کاروبارتازہ ترین

سرحدی بندشیں اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی: افغانستان کی پرزہ جات مارکیٹ شدید بحران کا شکار، ہزاروں افراد بے روزگاری کے دہانے پر

ایران کی بندرعباس بندرگاہ کے ذریعے سامان درآمد کرنے کی کوشش کی، لیکن اس راستے پر نقل و حمل کے اضافی اخراجات، طویل سفری دورانیہ اور انتظامی پیچیدگیوں نے تجارت کو مزید مشکل بنا دیا۔

https://vogurdunews.de/our-team/

By Voice of Germany Urdu News Team

قندھار (افغانستان): افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار کے سرحدی قصبے اسپن بولدک میں گاڑیوں کے پرزہ جات کی تجارت کئی دہائیوں تک ملکی معیشت کا ایک اہم ستون سمجھی جاتی رہی، جہاں روزانہ سینکڑوں کنٹینرز کے ذریعے درآمدی سامان پہنچتا تھا اور ہزاروں افراد کو روزگار حاصل تھا۔ تاہم پاکستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی، تجارتی بندشوں اور بعد ازاں مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی جنگی صورتحال نے اس کاروبار کو تقریباً مفلوج کر دیا ہے، جس کے باعث نہ صرف تاجروں کو کروڑوں ڈالر کے نقصانات کا سامنا ہے بلکہ ہزاروں مزدور، ڈرائیور، ورکشاپ مالکان اور دیگر وابستہ افراد بھی شدید معاشی مشکلات میں گھر گئے ہیں۔

سرحدی بندش نے تجارتی سرگرمیاں روک دیں

پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سرحدی علاقوں میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات کے بعد اکتوبر میں دونوں ممالک کے درمیان اہم سرحدی گزرگاہوں پر آمدورفت تقریباً مکمل طور پر بند کر دی گئی۔ اس فیصلے نے اسپن بولدک جیسے تجارتی مراکز کو براہِ راست متاثر کیا، جہاں برسوں سے پاکستان کے راستے جاپان، چین، جنوبی کوریا اور دیگر ممالک سے درآمد ہونے والے گاڑیوں کے پرزہ جات افغانستان پہنچتے تھے۔

سرحد بند ہونے کے بعد افغانستان کی درآمدی سپلائی چین شدید متاثر ہوئی اور تاجروں کو متبادل راستے تلاش کرنا پڑے، تاہم وہ راستے نہ صرف طویل بلکہ کئی گنا مہنگے ثابت ہوئے۔

ایران کے راستے تجارت بھی مہنگی اور پیچیدہ

افغانستان چیمبر آف کامرس اینڈ انویسٹمنٹ کے نائب سربراہ عبدالباقی کے مطابق سرحد بند ہونے کے بعد کاروباری طبقے نے ایران کی بندرعباس بندرگاہ کے ذریعے سامان درآمد کرنے کی کوشش کی، لیکن اس راستے پر نقل و حمل کے اضافی اخراجات، طویل سفری دورانیہ اور انتظامی پیچیدگیوں نے تجارت کو مزید مشکل بنا دیا۔

ان کے مطابق ماضی میں جاپان اور دیگر ایشیائی ممالک سے آنے والے پرزہ جات پاکستان کے راستے چند دنوں میں اسپن بولدک پہنچ جاتے تھے، لیکن اب یہی سامان پہلے متحدہ عرب امارات منتقل کیا جاتا ہے اور وہاں سے افغانستان لانے میں کئی ہفتے بلکہ بعض اوقات کئی ماہ لگ جاتے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے بحران مزید گہرا کر دیا

فروری میں مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے آغاز کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔ تاجروں کے مطابق خلیجی خطے میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے اطراف بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات نے عالمی بحری تجارت کو شدید متاثر کیا، جس کے نتیجے میں افغانستان آنے والے سامان کی ترسیل تقریباً رک گئی۔

افغان تاجروں کا کہنا ہے کہ جہازوں کی آمدورفت میں تاخیر، انشورنس اخراجات میں اضافہ اور شپنگ کمپنیوں کی جانب سے اضافی چارجز عائد کیے جانے کے باعث درآمدی لاگت کئی گنا بڑھ گئی، جس کا براہِ راست اثر مقامی کاروبار پر پڑا۔

درآمدی لاگت میں چار گنا اضافہ

اسپن بولدک کے معروف تاجر اسداللہ، جو جاپان اور دبئی سے گاڑیوں کے پرزہ جات درآمد کرتے ہیں، نے بتایا کہ چند ماہ پہلے تک وہ روزانہ دو کنٹینرز کا سامان وصول کرتے تھے، لیکن اب کئی مہینوں سے کاروبار تقریباً بند ہے۔

