پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

اسلام آباد پولیس کے بیڑے میں RIDDARA الیکٹرک پک اپس شامل، پاکستان میں گرین ٹرانسپورٹیشن کی جانب اہم پیش رفت

قانون نافذ کرنے والے ادارے اب الیکٹرک گاڑیوں کی جانب تیزی سے منتقل ہو رہے ہیں کیونکہ ان کی آپریٹنگ لاگت کم، دیکھ بھال نسبتاً آسان اور ماحولیاتی اثرات محدود ہوتے ہیں۔

انصار ذاہد سیال-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

پاکستان میں ماحول دوست اور پائیدار ٹرانسپورٹ کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے اسلام آباد پولیس نے اپنے آپریشنل بیڑے میں RIDDARA کے جدید تمام الیکٹرک پک اپ ٹرک شامل کر لیے ہیں۔ یہ گاڑیاں کیپٹل سمارٹ موٹرز (Capital Smart Motors – CSM) کی جانب سے فراہم کی گئی ہیں اور حکام کے مطابق یہ اقدام حکومتِ پاکستان کے گرین موبیلٹی اور برقی گاڑیوں (Battery Electric Vehicles – BEVs) کے فروغ کے وژن سے مکمل ہم آہنگ ہے۔

اسلام آباد پولیس کی سہولت میں منعقد ہونے والی تقریب کے دوران RIDDARA الیکٹرک پک اپس کی ایک بڑی تعداد باضابطہ طور پر پولیس کے بیڑے کا حصہ بنی۔ ماہرین کے مطابق یہ پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے کسی ادارے کی جانب سے تمام الیکٹرک پک اپ گاڑیوں کی پہلی بڑی شمولیت ہے، جو سرکاری اداروں میں برقی ٹرانسپورٹ کے استعمال کے نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔

روایتی ایندھن سے الیکٹرک ٹیکنالوجی کی جانب سفر

اسلام آباد پولیس کی جانب سے روایتی پٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کے بجائے الیکٹرک پک اپس کو اختیار کرنے کا مقصد نہ صرف ایندھن کے اخراجات میں کمی لانا ہے بلکہ ماحول دوست اور توانائی کے مؤثر ذرائع کو فروغ دینا بھی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جدید الیکٹرک گاڑیاں گشت، نگرانی، ہنگامی رسپانس اور دیگر آپریشنل سرگرمیوں میں مؤثر کردار ادا کریں گی جبکہ ان کے ذریعے کاربن اخراج میں نمایاں کمی آئے گی، جو ماحولیاتی تحفظ کے قومی اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوگی۔

ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں قانون نافذ کرنے والے ادارے اب الیکٹرک گاڑیوں کی جانب تیزی سے منتقل ہو رہے ہیں کیونکہ ان کی آپریٹنگ لاگت کم، دیکھ بھال نسبتاً آسان اور ماحولیاتی اثرات محدود ہوتے ہیں۔

کیپٹل سمارٹ موٹرز کا وژن

کیپٹل سمارٹ موٹرز (CSM) پاکستان میں الیکٹرک وہیکل سیکٹر کے نمایاں اداروں میں شمار ہوتی ہے اور کمپنی نے گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک میں جدید برقی گاڑیوں کو متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

کمپنی کے وائس چیئرمین جہانزیب زاہد نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان میں پائیدار نقل و حمل کا مستقبل برقی ٹیکنالوجی سے وابستہ ہے اور ادارہ جاتی سطح پر ایسی سرمایہ کاری مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال نہ صرف توانائی کی بچت میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ ملک کے درآمدی ایندھن پر انحصار میں کمی لا کر قومی معیشت کو بھی فائدہ پہنچائے گا۔

ان کے مطابق اسلام آباد پولیس کے ساتھ یہ شراکت داری اس بات کی مثال ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کو قومی اداروں کی ضروریات کے مطابق کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔

عمران زاہد کی قیادت میں EV سیکٹر میں توسیع

کیپٹل سمارٹ موٹرز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عمران زاہد کی قیادت میں کمپنی نے پاکستان میں اپنے الیکٹرک وہیکل پورٹ فولیو کو نمایاں طور پر وسعت دی ہے۔

