
مصر نے دنیا کے سب سے بڑے فوجی ہیڈکوارٹر "دی آکٹاگون” کا افتتاح کر دیا، نئے انتظامی دارالحکومت کی تعمیر میں اہم سنگِ میل
یہ کمپلیکس تقریباً 90 مربع کلومیٹر کے وسیع رقبے پر قائم کیا گیا ہے، جو پرتگال کے دارالحکومت لزبن کے رقبے کے برابر بتایا جاتا ہے۔
By Voice of Germany Urdu News Service
قاہرہ: مصر نے اپنے نئے انتظامی دارالحکومت میں مسلح افواج کے جدید اور وسیع فوجی ہیڈکوارٹر "دی آکٹاگون” (The Octagon) کا باضابطہ افتتاح کر دیا ہے۔ یہ کمپلیکس رقبے کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا فوجی ہیڈکوارٹر قرار دیا جا رہا ہے، جسے مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کے بڑے قومی ترقیاتی منصوبوں میں ایک اہم سنگِ میل تصور کیا جا رہا ہے۔
افتتاحی تقریب اتوار کے روز انتہائی شاندار انداز میں منعقد ہوئی، جس میں صدر عبدالفتاح السیسی نے فوجی وردی پہن کر شرکت کی۔ مبصرین کے مطابق گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں یہ پہلا موقع تھا جب صدر السیسی عوامی تقریب میں مکمل فوجی یونیفارم میں نظر آئے، جسے مصری فوج اور ریاست کے درمیان مضبوط تعلق کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دنیا کا سب سے بڑا فوجی ہیڈکوارٹر
"دی آکٹاگون” ایک جدید فوجی کمپلیکس ہے جو آٹھ بڑی عمارتوں پر مشتمل ہے۔ اس کا نام بھی اسی آٹھ پہلوؤں والے ڈیزائن کی مناسبت سے رکھا گیا ہے۔
یہ کمپلیکس تقریباً 90 مربع کلومیٹر کے وسیع رقبے پر قائم کیا گیا ہے، جو پرتگال کے دارالحکومت لزبن کے رقبے کے برابر بتایا جاتا ہے۔
فوجی ماہرین کے مطابق اس منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد یہ امریکہ کے پینٹاگون سے بھی بڑا فوجی ہیڈکوارٹر بن گیا ہے، جو کئی دہائیوں سے دنیا کی سب سے بڑی وزارت دفاع کی عمارت کے طور پر جانا جاتا تھا۔
کمپلیکس میں فوجی قیادت کے دفاتر، مشترکہ آپریشن سینٹر، جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول رومز، انٹیلی جنس مراکز، تربیتی سہولیات، انتظامی دفاتر، مواصلاتی نظام اور دیگر دفاعی تنصیبات شامل ہیں، جنہیں جدید ترین عسکری ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا گیا ہے۔
فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے آمد
افتتاحی تقریب میں صدر عبدالفتاح السیسی فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچے، جہاں اعلیٰ فوجی حکام، کابینہ کے ارکان، پارلیمنٹ کے نمائندوں اور مختلف ممالک کے عسکری وفود نے بھی شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر السیسی نے کہا:
"یہ منصوبہ اس قوم کے عزم، خود اعتمادی اور صلاحیت کی علامت ہے جو کسی بھی بڑے خواب کو ناممکن نہیں سمجھتی۔”
انہوں نے کہا کہ مصر اپنی قومی سلامتی کو مضبوط بنانے، جدید دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور علاقائی استحکام کے لیے مسلسل سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
نئے انتظامی دارالحکومت کا اہم منصوبہ
دی آکٹاگون مصر کے نئے انتظامی دارالحکومت (New Administrative Capital) میں قائم کیا گیا ہے، جو قاہرہ سے تقریباً 45 کلومیٹر مشرق میں صحرا کے وسیع علاقے میں تعمیر کیا جا رہا ہے۔
یہ نیا شہر مصر کی تاریخ کے سب سے بڑے شہری ترقیاتی منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
حکومت کے مطابق نئے دارالحکومت میں:
- صدارتی محل
- پارلیمنٹ
- وزارتوں کے دفاتر
- غیر ملکی سفارت خانے
- جدید رہائشی علاقے
- بین الاقوامی کاروباری مراکز
- مالیاتی ضلع
- دنیا کی بلند ترین افریقی عمارت
- گرین ریور پارک
- جدید ٹرانسپورٹ نیٹ ورک
سمیت متعدد بڑے منصوبے شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ 2026 تک حکومت کے بیشتر اہم ادارے مکمل طور پر نئے انتظامی دارالحکومت منتقل ہو جائیں گے۔
57 ارب ڈالر مالیت کا منصوبہ
