
امریکہ۔ایران امن معاہدے سے یمن میں امن کی نئی امید، پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے سیاسی عمل کی تجدید پر زور دے دیا
پاکستانی مندوب کے مطابق حالیہ سفارتی کامیابی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پیچیدہ اور طویل تنازعات کو بھی سیاسی مذاکرات اور اعتماد سازی کے اقدامات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ امن معاہدہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے بلکہ اس سے یمن میں ایک دہائی سے جاری تنازع کے سیاسی حل کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔ پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس مثبت سفارتی ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یمن میں اقوامِ متحدہ کے زیرِ قیادت امن عمل کو دوبارہ متحرک کرے تاکہ جنگ سے متاثرہ ملک کو استحکام، سلامتی اور ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔
یہ موقف اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں یمن کی صورتحال پر ہونے والی خصوصی بریفنگ کے دوران پیش کیا گیا، جہاں پاکستان کے مستقل نمائندے سفیر عاصم افتخار احمد نے یمن میں حالیہ نسبتاً پرسکون حالات اور خطے میں بدلتی ہوئی سفارتی فضا کو امن کے لیے ایک اہم موقع قرار دیا۔
امریکہ۔ایران معاہدہ خطے میں سفارت کاری کی کامیابی کی علامت
سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ کشیدگی، تصادم اور جنگ کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات ہی دیرپا امن کا راستہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والا امن معاہدہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے جو نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری لا سکتا ہے بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور استحکام کے فروغ میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستانی مندوب کے مطابق حالیہ سفارتی کامیابی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پیچیدہ اور طویل تنازعات کو بھی سیاسی مذاکرات اور اعتماد سازی کے اقدامات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔
یمن ایک دہائی سے بحرانوں کا شکار
یمن گزشتہ کئی برسوں سے دنیا کے بدترین انسانی اور سیاسی بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے۔ 2014 میں حوثی تحریک کے دارالحکومت صنعا پر قبضے اور بعد ازاں حکومت کے خاتمے کے بعد ملک خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ گیا تھا۔
اس تنازع میں مختلف علاقائی اور بین الاقوامی قوتوں کی شمولیت نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ جنگ کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، ہزاروں شہری ہلاک ہوئے جبکہ بنیادی ڈھانچے، معیشت اور صحت کے نظام کو شدید نقصان پہنچا۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق یمن میں لاکھوں افراد اب بھی انسانی امداد کے محتاج ہیں اور ملک کو غذائی قلت، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی شدید کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
حالیہ مہینوں میں حالات میں نمایاں بہتری
پاکستان نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ حالیہ مہینوں میں یمن میں سیکیورٹی صورتحال نسبتاً بہتر رہی ہے۔
ملک کے مختلف محاذوں پر بڑے پیمانے کی فوجی جھڑپوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جبکہ بحیرہ احمر اور دیگر سمندری راستوں میں تجارتی جہازرانی پر حملوں کا سلسلہ بھی کافی حد تک رکا ہوا ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ یہ مثبت صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل ممکن ہے۔
انہوں نے کہا:
"ملک کے اندر بڑے فوجی تصادم کا نہ ہونا اور تجارتی جہازرانی پر حملوں کی عدم موجودگی اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ مذاکرات کے ذریعے پائیدار امن کا حصول ممکن ہے۔”
اقوامِ متحدہ کے زیرِ قیادت سیاسی عمل ہی واحد راستہ
