
پروفیشنل نیوز ایجنسی (Reuters/BBC/AFP)
لندن: برطانوی سیاست میں ایک بڑی اور غیر متوقع پیش رفت کے طور پر وزیرِاعظم کیر اسٹارمر نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ اقتدار کی منتقلی کے عمل کو منظم اور پرامن بنانے کے لیے اس وقت تک اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے جب تک لیبر پارٹی نیا رہنما منتخب نہیں کر لیتی۔
10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیر اسٹارمر نے کہا کہ جب انہوں نے لیبر پارٹی کی قیادت سنبھالی تھی تو جماعت سیاسی طور پر کمزور اور انتشار کا شکار تھی، تاہم گزشتہ دو برسوں میں ان کی حکومت نے ملکی معیشت کو استحکام دینے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے اور برطانیہ کی عالمی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے اہم اقدامات کیے۔
انہوں نے کہا کہ ’’میں نے ہمیشہ قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی ہے۔ آج بھی میرا فیصلہ اسی اصول کے تحت کیا گیا ہے۔ میں اقتدار کی ایک منظم اور ذمہ دارانہ منتقلی کو یقینی بنانا چاہتا ہوں تاکہ ملک میں سیاسی استحکام برقرار رہے۔‘‘
بادشاہ چارلس کو بھی آگاہ کر دیا گیا
کیر اسٹارمر نے بتایا کہ انہوں نے اپنے فیصلے سے بادشاہ چارلس سوم کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیبر پارٹی کی قیادت کے انتخاب کے لیے نامزدگیوں کا عمل 9 جولائی سے شروع کیا جائے گا اور پارٹی سے درخواست کی جائے گی کہ جلد از جلد انتخابی شیڈول جاری کیا جائے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اسٹارمر کا استعفیٰ برطانیہ میں ایک نئی قیادت کے ظہور کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ اس پیش رفت سے لیبر پارٹی کے اندر قیادت کی دوڑ بھی تیز ہو گئی ہے۔
اینڈی برنہم مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آگئے
سیاسی حلقوں میں سب سے زیادہ توجہ گریٹر مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہم پر مرکوز ہے، جنہیں کیر اسٹارمر کے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
برنہم حالیہ ضمنی پارلیمانی انتخاب میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے دوبارہ ہاؤس آف کامنز میں پہنچے ہیں۔ انہوں نے ریفارم پارٹی کے امیدوار کو شکست دی، جس کے بعد لیبر پارٹی کے اندر ان کی سیاسی حیثیت مزید مضبوط ہو گئی ہے۔
پارٹی کے متعدد اراکینِ پارلیمنٹ کا خیال ہے کہ اینڈی برنہم اپنی عوامی مقبولیت، تجربے اور مؤثر سیاسی رابطہ کاری کی صلاحیت کے باعث لیبر پارٹی کو درپیش مشکلات سے نکال سکتے ہیں۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ برنہم متوسط طبقے اور محنت کش طبقے کے مسائل کو بہتر انداز میں سمجھتے ہیں اور عوامی سطح پر ان کا رابطہ زیادہ مضبوط ہے۔
اسٹارمر پر بڑھتا ہوا سیاسی دباؤ
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ کیر اسٹارمر نے 2024 کے عام انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کی تھی، تاہم حکومت سنبھالنے کے بعد انہیں متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔
ملک میں مہنگائی، رہائشی بحران، صحت کے نظام پر بڑھتا دباؤ، عوامی خدمات کی کمزوری اور غیر قانونی امیگریشن جیسے مسائل مسلسل حکومت کے لیے دردِ سر بنے رہے۔ اس کے علاوہ معاشی سست روی اور عوامی توقعات پوری نہ ہونے کے باعث لیبر پارٹی کی مقبولیت میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ چند ماہ سے پارٹی کے اندر اور باہر اسٹارمر پر دباؤ بڑھ رہا تھا، جبکہ بعض اراکینِ پارلیمنٹ قیادت میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دے رہے تھے۔
برطانیہ کی معیشت کو درپیش مشکلات
ماہرینِ اقتصادیات کا کہنا ہے کہ نئی قیادت کو انتہائی پیچیدہ معاشی حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ برطانیہ اس وقت جی-7 ممالک میں قرض لینے کی سب سے زیادہ لاگت برداشت کر رہا ہے۔
ملکی قرضوں میں مسلسل اضافہ، سود کی بلند شرح، کئی برسوں کی کمزور معاشی نمو، عوامی اخراجات میں کمی کی مشکلات اور دفاعی اخراجات بڑھانے کی ضرورت حکومت کے لیے بڑے چیلنجز بن چکے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق نئی حکومت یا نئی قیادت کے پاس مالیاتی گنجائش محدود ہوگی اور اسے عوامی مطالبات اور مالیاتی نظم و ضبط کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔
اینڈی برنہم کے سامنے بھی بڑے امتحانات
اگرچہ اینڈی برنہم کو تبدیلی کی علامت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، لیکن ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ابھی تک خارجہ پالیسی، دفاع، قومی سلامتی اور مالیاتی حکمت عملی جیسے اہم قومی معاملات پر تفصیلی پالیسی پیش نہیں کی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر برنہم قیادت سنبھالتے ہیں تو انہیں نہ صرف پارٹی کو متحد رکھنا ہوگا بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال کرنا ہوگا، جو حالیہ برسوں میں سیاسی عدم استحکام سے شدید متاثر ہوا ہے۔
ایک دہائی میں ساتواں وزیرِاعظم؟
اگر اینڈی برنہم وزیرِاعظم منتخب ہو جاتے ہیں تو وہ بریگزٹ ریفرنڈم کے بعد گزشتہ دس برسوں میں برطانیہ کے ساتویں وزیرِاعظم ہوں گے۔
سیاسی ماہرین کے مطابق یہ صورتحال برطانیہ کی جدید تاریخ میں قیادت کی غیر معمولی تبدیلیوں کی عکاسی کرتی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران مسلسل بدلتی قیادت، معاشی دباؤ، عوامی ناراضی اور سیاسی تقسیم نے برطانوی سیاست کو غیر یقینی کیفیت سے دوچار رکھا ہے۔
مستقبل کیا ہوگا؟
کیر اسٹارمر کے استعفیٰ نے برطانیہ کو ایک نئے سیاسی دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایک طرف لیبر پارٹی نئی قیادت کے انتخاب کے عمل میں داخل ہو رہی ہے، جبکہ دوسری جانب عوام ایسے رہنما کی تلاش میں ہیں جو معیشت کو مستحکم کرے، معیارِ زندگی بہتر بنائے اور سیاسی استحکام بحال کر سکے۔
آنے والے ہفتے نہ صرف لیبر پارٹی بلکہ پورے برطانیہ کی سیاسی سمت کا تعین کریں گے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا نئی قیادت عوامی اعتماد بحال کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا برطانیہ مزید سیاسی بے یقینی کے دور میں داخل ہو جاتا ہے۔



