پاکستاناہم خبریں

آزاد جموں و کشمیر میں امن و امان خراب کرنے کے مقدمات دوبارہ فعال، حکومت کا قانون شکنی پر زیرو ٹالرنس کا اعلان

حکام کا کہنا ہے کہ جن مقدمات میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، پولیس اور انتظامیہ پر حملوں، جلاؤ گھیراؤ، اشتعال انگیزی اور دیگر جرائم کے الزامات شامل ہیں، انہیں دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر حکومت نے امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور قانون کی عملداری یقینی بنانے کے لیے اہم اقدامات کرتے ہوئے سابق احتجاجی واقعات سے متعلق مقدمات دوبارہ فعال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ، ریاستی اداروں پر حملوں اور امن عامہ میں خلل ڈالنے کے الزامات سے متعلق مقدمات پر دوبارہ قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

حکومت آزاد کشمیر نے اعلان کیا ہے کہ قانون شکنی، تشدد اور عوامی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف "زیرو ٹالرنس” کی پالیسی اختیار کی جائے گی اور تمام مقدمات کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

مقدمات کی واپسی کا نوٹیفکیشن منسوخ

سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت نے سابقہ مقدمات کی واپسی سے متعلق جاری کیا گیا نوٹیفکیشن منسوخ کر دیا ہے، جس کے بعد پولیس نے دوبارہ تحقیقات اور قانونی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ جن مقدمات میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، پولیس اور انتظامیہ پر حملوں، جلاؤ گھیراؤ، اشتعال انگیزی اور دیگر جرائم کے الزامات شامل ہیں، انہیں دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔

میرپور اور ڈڈیال میں کارروائیاں

میرپور پولیس کے مطابق نوٹیفکیشن کی منسوخی کے بعد نامزد ملزمان کی گرفتاریوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔

پولیس حکام نے بتایا کہ تھانہ ڈڈیال میں 2024 کے دوران اسسٹنٹ کمشنر اور پولیس اہلکاروں پر مبینہ حملے کے مقدمے کو بھی دوبارہ کھول دیا گیا ہے، جس میں تفتیش آگے بڑھائی جا رہی ہے۔

پولیس کے مطابق مقدمات میں نامزد متعدد افراد کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

متعدد گرفتاریاں

آزاد جموں و کشمیر پولیس کے مطابق اب تک مقدمات میں نامزد کئی افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد میں ظہیر نامی شخص بھی شامل ہے، جسے حکام ایک مرکزی ملزم کے قریبی ساتھی کے طور پر بیان کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مزید پانچ افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے، جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

حکام کے مطابق گرفتار افراد سے تفتیش جاری ہے تاکہ احتجاجی واقعات میں مبینہ طور پر ملوث دیگر افراد کی نشاندہی کی جا سکے۔

امن و امان کی بحالی پر زور

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کی اولین ترجیح آزاد جموں و کشمیر میں امن و امان، عوام کے جان و مال کا تحفظ اور ریاستی اداروں کی عملداری کو یقینی بنانا ہے۔

ان کے مطابق کسی بھی فرد یا گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے، تشدد، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے یا ریاستی اداروں پر حملے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اور ایسے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ماہرین کی رائے

بعض قانونی اور سکیورٹی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر احتجاج کے دوران تشدد، توڑ پھوڑ، آتش زنی یا سرکاری اہلکاروں پر حملوں کے شواہد موجود ہوں تو قانون کے مطابق کارروائی ریاست کی ذمہ داری ہے۔

ان کے مطابق ایسے مقدمات کی شفاف تحقیقات، عدالتی کارروائی اور قانون کے مطابق فیصلے ہی انصاف اور امن و امان کے قیام میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ فریق کا مؤقف

اس خبر میں شامل الزامات اور حکومتی مؤقف سرکاری بیانات اور پولیس کی معلومات پر مبنی ہیں۔

اس خبر کی اشاعت تک ان مقدمات میں نامزد افراد یا متعلقہ ایکشن کمیٹی کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ صحافتی اصولوں کے مطابق اگر ان کا ردعمل یا وضاحت سامنے آتی ہے تو اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ تمام متعلقہ فریقوں کا مؤقف قارئین تک پہنچ سکے۔

تحقیقات جاری

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقدمات کی تحقیقات جاری ہیں اور تمام دستیاب شواہد کی روشنی میں قانونی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔ حکام کے مطابق قانون کی خلاف ورزی میں ملوث ہر شخص کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ بے گناہ افراد کے حقوق کا تحفظ بھی قانون کے مطابق یقینی بنایا جائے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button