
سنی دیول کا پاکستان سے تعلق پر بیان سوشل میڈیا پر وائرل، "اگر بھارت میری ماں ہے تو پاکستان میری ماں کی بہن ہے”، صارفین کی مختلف آراء
خاص طور پر ان کی فلمیں "بارڈر"، "غدر: ایک پریم کتھا" اور "غدر 2" باکس آفس پر نمایاں کامیاب رہیں اور ان میں انہوں نے حب الوطنی پر مبنی کردار ادا کیے۔
ممبئی: بالی وڈ کے معروف اداکار سنی دیول کا پاکستان سے متعلق دیا گیا ایک بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جہاں متعدد صارفین نے اسے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان ثقافتی اور خاندانی رشتوں کی عکاسی قرار دیتے ہوئے سراہا، جبکہ بعض صارفین نے اس پر مختلف آراء کا اظہار بھی کیا۔
سنی دیول، جو اپنی فلموں میں حب الوطنی پر مبنی کرداروں اور کئی مواقع پر پاکستان مخالف کہانیوں پر مبنی فلموں میں اداکاری کے باعث شہرت رکھتے ہیں، ان دنوں اپنی نئی فلم "بٹوارا (1947)” کی تشہیری مہم میں مصروف ہیں۔ یہ فلم برصغیر کی تقسیم اور 1947 کے تاریخی واقعات کے پس منظر میں بنائی گئی ہے اور اسے 14 اگست 2026 کو بین الاقوامی سطح پر ریلیز کیا جائے گا۔
پریس کانفرنس میں پاکستان سے متعلق سوال
فلم کی تشہیر کے دوران ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں سنی دیول سے سوال کیا گیا کہ آیا فلم کی شوٹنگ پاکستان میں کی گئی تھی اور وہ پاکستان، اس کے عوام اور ماحول کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔
اس سوال کے جواب میں سنی دیول نے واضح کیا کہ فلم کی مکمل شوٹنگ بھارت میں ہی کی گئی ہے اور پاکستان میں کوئی منظر فلمایا نہیں گیا۔
تاہم اس کے بعد انہوں نے اپنے والد، معروف اداکار دھرمیندر سے منسوب ایک جملہ دہراتے ہوئے کہا:
"اگر بھارت میری ماں ہے تو پاکستان میری ماں کی بہن (خالہ) ہے، اس لیے ہم کسی نہ کسی طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔”
ان کا یہ مختصر مگر جذباتی بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کرنے لگا اور مختلف پلیٹ فارمز پر لاکھوں افراد نے اسے شیئر کیا۔
سوشل میڈیا پر مثبت ردعمل
انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے بعد متعدد صارفین نے سنی دیول کے بیان کو مثبت انداز میں سراہا۔
کئی صارفین کا کہنا تھا کہ انہوں نے حساس موضوع پر متوازن اور پختہ انداز میں بات کی، جس سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور خاندانی تعلقات کی جھلک نظر آتی ہے۔
ایک صارف زاہد قدیر نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:
"کیا سمجھداری والا بیان دیا ہے۔”
ایک اور صارف روج نے لکھا:
"پنجاب کا ایک جٹ ہی ایسی بات کر سکتا ہے۔”
جبکہ ایک صارف ڈیفالٹ ایترتیک نے تبصرہ کیا:
"انسانیت سب سے پہلے ہے۔”
تنقیدی اور طنزیہ تبصرے بھی سامنے آئے
مثبت ردعمل کے ساتھ ساتھ بعض صارفین نے طنزیہ انداز میں بھی تبصرے کیے۔
ایک صارف نے لکھا:
"اور اب سنی پاجی دیش دروہی ہیں۔”
یہ تبصرہ اس تناظر میں کیا گیا کہ سنی دیول ماضی میں متعدد ایسی فلموں میں مرکزی کردار ادا کر چکے ہیں جن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات یا جنگی پس منظر دکھایا گیا تھا، اس لیے ان کے حالیہ بیان پر مختلف حلقوں میں متنوع ردعمل سامنے آیا۔
فلم "بٹوارا (1947)” کی کہانی
سنی دیول کی نئی فلم "بٹوارا (1947)” برصغیر کی تقسیم کے تاریخی پس منظر پر مبنی ہے۔ فلم میں 1947 کے واقعات، ہجرت، انسانی المیوں اور تقسیم کے دوران پیش آنے والے مختلف حالات کو ڈرامائی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
فلم سازوں کے مطابق اس کا مقصد تقسیم کے دور کے انسانی پہلوؤں کو اجاگر کرنا ہے، جبکہ ریلیز سے قبل اس کی تشہیری مہم جاری ہے۔
سنی دیول اور پاکستان سے متعلق فلمی شناخت
سنی دیول بالی وڈ کے ان اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے کیریئر میں متعدد ایسی فلموں میں کام کیا جن کا موضوع بھارت، فوج، سرحدی تنازعات یا پاکستان کے ساتھ تعلقات رہا۔
خاص طور پر ان کی فلمیں "بارڈر”، "غدر: ایک پریم کتھا” اور "غدر 2” باکس آفس پر نمایاں کامیاب رہیں اور ان میں انہوں نے حب الوطنی پر مبنی کردار ادا کیے۔
اسی وجہ سے پاکستان کے بارے میں ان کے حالیہ نرم اور جذباتی بیان نے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کی اور اس پر مختلف نوعیت کی آراء سامنے آئیں۔
ثقافتی تعلقات پر نئی بحث
تجزیہ کاروں کے مطابق سنی دیول کا بیان اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود برصغیر کے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان مشترکہ زبان، ثقافت، روایات اور خاندانی رشتوں کی تاریخی بنیادیں موجود ہیں۔
اگرچہ سوشل میڈیا پر اس بیان کے حوالے سے مختلف آراء سامنے آئیں، تاہم متعدد صارفین نے اسے باہمی احترام، انسان دوستی اور مشترکہ ثقافتی ورثے کی علامت قرار دیتے ہوئے مثبت انداز میں دیکھا۔



