ہو رہی ہے ۔ مشکلات کا دور ختم ہونے کو ہے۔ اب کوئی بھی شخص بھوکا نہیں سوئے گا ۔ خوشحالی نے قدم بڑھانا شروع کر دئیے ہیں ماضی کی صعوبتیں ایک خواب بننے جارہی ہیں مگر ایسا نہیں ہو سکا ۔ ہر لمحہ تڑپا دینے والا ہی تھا جو اب بھی ہے ۔
افراتفری ‘ بے قراری اور بے چینی نے ماحول کو بوجھل بنا دیا ہے۔ راستے دھندلے دھندلے سے نظر آتے ہیں منزل پر پہنچنا مشکل لگ رہا ہے کیونکہ ٹھہر ٹھہر کر چلنا پڑ رہا ہے۔ رکاوٹیں اتنی کہ ہر قدم کو آگے بڑھنے میں دشواری پیش آرہی ہے
مگر کہا یہی جاتا رہا کہ منزل قریب ہے بس اب باد نسیم چلنے ہی والی ہے کٹھن لمحات ختم ہونے جارہے ہیں ۔ اس وقت بھی ایسے ہی دلاسے دئیے جارہے ہیں مگر ساتھ ہی ٹیکسوں کی غلیل سے کوئی ٹیکس غلیلہ چھوڑ دیا جاتا ہے جو سیدھا عوام کے دل پر جا لگتا ہے اور وہ کراہتے ہوئے سوچتے ہیں کہ کیوں یہ سلوک ان کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے۔ ایسا وہ طویل عرصے سے سوچ رہے ہیں مگر کوئی ان کے دکھوں کو کم کرنے نہیں آرہا ۔جو کوئی بھی تخت پر بیٹھتا ہے اس کا دل سخت ہو جاتا ہے پھر وہ سخت فیصلے کرنا شروع کر دیتا ہے اور جواز یہ پیش کرتا ہے کہ وہ آئی ایم ایف کے ہاتھوں مجبور ہے وہ اپنی مرضی کا پروگرام سامنے رکھتا ہے ۔سوال یہ ہے کہ وہ (اہل اختیار ) کس مرض کی دوا ہیں وہ کیوں تخت نشیں ہوتے ہیں عوام کے ووٹ حاصل کرتے ہیں اور بلند بانگ دعوے کرتے ہیں چیخ چیخ کر وعدے کرتے ہیں ۔ دھوکا ہے دھوکا ‘بہررپیے ہیں یہ سب‘ ان کے پلہ میں کچھ نہیں دوسروں کے لئے‘ اپنے لئے ان کے دامن میں ان گنت دولت ہے جس سے وہ عیش کر رہے ہیں اپنی ذات پر اس قدر خرچ کرتے ہیں کہ بندہ حیرت کے سمندر میں ڈوب جاتا ہے ۔ لوگ سارا سارا دن کام کرکے بمشکل اپنا پیٹ پالتے ہیں مگر وہ ان کی کمائی کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں ۔ اب تو یہ ساری باتیں فضول لگتی ہیں کہ کون کرے گا ان کا احتساب اور کون سنے گا غریبوں کی فریادیں ۔ اندھیر نگری میں کوئی کسی کو نہیں دیکھتا اور محسوس کرتا لہذا خاموشی ہی بہتر ہے ارتقائی عمل کو دیکھتے رہو اور سانسیں لیتے رہو کیونکہ وقت کبھی نہیں رکتا۔ ہوائیں چلتی ہیں تو تھمتی بھی ہیں اور وہ ایک ہی سمت سے نہیں چلتیں لہذا دامنِ امید مضبوطی سے تھامے رکھو کہ دن بدلتے رہتے ہیں ۔
جی ہاں ! آپ سن رہے ہوں گے کہ دنوں کے بدلنے کی صدائیں اٹھنے لگی ہیں۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ لاچاروں بے بسوں اور کمزوروں کی سسکیاں کسی ایک کوبھی سنائی نہ دیں ۔
شور ہے کہ وہ آرہے ہیں اور یہ جا رہے ہیں آنے والوں کو جاناہی ہوتا ہے وہ جتنا عرصہ بھی ٹھہریں انہیں رخت سفر باندھنا ہی پڑتا ہے لہذا قافلوں کو خبر ہو چکی ہے ان کے گرد بیٹھنے والوں کو بھی احساس ہو چکا ہے کہ نئے دور کا سورج ابھرنے والا ہے کیونکہ اندھیرا بڑھتا جا رہا ہے فضا تلخ سے تلخ تر ہوتی جا رہی ہے ۔ قوت برداشت عوام کی ختم ہو چکی ہے وہ تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق گریبانوں کو آرہے ہیں انہیں جتنا بھی دبایا جائے گا وہ اتنا ہی ابھریں گے مزاحمت پر اتر آئیں گے لہذا ان کے صبر کا امتحان لینا کم عقلی ہے۔ جو اہل ہیں انہیں موقع ملنا چاہیے اناؤں کو ایک طرف رکھنے کے عمل کا آغاز کیا جائے ۔لاٹھی زیادہ دیر تک نہیں پکڑی جا سکتی اس کی گرفت ڈھیلی پڑ جاتی ہے
