
راجہ امجد علی خان کا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے علیحدگی کا اعلان، پاکستان کے خلاف ہر آواز سے لاتعلقی کا اظہار
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ آج کے بعد ان کا ،جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، یا پاکستان کے خلاف اٹھنے والی کسی بھی آواز، کسی بھی قوم پرست جماعت یا فرد سے کوئی تعلق نہیں رہے گا۔
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
ایڈووکیٹ راجہ امجد علی خان، جو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما اور رکن کے طور پر سرگرم تھے، نے ایک اہم ویڈیو پیغام میں قوم کے سامنے چند حقائق رکھتے ہوئے تنظیم اور تمام شر پسند عناصر سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔
اپنے بیان میں راجہ علی خان نے کہا کہ ان کی اور ان کے ساتھیوں کی پرامن تحریک کو پاکستان اور کشمیر کے درمیان قائم لازوال رشتے کو نقصان پہنچانے کے لیے غلط طریقے سے استعمال کیا گیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اس دوران سادہ لوح افراد اور نوجوانوں کو گرفتاریوں اور جیلوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ اصل منصوبہ ساز پردے کے پیچھے محفوظ رہے۔
راجہ امجد علی خان نے خصوصی طور پر نوجوان نسل سے براہِ راست اپیل کی کہ وہ اپنے روشن مستقبل کو تخریبی سرگرمیوں کی نذر نہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو درپیش حقیقی مسائل، جن میں آٹے کی قلت، بجلی کا بحران اور بے روزگاری شامل ہیں، کا حل صرف اور صرف تعمیری اور مثبت سیاسی جدوجہد میں پوشیدہ ہے، نہ کہ احتجاجی تحریکوں میں جو بالآخر نوجوانوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیتی ہیں۔
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ آج کے بعد ان کا ،جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، یا پاکستان کے خلاف اٹھنے والی کسی بھی آواز، کسی بھی قوم پرست جماعت یا فرد سے کوئی تعلق نہیں رہے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ راجہ امجد علی خان کا یہ اعلان علاقے کی سیاسی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی مختلف عوامی مسائل پر متحرک رہی ہے۔ ان کے اس فیصلے کو تحریک کے اندر موجود اختلافات کا مظہر بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
مبصرین نے انکے اس عمل کو ایک ذمہ دارانہ اور دانشمندانہ قدم قرار دیا ہے- یہ فیصلہ ان کا ذاتی اور باشعور فیصلہ ہے، جو علاقے کے مستقبل اور نوجوان نسل کی بھلائی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
راجہ امجد علی خان نے اپنی گفتگو کے اختتام پر آزاد کشمیر کے نوجوانوں کے لیے ایک اہم پیغام دیا کہ وہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے بہکاوے میں نہ آئیں اور جیسا کہ حکومت اور سپریم کورٹ نے کہا ہے، انتخابی عمل کا حصہ بنیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نوجوان نسل انتشار اور دشمن عناصر کے گھناؤنے کھیل میں نہ الجھے، بلکہ اپنا مستقبل سیاسی اور آئینی راستے سے محفوظ بنائے۔



