
ایرانی امریکی معاہدے سے حزب اللہ کے مضبوط ہونے کے امکانات
ماہرین کے مطابق لبنان میں جنگ بندی حزب اللہ کو سیاسی طور پر تقویت دے سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت پر جب اسے گزشتہ دو برسوں کے دوران کئی دھچکوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
روئٹرز کے ساتھ
ایران اور حزب اللہ کے تعلقات سے واقف چار ذرائع کے مطابق تہران نے وعدہ کیا ہے کہ جب اس کے مالی وسائل بحال ہوں گے تو وہ اپنی اس لبنانی اتحادی تنظیم کی مالی معاونت میں اضافہ کرے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اضافی مالی امداد حزب اللہ کو جنگ کے دوران ہونے والے بھاری نقصانات سے نکلنے میں مدد دے سکتی ہے، جبکہ یہ اسرائیل کے لیے بھی ایک دھچکہ ثابت ہو سکتی ہے، جس نے 2024 کی جنگ میں اس ایران نواز ملیشیا کو شدید نقصان پہنچایا تھا اور تہران پر عائد پابندیوں میں نرمی کی مخالفت کی تھی۔
ایران کے اصرار پر متوقع جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے، جہاں 2 مارچ کو حزب اللہ نے ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے اسرائیل پر حملے کیے تھے۔ اس کے بعد اسرائیل نے جوابی کارروائی شروع کی جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور جنوبی لبنان میں زمینی کارروائی بھی کی گئی۔
ماہرین کے مطابق لبنان میں جنگ بندی حزب اللہ کو سیاسی طور پر تقویت دے سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت پر جب اسے گزشتہ دو برسوں کے دوران کئی دھچکوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
لبنانی حکومت پر دباؤ
ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت امریکہ کی حمایت یافتہ لبنانی حکومت کے لیے بھی ایک چیلنج بن سکتی ہے، جو گزشتہ دو ماہ کے دوران واشنگٹن میں اسرائیلی حکام کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے ذریعے وسیع تر جنگ بندی حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی۔
حزب اللہ کو امریکہ ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔ یہ گروپ 1982 میں ایرانی پاسداران انقلاب کی مدد سے قائم ہوا تھا اور تب سے تہران اس کی مالی اور عسکری معاونت کرتا آ رہا ہے۔
دو علاقائی سفارت کاروں کے مطابق تہران نے حزب اللہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اپنے منجمد اثاثے بحال ہونے کے بعد اسے مزید مالی وسائل فراہم کرے گا۔
ایک سینئر لبنانی ذریعے نے بتایا کہ ایران نے جلد از جلد اضافی فنڈز فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے، جبکہ ایک دوسرے لبنانی ذریعے کے مطابق حزب اللہ کے لیے ایرانی حمایت میں اضافے کی توقع ہے۔ تاہم کسی بھی ذریعے نے مالی امداد کی ممکنہ رقم نہیں بتائی۔
حزب اللہ کے میڈیا دفتر نے کہا کہ ایران کی جانب سے حمایت کا اعلان پہلے ہی عوامی سطح پر کیا جا چکا ہے اور یہ تعاون جاری ہے۔

امریکہ کا موقف
ایک امریکی عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ واشنگٹن نے تہران کو واضح کر دیا ہے کہ اگر بحال ہونے والے فنڈز کسی ”دہشت گرد تنظیم‘‘ کو منتقل کیے گئے، تو انہیں روک دیا جائے گا۔
اس عہدیدار کے مطابق مفاہمتی معاہدہ ایران کو اپنے اتحادی گروپوں کو قابو میں رکھنے کی ترغیب بھی دیتا ہے، کیونکہ اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہا تو اسے معاہدے سے وعدہ کردہ فوائد حاصل نہیں ہوں گے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق سخت امریکی پابندیوں کے باوجود ایران نے حزب اللہ کی مالی معاونت جاری رکھی ہے۔ اس محکمے کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے پہلے دس ماہ کے دوران ایران نے حزب اللہ کو تقریباً ایک بلین ڈالر منتقل کیے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ کامیاب رہا اور تہران کے مالی وسائل میں اضافہ ہوا، تو اس کے اثرات نہ صرف لبنان بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی علاقائی سیاست اور سلامتی کی صورتحال پر مرتب ہو سکتے ہیں۔


