
. . .”Enough is Enough” اور نئی سیاسی بساط ؟؟…….تحریر: پیر مشتاق رضوی
میاں محمد نواز شریف کو عمرانیہ بیانیہ نے پہلے "چور" اور اب اپنوں کی حکومتی پالیسیوں نے وہ "ھیرو"سے "زیرو"بنا دیۓ گئے
2024ء کے عام انتخابات کو تیسراسال شروع ہے۔ وفاق میں شہباز شریف اور پنجاب میں مریم نواز کی حکومتیں اپنی مدت کا دو سال پورا کر چکی ہیں لیکن ملک اب بھی وہیں کھڑا ہے جہاں فروری 2024ء میں تھا۔ کیا قومی و صوبائی حکومتیں عوام کو ریلیف دے سکیں؟ مسلم لیگ ن کو ملا ہوا "لیول پلے فیلڈ” کوئی نتیجہ دے سکا؟ اور سب سے اہم سوالات ہیں کیا اسٹیبلشمنٹ اب "Enough is Enough” کہہ کر کوئی نیا فیصلہ کرنے جا رہی ہے؟ ملک میں جاری معروضی گذشتہ نومبر 2023ء سے شروع ہوتی ہے جب نواز شریف چار سال بعد وطن واپس آئے۔ ایون فیلڈ اور العزیزیہ کیسز میں ریلیف ملا، نااہلی ختم ہوئی اور ن لیگ کو 2024ء کے انتخابات میں کھلا میدان دیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ن لیگ پنجاب کی سب سے بڑی جماعت بنائی گئی اور مرکز کے ساتھ پنجاب میں بھی حکومت بنادی گئی۔ لیکن یہ جیت بظاہر "آرٹیفیشل ” تھی۔ لاہور کی این اے-130 سمیت کئی نشستوں پر مقابلہ کانٹے کا رہا اور فارم-45 کا تنازعہ آج بھی عدالتوں اور سوشل میڈیا پر زندہ ہے۔حکومت میں آنے کے بعد خصوصا” مسلم لیگ ن کا اصل امتحان شروع ہوا۔ میاں شہباز شریف کے پاس وفاقی حکومت ہے، محترمہ مریم نواز کے پاس ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کی حکومت ہے لیکن عوام کے گھروں میں چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں مہنگائی، بھاری بھرکم بجلی کے بل،پٹرولیم کی ھوشربا قیمتیں،بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور IMF کی شرائط نے عوام کو ذراسکون نہیں لینے دیا۔ حکومت کی طرف "ریلیف” ابھی تک پریس ریلیز سے آگے نہیں بڑھ سکا۔
دوسری طرف بیانیے کا محاذ ہے۔ ن لیگ ،پی ٹی آئی کی مقبولیت اور محاذ آرائی کی سیاست کو ڈیلیٹ کرنے میں ناکام رہی۔ جیل، مقدمات اور پابندیوں کے باوجود پی ٹی آئی کا ڈیجیٹل بیانیہ آج بھی سب سے تیز ہے۔ نتیجہ صاف ہے اقتدار ن لیگ کے پاس ہے، لیکن مقبولیت کا گراف نیچے جا رہا ہے۔میاں محمد نواز شریف کو عمرانیہ بیانیہ نے پہلے "چور” اور اب اپنوں کی حکومتی پالیسیوں نے وہ "ھیرو”سے "زیرو”بنا دیۓ گئے جبکہ جب کوئی حکومت مکمل مینڈیٹ کے بغیر بنے تو اسے "ہائبرڈ” کہا جاتا ہے۔ اس ماڈل کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ حکومت کی ہر ناکامی کا الزام "سہولت کاروں” پر بھی آ گرتا ہے۔
آج اسلام آباد اور لاہور کے سیاسی کوریڈورز میں یہی بحث ہے کہ موجودہ سیٹ اپ اسٹیبلشمنٹ کی بدنامی میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ عوام سیدھا سوال کر رہا ہے: "کیا یہ ہائبرڈ ماڈل چل سکا؟” جب جواب "نہیں” میں آتا ہے تو پھر اگلا سوال خود بخود جنم لیتا ہے: "تو پھر اب کیا؟ "Enough is Enoug اس کے ممکنہ دو راستے ہیں ۔اسٹیبلشمنٹ کا 2023ء سے یہی آفیشل موقف ہےکہ”اب سیاستدانوں نے خود ملک چلانا ہے فوج کا کام سیاست نہیں”۔ لیکن زمینی حقائق پریشر ڈال رہے ہیں۔کہ ملک میں بدستور معاشی بحران، دہشتگردی اور سیاسی عدم استحکام ہےایسے میں "Enough is Enough” کے ماہرین کے نزدیک صرف دو راستے ہیں۔ پہلا راستہ مذاکرات کا ہے۔ تمام بڑی جماعتوں کو ایک میز پر بٹھا کر "چارٹر آف اکانومی” اور آئندہ شفاف انتخابات پر اتفاق کرا دیا جائے۔ گالی گلوچ بند ہو اور کام شروع ہو۔دوسرا راستہ فریش مینڈیٹ کا ہے۔ اگر 2026ءکے آخر تک حکومتیں معیشت میں بہتری نہ دکھا سکیں تو عوام سے نیا مینڈیٹ مانگ لیا جائے۔ 2026ء میں مارشل لاء کا آپشن نہ ہونے کے برابر ہے۔ دنیا اور معیشت دونوں اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ اس لیے فیصلہ غالباً انہی دو آپشنز میں سےایک ہوگا اسی نکتے پر پیپلز پارٹی اور آصف زرداری کا نام سب سے آگے آتا ہے۔ زرداری کو "مفاہمت کا بادشاہ” کہا جاتا ہے۔ 2008ء سے 2013ء تک انہوں نے مخالفین کو ساتھ بٹھا کر حکومت چلائی اور 5 سال پورے کیے۔سوال یہ ہے کہ کیا پیپلز پارٹی اب اسٹیبلشمنٹ کو "کور” دے کر پی ٹی آئی کی محاذ آرائی والی سیاست کا توڑ بن سکتی ہے؟
