
نیتن یاہو کا دعویٰ: جنوبی لبنان کے مسیحی دیہات اسرائیل میں شامل ہونا چاہتے ہیں، مقامی آبادی نے تردید کر دی
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ کے دوران جنوبی لبنان کے متعدد مسیحی دیہات اسرائیلی گولہ باری، فضائی حملوں، نقل مکانی اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی سے متاثر ہوئے۔

تاہمنیتن یاہو نے ان دیہاتوں کے نام ظاہر نہیں کیے جن کے بارے میں انہوں نے یہ دعویٰ کیا۔
دوسری جانب جنوبی لبنان کے ضلع مرجعیون کے مسیحی دیہات نے میڈیا میں آنے والی ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں ان کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ الحاق کی خواہش ظاہر کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
دیہات کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ان کے پاس اس نوعیت کے فیصلے کرنے کا نہ اختیار ہے اور نہ ہی قانونی حق۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ مقامی آبادی اپنی سرزمین پر قائم رہنے کا عزم اور اپنی لبنانی قومی شناخت اور قومی پرچم سے مکمل وفاداری رکھتی ہے۔
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ کے دوران جنوبی لبنان کے متعدد مسیحی دیہات اسرائیلی گولہ باری، فضائی حملوں، نقل مکانی اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی سے متاثر ہوئے۔
اگرچہ اسرائیلی فوج نے کئی علاقوں سے انخلا کی ہدایات جاری کی تھیں، تاہم زیادہ تر دیہاتوں میں رہائشی اپنے گھروں، گرجا گھروں اور زرعی زمینوں کے تحفظ کے لیے مقیم رہے، جبکہ بعض دیہات جزوی یا مکمل طور پر خالی کر دیے گئے۔
جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے ٹیلی فون کے ذریعے کئی مسیحی اکثریتی دیہات کے میئرز اور مقامی حکام کو خبردار کیا تھا کہ وہ ‘اجنبی افراد‘ کو اپنے علاقوں میں داخل نہ ہونے دیں، جس سے مراد حزب اللہ کے جنگجو تھے۔

لبنان پر حسب ضرورت کارروائیاں جاری رکھنے کی دھمکی
اتوار کو ایک سرکاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی سکیورٹی ضروریات کے تحت جاری رہے گی۔
نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں ”جب تک ضرورت ہوگی‘‘ موجود رہے گی تاکہ شمالی اسرائیل کے رہائشیوں اور دیگر شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے اتوار کو جنوبی لبنان میں واقع بیفورٹ قلعے کے قریب تعینات فوجیوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج لبنان کی سرزمین سے خطرات کے خاتمے کے لیے ”فیصلہ کن کارروائیاں‘‘ جاری رکھے گی۔
امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں۔

ٹرمپ سے تعلقات پر اظہارِ خیال
فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے معاہدے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مبینہ اختلافات پر بھی بات کی۔
انہوں نے کہا، ”ہمارے تعلقات نہایت مضبوط ہیں اور اتحادیوں جیسے ہیں۔ ننانوے فیصد مواقع پر ہماری رائے ایک جیسی ہوتی ہے، لیکن ہر خاندان یا قریبی دوستی کی طرح کبھی کبھار اختلاف رائے بھی ہوتا ہے، جس پر ہم کھل کر بات کرتے ہیں۔‘‘
نیتن یاہو نے مزید کہا، ”میں اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہم عموماً ان اختلافات کو بھی حل کر لیتے ہیں۔‘‘
ان کا یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ نیتن یاہو ”جانتے ہیں کہ اصل اختیار کس کے پاس ہے۔‘‘
حالیہ ہفتوں میں ٹرمپ ایران سے متعلق معاہدے پر جاری مذاکرات کے دوران کئی مرتبہ اسرائیلی وزیرِ اعظم کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ انہوں نے نیتن یاہو پر ناشکری کا الزام بھی عائد کیا اور لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں میں اضافے پر انہیں ”پاگل‘‘ قرار دیا تھا۔
ٹرمپ نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ نیتن یاہو آئندہ چند روز میں واشنگٹن کا دورہ کریں گے۔



