
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
راولاکوٹ: آزاد جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کے مرکزی شہر راولاکوٹ میں گوئی نالہ، افسر مارکیٹ کے مقام پر پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد آزاد جموں و کشمیر پولیس نے تفصیلی پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار کو مبینہ طور پر مسافر گاڑی سے زبردستی اتار کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ واقعے کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اس انداز میں پھیلائی گئی جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف گمراہ کن تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اسلام آباد پولیس اہلکار کو مبینہ طور پر گاڑی سے اتار کر تشدد
آزاد جموں و کشمیر پولیس کے مطابق 14 جولائی کو گوئی نالہ، افسر مارکیٹ، راولاکوٹ میں اسلام آباد پولیس کے ملازم احتشام مسیح اپنی چھٹیاں گزارنے کے بعد واپس اسلام آباد جا رہے تھے کہ راستے میں انہیں مبینہ طور پر مسافر گاڑی سے زبردستی نیچے اتارا گیا۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اہلکار کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ اس دوران موقع پر موجود افراد نے واقعے کی ویڈیو بھی ریکارڈ کی۔
بھارتی کرنسی تھما کر ویڈیو بنانے کا الزام
پولیس پریس ریلیز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تشدد کے بعد متاثرہ اہلکار کے ہاتھ میں مبینہ طور پر بھارتی کرنسی رکھ کر ایک ویڈیو بنائی گئی، جسے بعد ازاں مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پھیلایا گیا۔
پولیس کے مطابق اس ویڈیو کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف منفی اور گمراہ کن تاثر پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویڈیو کی صداقت، اس کی تیاری اور اس کے پس منظر کا فرانزک اور تکنیکی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ تمام حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
تحقیقات کا دائرہ وسیع
آزاد جموں و کشمیر پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات کئی پہلوؤں سے جاری ہیں۔
تحقیقاتی ٹیمیں درج ذیل امور کا جائزہ لے رہی ہیں:
- متاثرہ اہلکار کا بیان
- جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد
- عینی شاہدین کے بیانات
- مسافر گاڑی میں موجود دیگر افراد سے معلومات
- ویڈیو بنانے والے افراد کی شناخت
- ویڈیو کو ایڈٹ اور سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والے اکاؤنٹس
- ڈیجیٹل اور فرانزک تجزیہ
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
پولیس کا مؤقف
آزاد جموں و کشمیر پولیس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کسی بھی شخص یا گروہ کو تشدد، زبردستی، شرانگیزی، جھوٹی معلومات یا جعلی مواد کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے اور ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
پولیس کے مطابق قانون کی عملداری ہر صورت برقرار رکھی جائے گی اور تمام شہریوں کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے حقوق استعمال کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔
حالیہ کشیدہ صورتحال میں تحمل کا مظاہرہ
پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ حالیہ کشیدہ حالات کے دوران آزاد جموں و کشمیر پولیس، دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی فورسز نے انتہائی تحمل، صبر اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مختلف مقامات پر اہلکاروں کے زخمی اور شہید ہونے کے واقعات کے باوجود عوام کے جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دی گئی اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے قانون کے مطابق اقدامات کیے گئے۔
سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ معلومات سے گریز کی اپیل
آزاد جموں و کشمیر پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ، ایڈٹ شدہ یا سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کی جانے والی ویڈیوز اور معلومات کو بغیر تصدیق کے آگے نہ پھیلائیں۔
پولیس کے مطابق غلط معلومات اور جعلی مواد عوام میں بے چینی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ جاری تحقیقات کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
شہریوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی کے پاس واقعے سے متعلق مستند معلومات، ویڈیوز یا دیگر شواہد موجود ہوں تو وہ فوری طور پر متعلقہ پولیس حکام سے رابطہ کریں تاکہ تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔
قانونی کارروائی کا عندیہ
پولیس نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد پولیس اہلکار پر مبینہ تشدد، ویڈیو بنانے، اس کی ترمیم (ایڈیٹنگ) اور سوشل میڈیا پر پھیلانے میں ملوث افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ شواہد مکمل ہونے اور تحقیقات کے بعد قانون کے مطابق مقدمات درج کیے جائیں گے اور ذمہ دار افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
عوام سے تعاون کی اپیل
آزاد جموں و کشمیر پولیس نے عوام سے امن و امان برقرار رکھنے میں تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری افواہوں سے گریز کریں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی یا قانون شکنی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں تاکہ علاقے میں امن و استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔



