
امریکہ بمقابلہ بوسنیا ہرزیگووینا میچ کے دوران امریکی کھلاڑی فولارن بالوگن کو ریفری کی طرف سے ریڈ کارڈ دکھایا جا رہا ہے2026 فیفا ورلڈ کپ | 32 کا راؤنڈ | امریکہ بمقابلہ بوسنیا ہرزیگووینا میچ کے دوران امریکی کھلاڑی فولارن بالوگن کو ریفری کی طرف سے ریڈ کارڈ دکھایا جا رہا ہے
جرمن فٹ بال فیڈریشن (ڈی ایف بی) کے صدر برنڈ نوئنڈورف نے فیفا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی کھلاڑی فولارن بالوگن کی بوسنیا ہرزیگووینا کے خلاف میچ کے دوران ریڈ کارڈ ملنے پر معطلی کو اچانک ختم کیے جانے کے معاملے کی فوری وضاحت پیش کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ تاثر برقرار رہا کہ فیصلے میں سیاسی اثر و رسوخ شامل تھا تو اس سے مقابلے کی ایمانداری اور فیفا کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔
بالوگن کو بوسنیا ہرزیگووینا کے خلاف امریکی ٹیم کی 2-0 فتح کے دوران ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا، جس کے باعث انہیں بیلجیئم کے خلاف راؤنڈ آف 16 میچ کے لیے ایک میچ کی خودکار پابندی کا سامنا تھا۔ تاہم فیفا نے اتوار کو اعلان کیا کہ پابندی ایک سال کے لیے معطل کر دی گئی ہے، جس سے وہ اگلا میچ کھیلنے کے اہل ہو گئے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ مبینہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کے بعد سامنے آیا۔ اگرچہ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر فیفا کے فیصلے کا خیرمقدم کیا، لیکن فیفا اور وائٹ ہاؤس دونوں نے اس مبینہ رابطے پر تاحال کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا۔ مزید یہ کہ فیفا نے بھی ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ بالوگن کی معطلی کو ختم کرنے کی بنیادی وجہ کیا تھی۔