رپورٹس کے مطابق نئے انتظامی دارالحکومت کی مجموعی تخمینہ لاگت تقریباً 57 ارب امریکی ڈالر (تقریباً 50 ارب یورو) ہے، جسے صدر السیسی کے دور حکومت کا سب سے مہنگا ترقیاتی منصوبہ قرار دیا جاتا ہے۔
مصری حکومت کا مؤقف ہے کہ اس منصوبے سے قاہرہ پر آبادی کا دباؤ کم ہوگا، سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا، لاکھوں نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی اور ملکی معیشت کو طویل المدتی فوائد حاصل ہوں گے۔
معاشی بحران کے دوران تنقید
دوسری جانب اس منصوبے پر شدید تنقید بھی کی جا رہی ہے۔
مصر اس وقت کئی دہائیوں کے بدترین معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔
ملک پر تقریباً 143 ارب یورو کے مساوی غیر ملکی قرضے ہیں، جبکہ بلند افراطِ زر، کرنسی کی قدر میں کمی، بڑھتی بے روزگاری اور مہنگائی نے عام شہریوں کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔
معاشی ماہرین اور اپوزیشن سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو مہنگے ترقیاتی منصوبوں کے بجائے عوامی فلاح، صحت، تعلیم، روزگار اور خوراک کے شعبوں پر زیادہ سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔
تنقید کرنے والوں کے مطابق بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں نے حکومتی مالی بوجھ میں اضافہ کیا ہے، اگرچہ حکومت اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتی۔
حکومت کا مؤقف
مصری حکومت کا کہنا ہے کہ نئے دارالحکومت سمیت بڑے ترقیاتی منصوبے مستقبل کی معاشی ترقی، غیر ملکی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔
حکام کے مطابق یہ منصوبے مصر کو مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے ایک جدید تجارتی، مالیاتی اور انتظامی مرکز میں تبدیل کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
علاقائی سلامتی کی صورتحال
صدر عبدالفتاح السیسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مصر ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں کئی برسوں سے مسلسل تنازعات جاری ہیں۔
انہوں نے غزہ، سوڈان اور لیبیا کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان علاقائی چیلنجز کے پیش نظر مصر کے لیے مضبوط دفاعی صلاحیت برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصری مسلح افواج نہ صرف ملکی سرحدوں کی حفاظت کر رہی ہیں بلکہ خطے میں استحکام کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
السیسی کا دورِ حکومت
عبدالفتاح السیسی نے 2013 میں اس وقت اقتدار سنبھالا تھا جب فوج نے عوامی احتجاج کے بعد اُس وقت کے صدر محمد مرسی کی حکومت کا خاتمہ کر دیا تھا۔
اس کے بعد سے السیسی نے بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر منصوبوں کا آغاز کیا، جن میں نئی شاہراہیں، پل، صنعتی زونز، ریلوے منصوبے، نئی بندرگاہیں، بجلی گھر اور نیا انتظامی دارالحکومت شامل ہیں۔
اگرچہ حکومت ان منصوبوں کو مصر کی جدید ترقی کی بنیاد قرار دیتی ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ بڑھتے قرضوں اور معاشی مشکلات کے تناظر میں ان مہنگے منصوبوں پر مسلسل سوالات اٹھ رہے ہیں۔
مستقبل کی اہمیت
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق "دی آکٹاگون” صرف ایک فوجی ہیڈکوارٹر نہیں بلکہ مصر کی دفاعی حکمت عملی، عسکری جدیدیت اور ریاستی طاقت کی علامت بھی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ مصر کی فوجی کمان کو جدید خطوط پر استوار کرنے، مشترکہ دفاعی آپریشنز کو مؤثر بنانے اور مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ میں مصر کے اسٹریٹجک کردار کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
دوسری جانب اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا مصر اپنی معاشی مشکلات پر قابو پا کر ان بڑے ترقیاتی منصوبوں سے حقیقی اقتصادی فوائد حاصل کر پاتا ہے یا نہیں۔