پاکستان نے زور دیا کہ یمن کے بحران کا مستقل اور دیرپا حل صرف ایک جامع سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی سرپرستی میں ایسا سیاسی عمل آگے بڑھایا جانا چاہیے جو مکمل طور پر یمنی قیادت اور یمنی عوام کی ملکیت ہو اور جس میں تمام متعلقہ فریقوں کو شامل کیا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی پائیدار امن معاہدے کے لیے ضروری ہے کہ یمن کے تمام سیاسی، قبائلی، سماجی اور علاقائی عناصر کو مذاکراتی عمل میں مناسب نمائندگی دی جائے۔
پاکستان کے مطابق امن کا کوئی بھی منصوبہ اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب وہ یمنیوں کی خواہشات اور ضروریات کے مطابق ہو۔
قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کا خیر مقدم
پاکستان نے حال ہی میں حوثی گروپ اور یمنی حکومت کے درمیان تقریباً 1,600 قیدیوں اور نظربند افراد کے تبادلے کے معاہدے کا بھی خیر مقدم کیا۔
اسلام آباد نے اس پیش رفت کو اعتماد سازی کا ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات متحارب فریقین کے درمیان اعتماد بحال کرنے اور وسیع تر سیاسی مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
سفیر عاصم افتخار احمد کے مطابق قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ سفارت کاری کے ذریعے بامعنی پیش رفت حاصل کی جا سکتی ہے۔
خطے میں استحکام کے لیے نئی امید
پاکستانی مندوب نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
ان کے مطابق اگر علاقائی طاقتیں تصادم کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دیتی رہیں تو یمن، شام، لبنان اور دیگر بحران زدہ علاقوں میں بھی سیاسی عمل کو نئی تقویت مل سکتی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ مثبت سفارتی ماحول یمن میں امن مذاکرات کے لیے زیادہ سازگار فضا پیدا کرے گا اور وہاں کے عوام کو استحکام، اقتصادی بحالی اور ترقی کے فوائد حاصل ہوں گے۔
انسانی بحران اب بھی عالمی توجہ کا متقاضی
اگرچہ سیکیورٹی صورتحال میں بہتری کے آثار سامنے آ رہے ہیں، تاہم پاکستان نے خبردار کیا کہ یمن اب بھی شدید انسانی اور اقتصادی مشکلات سے دوچار ہے۔
پاکستان نے عالمی برادری، امدادی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ یمنی عوام کی مدد کے لیے اپنی کوششیں بڑھائیں۔
اسلام آباد کے مطابق امن عمل کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ انسانی امداد کی فراہمی، بنیادی خدمات کی بحالی، اقتصادی استحکام اور ترقیاتی منصوبوں پر بھی توجہ دی جائے۔
سلامتی کونسل سے متحدہ کردار ادا کرنے کی اپیل
پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین پر زور دیا کہ وہ یمن میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے متحدہ اور تعمیری کردار ادا کریں۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو موجودہ مثبت رفتار کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے بلکہ اسے ایک جامع سیاسی تصفیے میں تبدیل کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کرنی چاہئیں۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم، خودمختار اور خوشحال یمن کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا اور اقوامِ متحدہ کی قیادت میں ہونے والی تمام سفارتی کوششوں کا ساتھ دیتا رہے گا۔
تجزیہ: کیا یمن میں امن کا نیا باب شروع ہونے والا ہے؟
علاقائی امور کے ماہرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی مشرقِ وسطیٰ کے کئی تنازعات پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے، خصوصاً یمن میں جہاں مختلف علاقائی طاقتوں کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
اگر موجودہ سفارتی ماحول برقرار رہتا ہے اور متحارب فریق مذاکرات کے عمل میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو یمن میں ایک جامع سیاسی معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ملک کو درپیش گہرے سیاسی اختلافات، معاشی تباہی اور انسانی بحران اب بھی بڑے چیلنجز ہیں جن کے حل کے لیے طویل المدتی اور مربوط بین الاقوامی کوششوں کی ضرورت ہوگی۔
اس تمام صورتحال میں پاکستان کی جانب سے سفارت کاری، مذاکرات اور اقوامِ متحدہ کے سیاسی عمل کی حمایت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اسلام آباد یمن سمیت پورے مشرقِ وسطیٰ میں امن اور استحکام کے فروغ کو علاقائی سلامتی کے لیے ناگزیر سمجھتا ہے۔