شاید اسی لئے ہی آنے جانے اور لانے کی باتیں کی جا رہی ہیں ۔یہ بھی دیکھا جائے تو ہماری معیشت دوڑ نہیں سکی لہذا اب کچھ چہرے بدلنے کی طرف بڑھا جانے والا ہے مگر اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا کیونکہ جب تک عوامی رائے کو مقدم نہیں جانا جاتا اور سیاسی عدم استحکام نہیں آتا معاشی حالات بہتر ہونے کی توقع نہیں کی جا سکتی اگر یہ بات غلط ہے تو تجربہ کار حکومت کو ابھی تک کامیابی کیوں نہیں مل سکی لہذا اس نظام کو بدلنا پڑے گا کیونکہ ایک ہی انداز سیاست ہو یا طرز حکمرانی وہ ترقی کا زینہ نہیں بن سکتے غربت جہالت اور بیماری کا خاتمہ بھی نہیں کر سکتے ۔ ترقی یافتہ ملکوں کو دیکھا جائے تو انہوں نے وقت کے تقاضوں کو ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھا ہے عوام کو مشاورت کے عمل میں براہ راست شامل کیا ہے مگر یہاں تو ہر بات ان سے چھپائی جاتی ہے اسی لئے ہی بہت سے منصوبے ناکام ہو جاتے ہیں۔ یہ بھی ہے کہ جو کوئی پچھلی حکومت کا منصوبہ کامیاب نظر آرہا ہوتا ہے اس کو نئی حکومت روک دیتی ہے تاکہ اس کا کریڈٹ پہلی حکومت کو نہ جائے ۔ اب تک یہی کچھ ہوتا آیا ہے۔ عوام میں مقبول ہونے کے لئے ایسا کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے جبکہ وہ کسی عوامی فلاحی منصوبہ کے بند کیے جانے پر سخت ناراض ہو جاتے ہیں مگر اس کی کسی کو کوئی پروا نہیں ہوتی۔
بہرحال ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے اور یہ امید رکھنی چاہیے کہ کسی روز کوئی خوشخبری مل ہی جائے گی کہ ملک عزیز کی طرف سرمایہ کاروں کا رخ ہو رہا ہے اس نظام زر نے اپنی کار تسلیم کرلی ہے کہ جو اٹھہتر برس میں صرف حکمران طبقوں کو ہی مالدار بنا سکا ہے غریبوں کی رگوں سے خون کشید ہی کیا ہے لہذا یہ جو سوشل میڈیا اور قومی چینلوں پر دبے الفاظ میں ادھر اُدھر کی باتیں ہو رہی ہیں محض طفل تسلیاں ہیں ۔ غم وغصہ کو بھی کم کرنا ہو سکتا ہے۔ ہو یہ بھی سکتا ہے کہ ایسی باتیں مخصوص مقاصد کے لئے بھی کی جا رہی ہوں کیونکہ اگر سیاسی منظر نامہ تبدیل ہوتا ہے تو پھر کچھ اختیارات بھی بدل جائیں گے یعنی ایک ہاتھ سے دوسرے میں منتقل ہو جائیں گے۔ ایسا ہونا لازمی بھی ہے کیونکہ جن سے امید تھی دودھ اور شہد کی نہریں بہانے کی وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے لہذا سیاسی منظر کو بدلنے کی ضرورت محسوس کی جانے لگی ہے۔حقیقت کیا ہے کون کہاں کھڑاہو گا اور کیا کارکردگی دکھائے گا بہت جلد معلوم ہو جائے گا ۔
حرف آخر یہ کہ جب تک ہمارے اندر ہمدردی کا جذبہ اُمڈ کر نہیں آتا اور محبت کی کونپلیں نہیں پھوٹتیں خوشحالی اور ترقی کا خواب‘ خواب ہی رہے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button