پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

لاہور میں سکول و ٹیوشن سینٹر کی عمارت گرنے کا سانحہ: پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کا ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور وزیر تعلیم سے استعفے کا مطالبہ

موجودہ صورتحال میں کوئی بھی شخص بغیر مناسب اہلیت، تربیت یا حفاظتی انتظامات کے ٹیوشن سینٹر قائم کر لیتا ہے

سید قاسم بخاری-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات احسن رضوی نے لاہور میں سکول اور ٹیوشن سینٹر کی عمارت کی چھت گرنے کے نتیجے میں معصوم بچوں کے جاں بحق ہونے کے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے انتہائی المناک سانحہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے واقعے کی شفاف تحقیقات، ذمہ داروں کے تعین اور تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی مؤثر نگرانی کے نظام کا مطالبہ کیا ہے۔
اپنے جاری کردہ بیان میں احسن رضوی نے کہا کہ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے گھروں سے نکلنے والے بچوں کی جانوں کا ضیاع ایک ایسا سانحہ ہے جس نے پورے معاشرے کو غمزدہ کر دیا ہے۔ انہوں نے جاں بحق ہونے والے بچوں کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم بچوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور زخمی ہونے والوں کو جلد مکمل صحت یاب کرے۔
احسن رضوی نے سوال اٹھایا کہ اس افسوسناک واقعے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں نے اپنی قانونی ذمہ داریاں کیوں پوری نہیں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا باقاعدہ معائنہ اور حفاظتی معیار کی جانچ بروقت کی جاتی تو ممکن ہے اس سانحے سے بچا جا سکتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں مختلف انفورسمنٹ ادارے اور پیرا فورسز موجود ہیں، لیکن ان کی موجودگی کے باوجود عوام کو بنیادی تحفظ فراہم نہیں کیا جا سکا۔ ان کے بقول متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں اور اس حوالے سے مکمل احتساب ہونا چاہیے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نے دعویٰ کیا کہ لاہور میں متعدد بچے حصولِ تعلیم کی کوشش کے دوران جان کی بازی ہار چکے ہیں، جو نہایت افسوسناک صورتحال ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس واقعے کو محض ایک حادثہ قرار دینے کے بجائے اس کی بنیادی وجوہات کا جائزہ لینا ہوگا تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات کا سدباب ممکن بنایا جا سکے۔
احسن رضوی نے نجی ٹیوشن سینٹرز کے قیام کے لیے واضح قانونی ضوابط مرتب کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں کوئی بھی شخص بغیر مناسب اہلیت، تربیت یا حفاظتی انتظامات کے ٹیوشن سینٹر قائم کر لیتا ہے، جس سے نہ صرف تعلیمی معیار متاثر ہوتا ہے بلکہ طلبہ کی جان و مال بھی خطرات سے دوچار ہو جاتی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ٹیوشن سینٹرز اور اکیڈمیوں کے قیام کے لیے باقاعدہ رجسٹریشن، لائسنسنگ، عمارتوں کی فٹنس، حفاظتی انتظامات اور تدریسی عملے کی اہلیت سے متعلق جامع قواعد و ضوابط نافذ کرے۔ ان کے مطابق صرف مستند اور اہل افراد کو ہی تعلیمی ادارے یا ٹیوشن سینٹر چلانے کی اجازت دی جانی چاہیے تاکہ تعلیم کو ایک منظم شعبے کے طور پر فروغ دیا جا سکے۔
احسن رضوی نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں متعلقہ انجینئرنگ اور تکنیکی اداروں، خصوصاً عمارتوں کے حفاظتی معیار کی جانچ کرنے والے محکموں، کو سکولوں، کالجوں اور اکیڈمیوں کی عمارتوں کا باقاعدہ تکنیکی آڈٹ کرنا چاہیے تاکہ خستہ حال یا غیر محفوظ عمارتوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سکولوں، اکیڈمیوں اور ٹیوشن سینٹرز کی عمارتوں کی خستہ حالی کی نگرانی اور معائنہ کرنا کس ادارے کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس معاملے میں غفلت ثابت ہوتی ہے تو صرف اساتذہ کو ذمہ دار ٹھہرانا کافی نہیں، بلکہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز، متعلقہ بلڈنگ انسپکشن حکام اور دیگر ذمہ دار افسران کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے۔
احسن رضوی نے مطالبہ کیا کہ سانحے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی امداد کے ساتھ مکمل انصاف فراہم کیا جائے۔
انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ اگر حکومت اس افسوسناک واقعے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتی ہے تو وزیر تعلیم کو اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہو جانا چاہیے، تاکہ ذمہ داری اور احتساب کی روایت کو فروغ مل سکے۔
واضح رہے کہ یہ مطالبات اور مؤقف پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات احسن رضوی کے جاری کردہ بیان پر مبنی ہیں، جبکہ واقعے کی وجوہات، ذمہ داری کے تعین اور قانونی کارروائی سے متعلق حتمی فیصلہ متعلقہ تحقیقاتی اداروں اور عدالتوں کی کارروائی کے بعد سامنے آئے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button