
ایسوسی ایٹڈ پریس کے ساتھ
ایران جنگ کے دوران تہران کی طرف سے خام تیل اور قدرتی گیس کی عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم آبنائے ہرمز بند کیے جانے سے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا، جس نے دنیا کے سبھی ممالک کو متاثر کیا۔
آبنائے ہرمز سے بحری مال برداری کے ذریعے عالمی منڈیوں کو خام تیل اور قدرتی گیس کی فراہمی کا تقریباﹰ پانچواں حصہ گزرتا تھا۔ یہ تنگ سمندری راستہ مسلسل کئی ہفتوں تک بند رہنے سے رسد کم ہو گئی مگر طلب کم نہ ہوئی، جس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ عالمی معیشت کے لیے ایک باقاعدہ بحران کا سبب بن گیا۔

پہلے ایشیا متاثر ہوا، پھر افریقہ
خام تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں کے ایران جنگ کی وجہ سے یکدم بہت زیادہ ہو جانے سے پہلے بہت سے ایشیائی ممالک کی معیشتیں متاثر ہوئیں اور پھر اسی بحران کا اثر افریقی ممالک پر بھی پڑنا شروع ہو گیا۔
اس بحران کے باعث وہ عالمی رجحان اور بھی تیز رفتار ہو گیا، جس میں ترقی پذیر دنیا میں تیزی پہلے ہی سے دیکھنے میں آ رہی تھی۔
‘ایمبر‘ نامی تھنک ٹینک کی طرف سے چینی کسٹمز ڈیٹا کے تجزیے کے بعد جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق چین نے اپریل کے مہینے میں دنیا بھر کو 9.4 بلین ڈالر مالیت کی الیکٹرک گاڑیاں (EVs) برآمد کیں، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔
ان چینی ای ویز کی ماہانہ برآمد کے دوران سب سے زیادہ گاڑیاں آسٹریلیا اور برازیل جیسے ممالک اور جنوب مشرقی ایشیا اور مشرقی افریقہ جیسے خطوں میں پہنچائی گئیں۔

چینی الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کی برآمد دو گنا سے بھی زیادہ
دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت چین میں کار ساز اداروں کی ملکی تنظیم کے مطابق چین نے مئی میں تقریباﹰ 435,000 ایسی گاڑیاں برآمد کیں ، جو یا تو مکمل طور پر الیکٹرک تھیں، یا پھر پلگ اِن ہائبرڈ کاریں۔
یہ سب کی سب انسانوں کے لیے سواری کی خاطر استعمال ہونے والی گاڑیاں تھیں، اور ان میں کوئی مال بردار گاڑی شامل نہیں تھی۔
اہم بات یہ بھی ہے کہ چین نے گزشتہ ماہ جتنی الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں برآمد کیں، ان کی ماہانہ تعداد ٹھیک ایک سال پہلے کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ بنتی تھی۔
الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں اضافہ کیوں؟
عالمی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ اس لیے بہت زیادہ ہوئی ہے کہ اب ایشیا میں لاؤس سے لے کر افریقہ میں ایتھوپیا تک کے صارفین پٹرول خریدنے پر آنے والی اپنی لاگت بچانا چاہتے ہیں۔

اسی طرح بہت سے ممالک کی حکومتیں بھی کم خرچے والی اور زیادہ ماحول دست گاڑیوں کی خریداری کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں، تاکہ یوں معدنی ایندھن کی درآمد پر اٹھنے والے ریاستی اخراجات بھی کم کیے جا سکیں اور متعلقہ حکومتوں کو صارفین کے لیے پٹرول کی قیمتوں میں اعانت کے لیے سرکاری سبسڈیز بھی کم اد اکرنا پڑیں۔
یو بی ایس نامی بینک کے چین کی آٹومیٹیو انڈسٹری پر ریسرچ کرنے والے ماہر پال گونگ کے مطابق، ”ایشیا اور افریقہ میں فیول شاک الیکٹرک گاڑیوں کی مقبولیت میں اضافے کی وجہ بنا ہے۔ لیکن اس مقبولیت کے ساتھ ساتھ اس شعبے میں ناگزیر اور کافی ثابت ہونے والا بنیادی ڈھانچہ دستیاب ہونا بھی لازمی ہے۔‘‘
چارجنگ اسٹیشنز کی کمی
پال گونگ کے مطابق کسی معاشرے میں زیر استعمال الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد اور وہاں ایسی گاڑیوں کو چارج کرنے کی کافی سہولیات کا دستیاب ہونا، یہ ایک ایسا موضوع ہے، جس کے لیے صدیوں پرانے اس سوال کی مثال دی جا سکتی ہے کہ پہلی مرغی پیدا ہوئی تھی یا انڈہ؟‘‘

یعنی پہلے الیکٹرک گاڑیاں خریدی جائیں اور بعد میں ان کے لیے کافی چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جائیں؟ یا پھر یہ کام اس کے برعکس ترتیب سے کیا جانا چاہیے؟
لیکن اب جب کہ دنیا کے بہت سے ممالک میں زیر استعمال ای ویز کی تعداد بہت زیادہ ہوتی جا رہی ہے، یہ بات طے ہے کہ ایسی گاڑیوں کو چارج کرنے کے لیے چارجنگ اسٹیشن تو لازماﹰ درکار ہوں گے۔ اگر وہ عوامی شعبے میں زیادہ نہیں ہوں گے، تو صارفین کو اپنی گاڑیاں نجی سطح پر گھروں میں ہی چارج کرنا ہوں گی۔
الیکٹرک گاڑیوں کی عالمی منڈی پر چینی اداروں کا غلبہ
یہ بات تو مسلمہ ہے کہ دنیا بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کا رجحان مسلسل زیادہ ہوتا جا رہا ہے اور اس کی اہم ترین وجہ یہ ہے کہ عام صارفین اب بہت مہنگے اور ماحول کے لیے نقصان دہ پٹرول اور ڈیزل پر اپنا لازمی انحصار کم سے کم کرنا چاہتے ہیں۔

اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ چینی وزارت تجارت کے ڈیٹا کے مطابق افریقی ممالک نے 2025ء میں تقریباﹰ 44,000 چینی الیکٹرک گاڑیاں درآمد کیں یہ تعداد 2024ء کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ تھی۔ رواں برس یہ رجحان اور زیادہ ہو گیا، جس میں ایران جنگ نے کلیدی کردار ادا کیا۔
جہاں تک الیکٹرک گاڑیوں کی عالمی منڈی میں چین کے حصے کا تعلق ہے، تو چینی اداروں کو اس مارکیٹ پر واضح غلبہ حاصل ہے۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کے مطابق دنیا بھر کی منڈیوں میں آج کل جتنی بھی الیکٹرک گاڑیاں سپلائی کی جاتی ہیں، ان کا تقریباﹰ 60 فیصد حصہ چینی کار ساز اداروں کا تیار کردہ ہوتا ہے۔
آئی ای اے کے مطابق چینی کاز ساز ادارے اب یورپ، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں اپنے لیے ممکنہ وسیع تر منڈیوں پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔



