
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلام آباد: وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمیٹ سپورٹ لیوی میں حالیہ اضافے کے بعد ملک میں ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔ ایک طرف حکومت نے پٹرول پر عائد کلائمیٹ سپورٹ لیوی کو بڑھا کر فی لیٹر پانچ روپے کر دیا ہے، جو ایک ہفتہ قبل عائد کیے گئے محصول سے دگنی ہے، جبکہ دوسری جانب وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری کے ترقیاتی اور انتظامی اخراجات کے لیے مختص بجٹ میں نمایاں کمی کر دی گئی ہے۔

اس فیصلے نے نہ صرف ماہرینِ ماحولیات بلکہ ماہرینِ معیشت، قانون دانوں، سول سوسائٹی اور عام شہریوں میں بھی کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر عوام سے ماحولیات کے تحفظ کے نام پر اضافی ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے تو کیا یہ رقم واقعی موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، جنگلات کے تحفظ، سیلاب اور شدید گرمی جیسے خطرات سے بچاؤ، آلودگی میں کمی اور ماحول دوست منصوبوں پر خرچ کی جائے گی یا پھر یہ بھی حکومت کی عمومی آمدن کا حصہ بن جائے گی؟
کلائمیٹ سپورٹ لیوی کیا ہے؟
کلائمیٹ سپورٹ لیوی دراصل ایک ایسا مالیاتی محصول ہے جو حکومت ماحولیات کے تحفظ، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے اور گرین انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے وسائل اکٹھے کرنے کی غرض سے ایندھن پر عائد کرتی ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے اضافی مالی وسائل پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ ماحول دوست منصوبوں پر سرمایہ کاری کی جا سکے۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ صرف ٹیکس عائد کرنا کافی نہیں بلکہ اس کے استعمال کا شفاف اور قابلِ احتساب نظام بھی ہونا چاہیے۔
بجٹ میں کمی نے بحث کو مزید تیز کر دیا
کلائمیٹ سپورٹ لیوی میں اضافے کے ساتھ ہی وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری کے بجٹ میں کمی نے عوامی خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ماحولیات کے لیے مخصوص وزارت کے مالی وسائل کم کر رہی ہے تو پھر عوام سے حاصل ہونے والی اضافی رقم کہاں استعمال ہوگی؟ کیا اس کے لیے کوئی علیحدہ فنڈ قائم کیا گیا ہے؟ کیا پارلیمنٹ یا عوام کو اس کی تفصیلات فراہم کی جائیں گی؟
یہ سوالات اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ پاکستان گزشتہ چند برسوں سے موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات، غیر معمولی بارشوں، تباہ کن سیلاب، طویل ہیٹ ویوز، پانی کی قلت، جنگلات کی کٹائی اور فضائی آلودگی جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔
شہری بھی فکرمند
یہ بحث صرف ماہرین تک محدود نہیں بلکہ عام شہری بھی اپنے اردگرد ماحول میں آنے والی تبدیلیوں کو محسوس کر رہے ہیں۔
نوجوان شہری فہد بشیر کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں جنگلات کی تیزی سے کٹائی ایک تشویشناک حقیقت بن چکی ہے۔
ان کے مطابق:
"ہم نے بچپن سے سنا تھا کہ شمالی اور پہاڑی علاقوں میں گھنے جنگلات ہوتے تھے، لیکن آج بہت سے پہاڑ تقریباً بنجر نظر آتے ہیں۔ جنگلات صرف قدرتی حسن ہی نہیں بلکہ صاف ہوا، بہتر بارشوں اور متوازن ماحول کے لیے بھی ضروری ہیں۔”
فہد کا کہنا ہے کہ اگرچہ عام شہری پالیسی سازی میں براہِ راست کردار ادا نہیں کر سکتے، لیکن حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ آنے والی نسلوں کے لیے بہتر ماحول چھوڑنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔
شفافیت سب سے بڑا سوال
ماحولیاتی امور کے معروف ماہر نصیر میمن کے مطابق اصل مسئلہ ٹیکس لینے یا نہ لینے کا نہیں بلکہ اس کے استعمال کی شفافیت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب حکومت کسی محصول کو "کلائمیٹ سپورٹ لیوی” کا نام دیتی ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ عوام کو واضح طور پر بتائے کہ کتنی رقم جمع ہوئی، کس منصوبے پر خرچ ہوئی اور اس کے کیا نتائج حاصل ہوئے۔
ان کے بقول:
"اس قسم کی لیوی اسی وقت مؤثر ہوتی ہے جب اس کے ساتھ واضح منصوبہ، قابلِ پیمائش اہداف اور شفاف احتسابی نظام موجود ہو۔ اگر یہ رقم عام حکومتی اخراجات میں شامل ہو جائے تو اس کا اصل مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے۔”
انہوں نے زور دیا کہ عوام کا اعتماد اسی وقت بحال ہو سکتا ہے جب حکومت باقاعدگی سے اس فنڈ کی آمدن اور اخراجات کی تفصیلات جاری کرے۔
کن شعبوں پر خرچ ہو سکتی ہے یہ رقم؟