ان کے مطابق ایک کنٹینر کی شپنگ لاگت تقریباً دو ہزار امریکی ڈالر سے بڑھ کر آٹھ ہزار ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ان کے 30 سے زائد کنٹینرز متحدہ عرب امارات کی جبل علی بندرگاہ اور جاپان میں پھنسے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سرمایہ رک جانے کے باعث نہ صرف کاروبار متاثر ہوا بلکہ ملازمین کی تنخواہیں، گوداموں کے اخراجات اور بینک قرضوں کی ادائیگی بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔

"سب کچھ صفر ہو گیا”

جاپان سے گاڑیوں کے پرزہ جات درآمد کرنے والے ایک اور تاجر مسعود نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ کے بعد ان کا کاروبار مکمل طور پر بند ہو گیا ہے۔

ان کے مطابق پہلے ہر ماہ درجنوں بلکہ سینکڑوں کنٹینرز افغانستان پہنچتے تھے، لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ "سب کچھ صفر ہو گیا ہے۔”

انہوں نے بتایا کہ کچھ کنٹینرز متحدہ عرب امارات پہنچ تو گئے، لیکن بڑھتے ہوئے اسٹوریج اخراجات کے باعث انہیں دوبارہ جاپان واپس بھیجنا پڑ رہا ہے۔

مسعود کے بقول، "ہمارے پاس کوئی متبادل راستہ موجود نہیں۔ ہر گزرتا دن مزید مالی نقصان کا باعث بن رہا ہے۔”

ہزاروں افراد کا روزگار خطرے میں

اس بحران نے صرف درآمد کنندگان ہی نہیں بلکہ اسپن بولدک کی پوری معیشت کو متاثر کیا ہے۔

مارکیٹ میں کنٹینرز اتارنے والے کرین آپریٹر محمد نعیم کا کہنا ہے کہ پہلے روزانہ درجنوں کنٹینرز ان کے ذریعے اتارے جاتے تھے، لیکن اب کئی کئی دن کام نہیں ملتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر حالات جلد بہتر نہ ہوئے تو انہیں یہ پیشہ چھوڑ کر کوئی اور روزگار تلاش کرنا پڑے گا۔

ورکشاپیں ویران، مزدور بے روزگار

اسپن بولدک کی آٹو ورکشاپس، جہاں کبھی صبح سے شام تک گاڑیوں کی تیاری، مرمت اور اسمبلنگ کا کام جاری رہتا تھا، اب خاموش دکھائی دیتی ہیں۔

30 سالہ ورکشاپ مالک سمیع اللہ نے بتایا کہ پہلے وہ ہر ہفتے پانچ سے سات گاڑیاں تیار کرتے تھے، لیکن پرزہ جات نہ ہونے کی وجہ سے اب ورکشاپ تقریباً بند ہے۔

انہوں نے کہا کہ کام نہ ہونے کے باوجود انہیں ملازمین کی تنخواہیں، بجلی کے بل اور دیگر اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں، جس کے باعث کاروبار جاری رکھنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔

کار شوروم بھی متاثر

اسپن بولدک کے کار شوروم مالکان بھی شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔

شوروم کے مالک نور علی کے مطابق کنٹینرز کی آمد تقریباً رک جانے کے باعث گاڑیوں کی فراہمی محدود ہو گئی ہے، جبکہ گاہک بھی خریداری سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران ان کے شوروم سے ایک بھی گاڑی فروخت نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر جلد تجارتی راستے بحال نہ ہوئے تو بہت سے کاروبار مستقل طور پر بند ہونے کا خدشہ ہے۔

عالمی بینک کی تشویش

عالمی بینک نے اپنی حالیہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ افغانستان بیرونی معاشی جھٹکوں کے مقابلے میں انتہائی حساس معیشت رکھتا ہے۔

ادارے کے مطابق مالی سال 2025 میں افغانستان کی درآمدات اور برآمدات کے درمیان فرق ملکی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے تقریباً 70 فیصد تک پہنچ گیا، جو معیشت کے لیے تشویشناک اشارہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر علاقائی کشیدگی، سرحدی بندشیں اور بین الاقوامی تجارتی رکاوٹیں برقرار رہیں تو افغانستان کی اقتصادی بحالی مزید سست ہو سکتی ہے۔

مستقبل کی امید

کاروباری برادری کا کہنا ہے کہ افغانستان کی معیشت بڑی حد تک علاقائی تجارت پر انحصار کرتی ہے، اس لیے پاکستان کے ساتھ سرحدی گزرگاہوں کی مکمل بحالی، ایران کے راستے تجارتی نقل و حمل میں آسانی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی بحری تجارت کی بحالی نہایت ضروری ہے۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی کم ہوتی ہے اور تجارتی راستے دوبارہ فعال ہو جاتے ہیں تو اسپن بولدک کی مارکیٹ ایک مرتبہ پھر اپنے سابقہ مقام پر آ سکتی ہے، بصورت دیگر ہزاروں خاندانوں کا روزگار مزید خطرے میں پڑ جائے گا اور افغانستان کی پہلے سے کمزور معیشت پر اس کے طویل المدتی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button