تین وجوہات اس امکان کو تقویت دیتی ہیں۔ اول، پیپلز پارٹی کا بیانیہ "جھگڑا نہیں، حل چاہیے” ہے۔ یہ پی ٹی آئی کے "انقلاب” اور ن لیگ کے "بدلے” سے مختلف ہے۔ دوم، سندھ پیپلز پارٹی کا مضبوط سیاسی قلعہ ہے جہاں پی ٹی آئی اور ن لیگ کمزور ہیں، اس لیے پیپلزپارٹی پر "سہولت کار” کا ٹیگ کم چپکتا ہے۔ سوم، پیپلز پارٹی کی تاریخ ہے کہ وہ "نظام کے اندر رہ کر ریلیف” دینے پر یقین رکھتی ہے۔لیکن رسک بھی بڑا ہے۔ اگر پیپلز پارٹی کو "اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم” کہا گیا تو نوجوان ووٹر دور ہو جائے گا۔ اور اگر مفاہمت کے بعد بھی مہنگائی نہ گری تو عوام کا جملہ یہی ہوگا: "سب ملے ہوئے ہیں”۔
موجودہ سیاسی منظرنامہ میں پی ٹی آئی کی سیکنڈ کمانڈ کے لیے دروازے بند ہیں۔ "پہلے 9 مئی پر معافی، پھر بات” والا ڈیڈ لاک ہے۔ اسی خلا کو پیپلز پارٹی پُر کرنا چاہتی ہے۔ سیاسی حلقوں میں چلنے والا تجزیہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے وہ الیکٹبلز جو سیاست بچانا چاہتے ہیں، سیاسی تحفظ کے لیے پیپلز پارٹی میں اکامڈیٹ ہو سکتے ہیں۔ یہ 2002ء اور 2008ء کا آزمودہ فارمولا ہے۔زرداری کا اصل ٹارگٹ جنوبی پنجاب ہے۔ ن لیگ وہاں کمزور ہوچکی ہے۔ "سرائیکی صوبہ” کا نعرہ اور مقامی بااثر شخصیات کو ساتھ ملا کر پیپلز پارٹی وہاں "کلین سوپ” کی پوزیشن میں آنا چاہتی ہے۔اس کے ساتھ تحریک استحکام پاکستان کے جہانگیر ترین اور علیم خان گروپ کو بھی اسی پلان کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں "استحکام پارٹی” کو آگے لانے کے اشارے بھی اسی حکمت عملی کی طرف جاتے ہیں۔ جبکہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں میں انتخابی معرکے سر کرنے کے بعد زرداری جنوبی پنجاب کا رخ کریں گے اس سلسلے پیپلز پارٹی کا”انڈر گراؤنڈ ورک "جاری ہے 2028 ءکا ممکنہ فارمولا یہ بن سکتا ہے کو پیپلز پارٹی کے جنوبی پنجاب کے الیکٹبلز + استحکام پارٹی کا گروپ اور آزاد ملکر پنجاب میں حکومت گرا بھی سکتے اور حکومت بنا بھی سکتے ہیں اگر ایسا ہوا تو ن لیگ پنجاب سے باہر ہوگی لیکن شریف برادران کو باعزت ایگزٹ دیا جاسکتا ہے اور پی ٹی آئی اندرونی طور پر تقسیم ہو جائے گی۔آخر میں بات "نتیجے” کی ہے کہ سیاست اب "بیانیے” سے نکل کر "نتیجے” کی طرف جا رہی ہے۔ ن لیگ کے لیے چیلنج اقتدار بچانے کے ساتھ مہنگائی کم کرنا ہے۔ پی ٹی آئی کے لیے چیلنج مقبولیت بچانے کے ساتھ مذاکرات کی گنجائش نکالنا ہے۔زرداری "مفاہمت” کر کے دوبارو ملک کے "کنگ میکر "کا ٹائٹل حاصل کر لیں گے۔اور اسٹیبلشمنٹ کے لیے چیلنج ملک کو چلانا ہے لیکن کسی ایک کا "سہولت کار” نہ کہلانا۔اگلے 6 سے 12 ماہ فیصلہ کن ہیں۔ اگر معیشت نے سانس لیا تو حکومتیں چل جائیں گی۔ اگر نہ لیا تو "Enough is Enough” کا فیصلہ یہی ہوگا: "اب لڑائی بند کرو اور ملک چلاؤ”۔اور اگر پیپلز پارٹی نے زرداری کی حکمت عملی سے جنوبی پنجاب میں کامیابی لے لی تو یقین کریں پاکستان کی سیاست کا نقشہ ہمیشہ کے لیے بدل جائے گا۔یہ سوال آخر میں عوام کے لیے چھوڑ جاتا ہوں: آپ چاہتے ہیں کہ سیاستدان آپس میں لڑیں یا مل کر مہنگائی ختم کریں؟تاریخ گواہ ہے کہ جب عوام دوسرا آپشن چنتے ہیں تو زرداری جیسے سیاستدان موقع پا ہی جاتے ہیں۔۔۔۔۔


