پاکستاناہم خبریں

میڈیا انفلوئنسرز کے ساتھ اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار کی نشست، بھارت سے متعلق سیکیورٹی خدشات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال

بھارتی معاشرے میں مذہبی اور سماجی تقسیم میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ آزادیٔ اظہار، صحافتی آزادی اور شہری حقوق سے متعلق مختلف بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس بھی تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
ملک کی داخلی و علاقائی سلامتی سے متعلق امور پر میڈیا انفلوئنسرز کے ساتھ ایک خصوصی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں ایک اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار نے خطے کی موجودہ صورتحال، پاکستان کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز، بھارت کی پالیسیوں اور جنوبی ایشیا میں بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔
نشست کے دوران سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اعلیٰ عہدیدار نے مؤقف اختیار کیا کہ بھارت اپنے اندرونی سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل سے عالمی توجہ ہٹانے کے لیے خطے، خصوصاً پاکستان، میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ان کے بقول بھارتی قیادت زمینی حقائق کو تسلیم کرنے کے بجائے ایسے اقدامات اور بیانیے اختیار کر رہی ہے جن سے علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بریفنگ میں کہا گیا کہ بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی شدت پسندی، عدم برداشت اور انتہاپسندانہ رجحانات ریاستی ڈھانچے اور سماجی ہم آہنگی کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ بریفنگ کے مطابق ہندوتوا نظریے نے بھارت کے سیکولر تشخص کو متاثر کیا ہے اور ملک کے اندر مذہبی اقلیتوں کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
اعلیٰ عہدیدار نے، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، دعویٰ کیا کہ "اکھنڈ بھارت” کا تصور توسیع پسندانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے اور اس قسم کے نظریات خطے میں امن و استحکام کے لیے سودمند نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے تمام ممالک کو بین الاقوامی قوانین، خودمختاری کے احترام اور باہمی تعاون کے اصولوں کو ترجیح دینا ہوگی۔
نشست میں بھارت کی داخلی صورتحال پر بھی گفتگو کی گئی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بریفنگ میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ بھارتی معاشرے میں مذہبی اور سماجی تقسیم میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ آزادیٔ اظہار، صحافتی آزادی اور شہری حقوق سے متعلق مختلف بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس بھی تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ تاہم بریفنگ میں پیش کیے گئے متعدد سیاسی تجزیے اور اندازے متعلقہ سیکیورٹی اداروں کے مؤقف کے طور پر بیان کیے گئے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ کشمیری عوام کو طویل عرصے سے سخت سیکیورٹی اقدامات کا سامنا ہے اور پاکستان کا مؤقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔
نشست میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ بھارت بعض اوقات اپنی داخلی سیکیورٹی یا علیحدگی پسند تحریکوں سے متعلق مسائل کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان ایسے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور انہیں بے بنیاد قرار دیتا ہے۔
بریفنگ کے دوران اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور ترقی پسند ریاست کے طور پر خطے میں امن، معاشی تعاون اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم قومی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق نشست میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں اور دیگر اقلیتی برادریوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے، جبکہ انسانی حقوق کے عالمی اصولوں پر عمل درآمد سے خطے میں اعتماد کی فضا بہتر ہو سکتی ہے۔
اعلیٰ عہدیدار نے، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض کالعدم تنظیموں اور عناصر کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رہے گی۔
نشست کے اختتام پر سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی، داخلی استحکام اور علاقائی امن کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا اور کسی بھی بیرونی یا اندرونی خطرے کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button