نصیر میمن کے مطابق اگر حکومت مؤثر منصوبہ بندی کرے تو کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے حاصل ہونے والے وسائل کو متعدد اہم شعبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے، جن میں:
- موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ جدید زرعی نظام کی ترقی۔
- جنگلات کی بحالی اور بڑے پیمانے پر شجرکاری۔
- دریا، آبی ذخائر اور قدرتی وسائل کا تحفظ۔
- ہیٹ ویو سے نمٹنے کے لیے شہری منصوبہ بندی۔
- سیلاب سے بچاؤ کے انفراسٹرکچر کی تعمیر۔
- ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں کی استعداد کار میں اضافہ۔
- ماحول دوست اسکولوں، سرکاری عمارتوں اور گرین انفراسٹرکچر کی تعمیر۔
- ماحولیاتی آگاہی مہمات اور تعلیمی پروگرام۔
- فضائی آلودگی میں کمی اور صاف توانائی کے منصوبے۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں یہ سرمایہ کاری صرف ماحول ہی نہیں بلکہ معیشت، صحت اور زرعی پیداوار کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے خطرات
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان پہلے ہی دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
شدید گرمی کی لہریں، بے موسم بارشیں، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، پانی کی قلت، جنگلات کی کٹائی اور فضائی آلودگی جیسے مسائل ہر سال مزید سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔

نصیر میمن کے مطابق اگرچہ عالمی سطح پر ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج پر پاکستان کا محدود اثر ہے، تاہم مقامی سطح پر جنگلات کا تحفظ، شجرکاری، بہتر شہری منصوبہ بندی اور ماحول دوست پالیسیوں کے ذریعے ان اثرات کی شدت کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
ماحولیات اولین قومی ترجیح ہونی چاہیے
ماحولیاتی قانون کے ماہر رافع عالم کا کہنا ہے کہ ماحولیات کو اب محض ایک ترقیاتی شعبہ نہیں بلکہ قومی سلامتی اور انسانی بقا کے مسئلے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر درختوں کی کٹائی، فضائی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو آئندہ نسلوں کو صحت، پانی، خوراک اور رہائش جیسے بنیادی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ان کے مطابق حکومت کو شجرکاری، صاف توانائی، شہری گرین اسپیس، پبلک ٹرانسپورٹ اور ماحول دوست ترقیاتی منصوبوں پر زیادہ سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔
اصل مسئلہ صرف رقم نہیں، مؤثر استعمال بھی ہے
ماہرِ معیشت ڈاکٹر ندیم الحق کے مطابق اصل بحث صرف بجٹ کے حجم کی نہیں بلکہ سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ماحولیات سمیت کئی شعبوں میں بجٹ تو مختص کیا جاتا ہے، لیکن اکثر وسائل عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچانے کے بجائے انتظامی اخراجات یا غیر مؤثر منصوبوں پر صرف ہو جاتے ہیں۔
ان کے مطابق ماحولیات کا تحفظ بڑی حد تک صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری بھی ہے، اس لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر رابطہ اور واضح ذمہ داریوں کا تعین ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ پاکستان کو ماحولیات پر سرمایہ کاری جاری رکھنی چاہیے، لیکن عالمی موسمیاتی تبدیلی جیسے بڑے مسئلے سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون، جدید ٹیکنالوجی اور موسمیاتی فنڈنگ بھی ناگزیر ہے۔
عوامی اعتماد کی بحالی کیسے ممکن ہے؟
پالیسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کلائمیٹ سپورٹ لیوی کو مؤثر اور قابلِ قبول بنانا چاہتی ہے تو اسے صرف ٹیکس وصول کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس کے لیے ایک علیحدہ اور شفاف کلائمیٹ فنڈ قائم کرنا چاہیے، جس کی سالانہ آڈٹ رپورٹ، منصوبوں کی تفصیلات اور اخراجات کا مکمل ریکارڈ عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔
ان کے مطابق جب شہری یہ دیکھیں گے کہ ان کی ادا کی گئی رقم سے جنگلات میں اضافہ ہو رہا ہے، سیلاب سے بچاؤ کے منصوبے مکمل ہو رہے ہیں، شہروں میں درخت لگ رہے ہیں، صاف توانائی کو فروغ مل رہا ہے اور موسمیاتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، تو نہ صرف عوام کا اعتماد بڑھے گا بلکہ ماحولیات کے تحفظ میں اجتماعی شراکت داری بھی مضبوط ہوگی۔
پاکستان جیسے موسمیاتی خطرات سے دوچار ملک میں کلائمیٹ سپورٹ لیوی محض ایک مالیاتی اقدام نہیں بلکہ ایک اہم قومی ذمہ داری بن سکتی ہے، بشرطیکہ اس کے نفاذ، استعمال اور نگرانی میں شفافیت، احتساب اور واضح حکمت عملی کو یقینی بنایا جائے۔




