
"مہاراجہ رنجیت سنگھ برسی تقریبات: بھارتی سکھ یاتریوں کا پاکستان کی مہمان نوازی اور متروکہ وقف املاک بورڈ کے انتظامات کو زبردست خراجِ تحسین”
مہاراجہ رنجیت سنگھ برسی تقریبات: بھارتی سکھ یاتریوں کی گورودوارہ سچا سودا فاروق آباد یاترا، پاکستان کی مہمان نوازی کو زبردست خراجِ تحسین
ناصف اعوان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز (خصوصی رپورٹ)
متروکہ وقف املاک بورڈ، وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی، حکومت پاکستان کے زیر انتظام مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کے سلسلے میں جاری مذہبی تقریبات کے دوران بھارت سے آئے ہوئے سکھ یاتریوں نے گورودوارہ سچا سودا فاروق آباد کی یاترا کی اور پاکستان میں کیے گئے انتظامات، مہمان نوازی اور مذہبی آزادی کے ماحول کو بھرپور انداز میں سراہا۔
بھارتی سکھ یاتری ننکانہ صاحب میں اپنی مذہبی رسومات اور عبادات کی ادائیگی مکمل کرنے کے بعد خصوصی قافلے کی صورت میں گورودوارہ سچا سودا فاروق آباد پہنچے، جہاں متروکہ وقف املاک بورڈ کے ڈپٹی سیکرٹری شرائنز و انتظامیہ اور دیگر حکام نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
اس موقع پر یاتریوں کو پھول پیش کیے گئے جبکہ ان کی سہولت اور رہنمائی کے لیے خصوصی انتظامات بھی کیے گئے تھے۔
گورودوارہ سچا سودا کی تاریخی اہمیت
گورودوارہ سچا سودا سکھ مذہب کے مقدس ترین مقامات میں شمار ہوتا ہے اور اس مقام کو بابا گرونانک دیو جی کی زندگی کے ایک اہم واقعے سے منسوب کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتری اس تاریخی مقام پر حاضری دینا اپنے لیے باعثِ سعادت سمجھتے ہیں۔
بھارتی یاتریوں نے گورودوارہ سچا سودا میں حاضری دی، مذہبی عبادات ادا کیں اور اپنی مذہبی روایات کے مطابق مختلف رسومات میں حصہ لیا۔
حسن ابدال روانگی، پنجہ صاحب میں دو روزہ قیام
گورودوارہ سچا سودا فاروق آباد کی یاترا مکمل کرنے کے بعد بھارتی سکھ یاتریوں کا قافلہ اگلے مرحلے کے لیے حسن ابدال روانہ ہو گیا، جہاں وہ گورودوارہ پنجہ صاحب میں دو روز قیام کریں گے۔
دورانِ قیام یاتری اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کے ساتھ ساتھ مقدس مقامات کی زیارت بھی کریں گے۔
متروکہ وقف املاک بورڈ کی جانب سے حسن ابدال میں بھی رہائش، ٹرانسپورٹ، طبی سہولیات، سکیورٹی اور دیگر انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
پاکستان کی مہمان نوازی قابلِ ستائش قرار
بھارتی سکھ یاتریوں نے پاکستان میں ملنے والی محبت، عزت اور خلوص کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں ہر مقام پر والہانہ استقبال اور بھرپور تعاون ملا ہے۔
یاتریوں کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام اور حکومتی اداروں نے جس انداز میں ان کی میزبانی کی ہے، وہ قابلِ تعریف ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی مقامات کی حفاظت، تزئین و آرائش اور تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے خصوصی توجہ دی جا رہی ہے جس پر پوری سکھ برادری خوشی محسوس کرتی ہے۔
متروکہ وقف املاک بورڈ کے انتظامات پر اظہارِ تشکر
سکھ یاتریوں نے متروکہ وقف املاک بورڈ کی جانب سے کیے گئے انتظامات پر خصوصی شکریہ ادا کیا۔
یاتریوں کے مطابق رہائش، خوراک، ٹرانسپورٹ، طبی سہولیات اور سکیورٹی کے حوالے سے مثالی انتظامات کیے گئے ہیں جن کی وجہ سے انہیں اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
بھارتی جتھہ لیڈر سردار خوشویندر سنگھ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ برسی تقریبات کے لیے پاکستان میں غیر معمولی اور مثالی انتظامات کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا:
"پاکستان میں ہمارے مقدس گوردوارے نہایت خوبصورت، محفوظ اور اپنی اصل تاریخی حالت میں موجود ہیں۔ ان مقامات کی دیکھ بھال اور تحفظ کے لیے جو اقدامات کیے گئے ہیں وہ قابلِ ستائش ہیں۔”
سکیورٹی انتظامات کی تعریف
سردار خوشویندر سنگھ نے پاکستان میں کیے گئے سکیورٹی انتظامات کو بھی مثالی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یاتریوں کی حفاظت اور سہولت کو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ، پولیس اور دیگر اداروں نے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔
"پاکستان آمد سے لے کر مختلف مذہبی مقامات کی یاترا تک ہر مرحلے پر ہمیں مکمل تحفظ اور تعاون فراہم کیا گیا۔”
بین المذاہب ہم آہنگی کی روشن مثال
مذہبی امور کے ماہرین کے مطابق مہاراجہ رنجیت سنگھ برسی تقریبات اور سکھ یاتریوں کی پاکستان آمد نہ صرف مذہبی سیاحت کے فروغ کا ذریعہ ہے بلکہ یہ پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے مقدس مقامات کے تحفظ کے عزم کی بھی عکاسی کرتی ہے۔
متروکہ وقف املاک بورڈ کی جانب سے ہر سال سکھ، ہندو اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے زائرین کے لیے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر ہو رہا ہے۔
دوطرفہ عوامی روابط میں اضافہ
مبصرین کے مطابق سکھ یاتریوں کی پاکستان آمد دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط کے فروغ، مذہبی سیاحت کے فروغ اور ثقافتی ہم آہنگی کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
بھارتی سکھ یاتریوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی انہیں اپنے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے اسی طرح پاکستان آنے کے مواقع ملتے رہیں گے اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان محبت اور بھائی چارے کے رشتے مزید مضبوط ہوں گے۔



