
آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کا جلوس عراق پہنچ گیا، نجف اور کربلا میں لاکھوں سوگواروں کی شرکت متوقع، خطے میں غیر معمولی سکیورٹی انتظامات
جلوس کے نجف پہنچنے کی اطلاع ملتے ہی شہر کی مرکزی شاہراہیں، امام علیؑ روضہ کے اطراف کے علاقے اور دیگر اہم مقامات سوگواروں سے بھر گئے۔
By Voice of Germany Urdu News Team
نجف / کربلا / تہران: ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کا تاریخی جلوس عراق پہنچ گیا، جہاں مقدس شہر نجف میں ہزاروں افراد نے ان کے تابوت کا استقبال کیا۔ عراقی حکومت نے اس موقع پر غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے، جبکہ ایران اور عراق کی اعلیٰ سیاسی، مذہبی اور عسکری قیادت بھی اس تاریخی موقع پر موجود رہی۔
جنازے کا جلوس منگل کی شام نجف کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پہنچا، جہاں سرکاری اعزاز کے ساتھ تابوت کا استقبال کیا گیا۔ ہوائی اڈے سے جلوس کو سخت حفاظتی حصار میں شہر کے مختلف راستوں سے گزارا گیا، جہاں ہزاروں مرد، خواتین اور نوجوان سڑکوں کے دونوں اطراف جمع ہو کر آخری دیدار کرتے رہے۔
سرکاری استقبال، اعلیٰ قیادت کی شرکت
نجف ایئرپورٹ پر ہونے والی استقبالیہ تقریب میں عراق کے وزیر اعظم علی الزیدی، وفاقی وزراء، پارلیمنٹ کے اراکین، صوبائی حکام، شیعہ مذہبی رہنما، قبائلی عمائدین اور مختلف ممالک سے آنے والے نمائندوں نے شرکت کی۔
ایرانی وفد کی قیادت صدر مسعود پزشکیان نے کی، جبکہ اسلامی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے اعلیٰ کمانڈرز، ایرانی کابینہ کے ارکان، سینئر فوجی حکام اور مذہبی شخصیات بھی وفد کا حصہ تھیں۔
تقریب کے دوران دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے اور مرحوم رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
نجف میں عقیدت مندوں کا ہجوم
جلوس کے نجف پہنچنے کی اطلاع ملتے ہی شہر کی مرکزی شاہراہیں، امام علیؑ روضہ کے اطراف کے علاقے اور دیگر اہم مقامات سوگواروں سے بھر گئے۔
شرکاء نے سیاہ پرچم اٹھا رکھے تھے، جبکہ مذہبی نوحے اور دعائیں مسلسل جاری رہیں۔ کئی افراد نے ایران اور عراق کے قومی پرچم بھی تھام رکھے تھے، جبکہ مختلف مذہبی تنظیموں نے جلوس کے شرکاء کے لیے پانی، خوراک اور طبی سہولیات کا انتظام کیا۔
انتظامیہ کے مطابق زائرین کی بڑی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے اضافی سکیورٹی اہلکار، ایمبولینسیں، فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اور ہنگامی امدادی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔
کربلا کی جانب تاریخی سفر
سرکاری شیڈول کے مطابق جنازے کا جلوس نجف سے مقدس شہر کربلا روانہ ہوگا، جہاں حضرت امام حسینؑ اور حضرت عباسؑ کے روضوں پر خصوصی دعائیہ تقریبات منعقد کی جائیں گی۔
کربلا میں بھی لاکھوں زائرین کی آمد متوقع ہے، جس کے باعث عراقی حکومت نے شہر میں غیر معمولی حفاظتی اقدامات کیے ہیں۔
جلوس کے مختلف مقامات پر مذہبی اجتماعات، قرآن خوانی اور تعزیتی تقریبات منعقد کی جائیں گی، جن میں عراق، ایران، لبنان، پاکستان، افغانستان، بحرین اور دیگر ممالک سے آنے والے زائرین شرکت کریں گے۔
تدفین کے لیے تابوت واپس ایران لے جایا جائے گا
سرکاری ذرائع کے مطابق عراق میں مذہبی رسومات مکمل ہونے کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای کے تابوت کو دوبارہ ایران منتقل کیا جائے گا، جہاں ان کی تدفین سرکاری اعزاز کے ساتھ کی جائے گی۔
تدفین کی تقریب میں ایرانی ریاست کے اعلیٰ عہدیداروں، مذہبی قیادت، عسکری حکام اور مختلف ممالک کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔
خطے میں کشیدہ صورتحال کے باوجود رسومات جاری
یہ تمام تقریبات ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر چکی ہے۔
حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز میں بحری کشیدگی، امریکی فضائی حملے، ایرانی جوابی کارروائیاں اور سفارتی بحران کے باعث پورا مشرقِ وسطیٰ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
عراقی حکام نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ موجودہ حالات کے باعث سکیورٹی خطرات بڑھ سکتے ہیں، اسی لیے نجف، کربلا، بغداد اور ایران سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں ہزاروں اضافی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
عراق اور ایران کے درمیان قریبی تعاون
عراقی حکومت نے ایرانی حکام کے ساتھ مل کر پورے جلوس کی نگرانی کے لیے مشترکہ کمانڈ سینٹر قائم کیا ہے۔
اس کے تحت:
- فضائی نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔
- داخلی و خارجی راستوں پر سخت چیکنگ جاری ہے۔
- زائرین کی آمد و رفت کے لیے خصوصی ٹریفک پلان نافذ کیا گیا ہے۔
- طبی مراکز اور ہنگامی امدادی یونٹس کو الرٹ رکھا گیا ہے۔
- ڈرون نگرانی اور جدید سکیورٹی نظام بھی فعال کر دیا گیا ہے۔
عالمی توجہ کا مرکز
آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کی تقریبات پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اس تاریخی جلوس کو مسلسل نشر کر رہے ہیں، جبکہ مختلف ممالک نے ایران اور عراق میں اپنے سفارتی عملے کو سکیورٹی ہدایات جاری کی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صرف ایک مذہبی یا قومی تقریب نہیں بلکہ موجودہ علاقائی حالات میں ایک اہم سیاسی علامت بھی بن چکی ہے، جس پر عالمی برادری گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
عوامی جذبات اور مذہبی عقیدت
نجف اور کربلا میں موجود سوگواروں نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی مذہبی اور سیاسی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔
کئی افراد کا کہنا تھا کہ وہ ایران اور عراق کے درمیان مذہبی اور تاریخی تعلقات کے اظہار کے لیے اس جلوس میں شریک ہوئے ہیں، جبکہ مختلف مذہبی تنظیموں نے اتحاد، امن اور خطے میں استحکام کی دعا بھی کی۔
نتیجہ
آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کا عراق پہنچنا نہ صرف ایک اہم مذہبی واقعہ ہے بلکہ موجودہ علاقائی حالات میں اس کی سیاسی اور سفارتی اہمیت بھی غیر معمولی ہے۔ نجف اور کربلا میں لاکھوں سوگواروں کی متوقع شرکت، ایران اور عراق کی اعلیٰ قیادت کی موجودگی اور سخت سکیورٹی انتظامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ یہ تقریب پورے خطے کی توجہ کا مرکز بن چکی ہے۔ عراق میں مذہبی رسومات کی تکمیل کے بعد تابوت کو ایران واپس لے جایا جائے گا، جہاں سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین کی جائے گی۔




