بین الاقوامیاہم خبریں

ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر دیا، عبوری جنگ بندی معاہدہ ناکام

"میرے خیال میں یہ سب ختم ہو چکا ہے۔ میں ایران کے ساتھ مزید بات چیت نہیں کرنا چاہتا۔ ان کے ساتھ مذاکرات صرف وقت کا ضیاع ہیں۔"

https://vogurdunews.de/our-team/

By Voice of Germany Urdu News Team

واشنگٹن / انقرہ / دوحہ: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل کو عملاً ختم کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والا عبوری معاہدہ اب اپنی حیثیت کھو چکا ہے اور وہ ایران کے ساتھ مزید کسی قسم کی بات چیت نہیں کرنا چاہتے۔ ان کے اس بیان کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور خطے میں ایک بار پھر بڑے فوجی تصادم کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے یہ بیان ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو کے سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دیا، جہاں انہوں نے ایران، نیٹو، یورپی اتحادیوں اور عالمی سلامتی سے متعلق متعدد اہم اعلانات بھی کیے۔

پاکستان کی ثالثی میں ہونے والا عبوری معاہدہ بھی ختم

واشنگٹن اور تہران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کی سفارتی کوششوں سے ایک 60 روزہ عبوری جنگ بندی معاہدہ طے پایا تھا، جس کا مقصد دونوں ممالک کو مستقل امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے وقت فراہم کرنا تھا۔

اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے محدود عرصے کے لیے فوجی کارروائیاں روکنے اور بالواسطہ مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔ بعد ازاں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ثالثوں کی موجودگی میں کئی ادوار کے مذاکرات ہوئے، تاہم گزشتہ ہفتے ہونے والا تازہ دور کسی نمایاں پیش رفت کے بغیر ختم ہو گیا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں فریقین بنیادی اختلافات، سلامتی کی ضمانتوں، پابندیوں کے خاتمے اور علاقائی کردار جیسے اہم معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں ناکام رہے۔

ٹرمپ: ایران کے ساتھ بات چیت وقت کا ضیاع ہے

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ اب ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

انہوں نے کہا:

"میرے خیال میں یہ سب ختم ہو چکا ہے۔ میں ایران کے ساتھ مزید بات چیت نہیں کرنا چاہتا۔ ان کے ساتھ مذاکرات صرف وقت کا ضیاع ہیں۔”

ان کا کہنا تھا کہ ایران نے جنگ بندی کی روح کے خلاف اقدامات کیے ہیں اور ایسے حالات میں سفارتی عمل آگے بڑھانا ممکن نہیں رہا۔

آبنائے ہرمز میں حملوں کے بعد امریکی جوابی کارروائی

امریکی حکام کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد امریکہ نے بدھ کی صبح ایران کے مختلف فوجی اہداف پر نئی فضائی کارروائیاں شروع کیں۔

امریکی وزارت دفاع کے مطابق حملوں کا مقصد ایران کی بحری اور میزائل صلاحیتوں کو محدود کرنا اور عالمی بحری تجارت کو محفوظ بنانا تھا۔

اس کے ساتھ ہی واشنگٹن نے ایران کو خام تیل فروخت کرنے کے لیے دیا گیا خصوصی لائسنس بھی منسوخ کر دیا، جس سے تہران پر معاشی دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

ایران کا بھرپور جواب، خلیجی امریکی اڈے نشانے پر

امریکی حملوں کے فوراً بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکی حملوں کا براہ راست جواب تھی، جبکہ تہران نے واضح کیا کہ اگر امریکی حملے جاری رہے تو مزید سخت ردعمل دیا جائے گا۔

خطے میں تعینات امریکی افواج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، جبکہ بحرین، کویت، قطر اور دیگر خلیجی ممالک میں حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

جنگ بندی کو شدید دھچکا

دفاعی ماہرین کے مطابق حالیہ فوجی کارروائیوں نے پہلے سے کمزور 60 روزہ جنگ بندی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

اگرچہ کسی بھی فریق نے باضابطہ طور پر مذاکرات کے مکمل خاتمے کا اعلان نہیں کیا، تاہم صدر ٹرمپ کے تازہ بیانات نے سفارتی عمل کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں معمولی غلط اندازہ بھی خطے کو ایک نئی اور وسیع جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

نیٹو پر بھی ٹرمپ کی شدید تنقید

صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں نیٹو اتحاد پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ تنظیم کے رویے سے شدید ناخوش ہیں۔

ان کے مطابق:

  • نیٹو نے گرین لینڈ کے معاملے پر امریکہ کا مناسب ساتھ نہیں دیا۔
  • اتحادی ممالک ایران کے خلاف امریکہ کی مکمل حمایت کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔
  • بعض رکن ممالک اپنی دفاعی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے۔

انہوں نے کہا:

"میں نیٹو سے سخت ناراض ہوں کیونکہ اس نے گرین لینڈ کے معاملے میں درست کردار ادا نہیں کیا، اور ایران جیسے دہشت گردی کی حمایت کرنے والے ملک کے خلاف بھی ہمارا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں۔”

سپین کے خلاف سخت تجارتی اقدامات

صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ انہوں نے امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ سپین کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے سپین کو نیٹو کا "خوفناک شراکت دار” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ میڈرڈ اتحاد کے اندر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر امریکہ واقعی سپین کے خلاف تجارتی پابندیاں عائد کرتا ہے تو اس کے اثرات امریکہ اور یورپ کے تعلقات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

یورپی یونین کا اظہار تشویش

یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کالس نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کارروائیوں نے پہلے سے پیچیدہ مذاکراتی عمل کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا:

"ایران کی جانب سے بحرین اور کویت میں حملے ناقابل قبول ہیں۔ یورپی یونین خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی آزادی اور عالمی تجارت کے تحفظ کے لیے قریبی رابطے میں ہے۔”

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور فوری طور پر سفارتی مذاکرات کی طرف واپس آئیں۔

عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات

ماہرین معاشیات کے مطابق آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

ممکنہ اثرات میں شامل ہیں:

  • خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ۔
  • عالمی شپنگ اور سپلائی چین میں رکاوٹیں۔
  • خلیجی ممالک کی برآمدات متاثر ہونا۔
  • عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال۔
  • مہنگائی اور توانائی کے بحران میں اضافہ۔

خطہ ایک نئے بحران کے دہانے پر

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ فوجی تصادم صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ، خلیجی ممالک، عالمی تجارت اور بین الاقوامی سلامتی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

اگر سفارتی کوششیں دوبارہ بحال نہ ہو سکیں تو آئندہ چند روز میں صورتحال مزید سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔

نتیجہ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کے اعلان، آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، امریکی فضائی حملوں، ایرانی جوابی کارروائی اور یورپی اتحادیوں کی تشویش نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ اگر دونوں ممالک فوری طور پر مذاکرات کی میز پر واپس نہ آئے تو نہ صرف 60 روزہ عبوری جنگ بندی مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے بلکہ پورا خطہ ایک نئے اور وسیع فوجی تصادم کی لپیٹ میں بھی آ سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button