تازہ ترینمشرق وسطیٰ

عبوری امن معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ایرانی امریکی مذاکرات کا آغاز سوئٹزرلینڈ میں

ان مذاکرات میں ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کرنے والے ممالک کے طور پر پاکستان، قطر اور دیگر ممالک کے ثالث بھی شامل ہوں گے۔

اے ایف پی کے ساتھ

یورپی ملک سوئٹزرلینڈ کی طرف سے بتایا گیا کہ امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی کے لیے اب دستخط شدہ عبوری معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ’ابتدائی نوعیت کے مذاکرات‘ سوئٹزرلینڈ کے پہاڑی علاقے بیورگن شٹوک میں ہوں گے۔

جنیوا سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق بیرن میں سوئس وزارت خارجہ کی طرف سے کہا گیا کہ ابھی تک ان مذاکرات کا جمعے کے روز انعقاد ایک طے شدہ امر ہے اور اس میں امریکہ اور ایران کے نمائندے حصہ لیں گے۔

ساتھ ہی ان مذاکرات میں ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کرنے والے ممالک کے طور پر پاکستان، قطر اور دیگر ممالک کے ثالث بھی شامل ہوں گے۔

سوئٹزرلیئنڈ میں بیورگن شٹوک کے پہاڑی علاقے کے نام کا بورڈ
بیورگن شٹوک کا پہاڑی علاقہ سوئس شہر لوسیرن کے نواح میں واقع ہےتصویر: Köbi Schenkel/IMAGO

نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق سوئس وزارت خارجہ کے آج جاری کردہ اس بیان سے وہ بے یقینی ختم ہو گئی ہے،  جو ان مذاکرات کے انعقاد کے حوالے سے پائی جاتی تھی۔

یہ اعلان رواں ہفتے منگل کے دن کیا گیا تھا کہ جمعے کو امریکی ایرانی ڈیل پر عملہ درآمد سے متعلق ابتدائی نوعیت کے یہ مذاکرات وسطی سوئٹزرلینڈ میں لوسیرن کے قریب بیورگن شٹوک کے ایک لگژری ہوٹل کمپلیکس میں ہوں گے۔

شروع میں یہ کہا گیا تھا کہ تہران اور واشنگٹن کے مابین جس جنگ بندی ڈیل پر اتفاق ہو گیا ہے، اس پر دستخط جمعے کے دن سوئٹرزلینڈ میں کیے جائیں گے۔ لیکن اب چونکہ اس ڈیل پر امریکہ، ایران اور پاکستان کی طرف سے دستخط جمعے سے پہلے ہی کیے جا چکے ہیں، اس لیے بیورگن شٹوک مذاکرات میں زیادہ تر توجہ اس پہلو پر مرکوز رہے گی کہ اس عبوری امن معاہدے پر عمل درآمد کے لیے باقاعدہ مکالمت شروع کر دی جائے۔

بیورگن شٹوک میں امریکی ایرانی مذاکرات کل جمعے کو ایک لگژری ہوٹل کمپلیکس (تصویر) میں ہوں گے
بیورگن شٹوک میں امریکی ایرانی مذاکرات کل جمعے کو ایک لگژری ہوٹل کمپلیکس (تصویر) میں ہوں گےتصویر: Mats Silvan/imageBROKER/IMAGO

بیورگن شٹوک مذاکرات میں متوقع طور پر ایران کی طرف سے پارلیمانی اسپیکر اور اعلیٰ ترین مذاکراتی نمائندے محمد باقر قالیباف حصہ لیں گے جبکہ امریکہ کی طرف سے اس مکالمت میں نائب صدر جے ڈی وینس کی شرکت کی امید ہے۔

تاہم سوئس حکام نے اس بارے میں باضابطہ طور پر کوئی معلومات فراہم نہیں کیں کہ ان مذاکرات میں کون کون شامل ہو گا یا ان کا ایجنڈا کیا ہو گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button