کمپنی متعدد بین الاقوامی الیکٹرک برانڈز کو پاکستانی مارکیٹ میں متعارف کرا چکی ہے اور اب اس کی توجہ نجی صارفین کے ساتھ ساتھ سرکاری اداروں، کارپوریٹ سیکٹر اور بڑے بیڑوں (Fleet Operations) کے لیے جدید الیکٹرک حل فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔

اسلام آباد پولیس کے لیے RIDDARA پک اپس کی فراہمی اسی حکمت عملی کا حصہ قرار دی جا رہی ہے جس کے تحت کمپنی ادارہ جاتی اور سرکاری شعبے میں الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینا چاہتی ہے۔

ادارہ جاتی استعمال کے لیے تیار الیکٹرک گاڑیاں

کیپٹل سمارٹ موٹرز کے چیف آپریٹنگ آفیسر (COO) عابد ایس عثمانی نے بھی اس منصوبے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

کمپنی حکام کے مطابق ان کی نگرانی میں اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ CSM کی الیکٹرک گاڑیاں نہ صرف عام صارفین بلکہ پولیس، سیکیورٹی اداروں اور مستقبل میں دیگر سرکاری اداروں کی آپریشنل ضروریات کو بھی پورا کر سکیں۔

ذرائع کے مطابق کمپنی مستقبل میں مسلح افواج اور دیگر قومی اداروں کے ساتھ بھی الیکٹرک وہیکل سلوشنز کے حوالے سے تعاون کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔

مقامی مینوفیکچرنگ کی جانب پیش رفت

کیپٹل سمارٹ موٹرز پاکستان میں مقامی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری اور اسمبلنگ کے منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے۔

کمپنی کا مؤقف ہے کہ مقامی مینوفیکچرنگ نہ صرف گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی لائے گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی اور پاکستان کی آٹو انڈسٹری کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنانے میں مدد دے گی۔

ماہرین کے مطابق اگر مقامی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے تو پاکستان خطے میں گرین ٹرانسپورٹیشن کے شعبے میں ایک نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔

سرکاری اداروں کی شمولیت کیوں اہم ہے؟

صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی نئی ٹیکنالوجی کی کامیابی کے لیے سرکاری اداروں کی شمولیت انتہائی اہم ہوتی ہے۔

پولیس، سیکیورٹی اداروں اور دیگر سرکاری محکموں کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال عوامی اعتماد میں اضافہ کرتا ہے اور نجی شعبے کو بھی اس سمت سرمایہ کاری کی ترغیب دیتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جب عوام دیکھتے ہیں کہ قومی ادارے جدید برقی گاڑیوں پر اعتماد کر رہے ہیں تو وہ بھی اس ٹیکنالوجی کو اپنانے کے لیے زیادہ آمادہ ہوتے ہیں۔

پاکستان کے ماحولیاتی اہداف میں معاونت

پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک میں شامل ہے اور حکومت ملک میں کاربن اخراج کم کرنے، صاف توانائی کو فروغ دینے اور ماحول دوست ٹرانسپورٹیشن کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔

اسلام آباد پولیس کے بیڑے میں RIDDARA الیکٹرک پک اپس کی شمولیت کو انہی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دیگر سرکاری ادارے بھی اسی طرز پر الیکٹرک گاڑیوں کو اپنانا شروع کریں تو پاکستان ایندھن کی درآمدات میں کمی، ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے اور توانائی کے مؤثر استعمال کے اہداف کے حصول میں نمایاں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔

مستقبل کی سمت

اسلام آباد پولیس کے بیڑے میں RIDDARA الیکٹرک پک اپس کی شمولیت محض گاڑیوں کی تبدیلی نہیں بلکہ پاکستان میں گرین موبیلٹی، جدید ٹیکنالوجی اور پائیدار ترقی کی جانب ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدام مستقبل میں دیگر صوبائی پولیس فورسز، سرکاری اداروں اور بڑے کارپوریٹ بیڑوں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے، جس سے پاکستان میں الیکٹرک وہیکل انقلاب کو مزید رفتار ملنے کا امکان ہے۔

پالیسی سازوں اور صنعت کے ماہرین کا خیال ہے کہ سرکاری سطح پر ایسے اقدامات ملک کو کم کاربن معیشت، توانائی کے بہتر استعمال اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ نظام کی جانب لے جانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button