
حماس نے غزہ کی ڈی فیکٹو حکومت تحلیل کر دی، امریکی حمایت یافتہ امن منصوبے کے تحت انتظامی ڈھانچے کی منتقلی کا آغاز
"ہم چاہتے ہیں کہ عوامی خدمات کا تسلسل برقرار رہے اور انتظامی تبدیلی کا عمل منظم انداز میں مکمل, اسماعیل الثوابتہ
By Voice of Germany Urdu News Team
غزہ/یروشلم: فلسطینی تنظیم حماس نے پیر کے روز ایک اہم سیاسی پیش رفت میں غزہ میں اپنی ڈی فیکٹو حکومت کو باضابطہ طور پر تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ اقدام امریکہ کی حمایت سے تیار کیے گئے جنگ بندی اور جنگ کے بعد غزہ کے انتظامی نظام کی تشکیلِ نو کے منصوبے کے تحت سامنے آیا ہے، جسے خطے میں سیاسی استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ تنظیم کی حکومتی نگرانی ختم کی جا رہی ہے، تاہم مختلف وزارتیں، سرکاری محکمے اور ان میں کام کرنے والا عملہ اپنی معمول کی ذمہ داریاں انجام دیتا رہے گا تاکہ عوامی خدمات کا سلسلہ متاثر نہ ہو۔ تنظیم نے یہ بھی واضح کیا کہ غزہ کے جن علاقوں پر اب بھی اس کا عملی کنٹرول موجود ہے، وہاں سکیورٹی اور پولیسنگ کی نگرانی بدستور حماس کے زیر انتظام رہے گی۔
ایمرجنسی کمیٹی بھی تحلیل
غزہ میں حماس کے حکومتی میڈیا آفس کے سربراہ اسماعیل الثوابتہ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ "حکومتی ایمرجنسی کمیٹی” کے سربراہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں اور اس کمیٹی کو بھی باضابطہ طور پر تحلیل کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ پہلے سے طے شدہ انتظامات پر عمل درآمد اور غزہ میں انتظامی اختیارات کی منظم منتقلی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
اسماعیل الثوابتہ کے مطابق:
"ہم چاہتے ہیں کہ عوامی خدمات کا تسلسل برقرار رہے اور انتظامی تبدیلی کا عمل منظم انداز میں مکمل ہو تاکہ شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔”
نئی انتظامیہ فلسطینی ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ہوگی
امریکی حمایت یافتہ امن منصوبے کے مطابق غزہ کی سول انتظامیہ اب "نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ” کے سپرد کی جائے گی، جو فلسطینی ٹیکنوکریٹس اور غیر سیاسی ماہرین پر مشتمل ایک 15 رکنی کمیٹی ہے۔
کمیٹی کے سربراہ علی شعث نے کہا کہ ادارہ غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، تاہم اس کے لیے مالی وسائل، بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور مناسب سکیورٹی ماحول ناگزیر ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اگر بین الاقوامی برادری مطلوبہ تعاون فراہم کرتی ہے تو کمیٹی جلد اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام دینا شروع کر سکتی ہے۔
امریکی حمایت یافتہ بورڈ آف پیس کا ردعمل
امن منصوبے کی نگرانی کے لیے قائم امریکی حمایت یافتہ "بورڈ آف پیس” نے حماس کے اعلان کا خیر مقدم کرنے کے بجائے محتاط ردعمل دیا۔
بورڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کسی بھی پیش رفت کا حتمی جائزہ صرف اعلانات یا وعدوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے کیا جائے گا۔
بیان میں کہا گیا:
"اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب غزہ کے عوام کو بہتر طرز حکمرانی، بنیادی سہولیات اور انسانی امداد کی مؤثر فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔”
اسرائیل کا فوری ردعمل سامنے نہیں آیا
حماس کے اعلان کے بعد اسرائیلی حکومت یا فوج کی جانب سے فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
اسرائیل کا موقف اب بھی یہی ہے کہ غزہ میں مستقل امن اسی وقت ممکن ہوگا جب حماس مکمل طور پر غیر مسلح ہو اور اس کی عسکری صلاحیت ختم کر دی جائے۔
دوسری جانب حماس کا الزام ہے کہ اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کی متعدد شقوں کی خلاف ورزی کی ہے اور طے شدہ سیاسی و انسانی اقدامات پر خاطر خواہ پیش رفت نہیں کی۔
جنگ بندی کے باوجود حملے جاری
اگرچہ جنگ بندی پر عمل درآمد جاری ہے، تاہم غزہ میں مکمل امن تاحال قائم نہیں ہو سکا۔
مقامی طبی حکام کے مطابق پیر کے روز اسرائیلی حملوں میں کم از کم پانچ فلسطینی ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔
غزہ سٹی کے علاقے تل الہوا میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ پر فضائی حملے میں ایک میاں بیوی جان کی بازی ہار گئے۔
اسی طرح جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں دو مختلف حملوں میں مزید تین افراد ہلاک اور کم از کم 20 زخمی ہوئے۔
طبی ذرائع کے مطابق ایک حملہ بے گھر افراد کے خیمے پر کیا گیا جبکہ دوسرا ایک گاڑی کو نشانہ بنا کر کیا گیا۔
زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
اسرائیل کا مؤقف
اسرائیلی فوج نے ان مخصوص حملوں پر فوری تبصرہ نہیں کیا، تاہم اس کا مسلسل مؤقف ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اس کی کارروائیوں کا مقصد ایسے عسکریت پسندوں کو نشانہ بنانا ہے جو اسرائیلی سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اسرائیلی فوج اس وقت غزہ کے 60 فیصد سے زائد علاقے پر کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ان کے مطابق یہ علاقے مستقبل میں حفاظتی بفر زون کے طور پر استعمال کیے جائیں گے اور اسرائیل فی الحال ان علاقوں سے مکمل انخلا کا ارادہ نہیں رکھتا۔
انسانی بحران بدستور سنگین
اقوام متحدہ اور بین الاقوامی امدادی اداروں کے مطابق طویل جنگ نے غزہ کو شدید انسانی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔
تقریباً 20 لاکھ فلسطینی متاثر ہوئے ہیں، جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہو کر عارضی خیموں، اسکولوں یا تباہ شدہ عمارتوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
بجلی، صاف پانی، صحت کی سہولیات اور خوراک کی قلت بدستور بڑے مسائل ہیں، جبکہ بنیادی انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے اربوں ڈالر درکار ہوں گے۔
مستقبل کے چیلنجز
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حماس کی جانب سے اپنی ڈی فیکٹو حکومت تحلیل کرنا ایک اہم سیاسی اشارہ ضرور ہے، لیکن غزہ میں پائیدار امن کے لیے متعدد پیچیدہ مسائل ابھی حل طلب ہیں۔
ان میں اسرائیل اور حماس کے درمیان مستقل جنگ بندی، یرغمالیوں اور قیدیوں کا تبادلہ، غزہ کی تعمیر نو، بین الاقوامی مالی امداد، نئی انتظامیہ کی مؤثر فعالیت اور سکیورٹی انتظامات سب سے بڑے چیلنج تصور کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مجوزہ انتظامی منتقلی کامیابی سے مکمل ہو جاتی ہے تو یہ غزہ میں ایک نئی سیاسی اور انتظامی ترتیب کی بنیاد بن سکتی ہے، تاہم اس عمل کی کامیابی کا انحصار تمام فریقوں کے عملی تعاون، جنگ بندی کی مکمل پابندی اور بین الاقوامی برادری کی مسلسل حمایت پر ہوگا۔




