اداریہ

خوراک کی قلت اور خود کفالت ۔ایک بڑا چیلنج !!……پیر مشتاق رضوی

ہر تین سال بعد آنے والا سیلاب یا خشک سالی لاکھوں ایکڑ فصل تباہ کر دیتا ہے۔ 2022ءکے سیلاب نے اکیلے 4.3 ارب ڈالر کی فصلوں کو نقصان پہنچایا اور راجن پور جیسے رودکوہی علاقے ہر سال اس کی زد میں رہتے ہیں

پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن بدقسمتی سے آج بھی خوراک کے معاملے میں مکمل طور پر خود کفیل نہیں بن سکا۔ ہم گندم، چاول اور گنا وافر مقدار میں پیدا کرتے ہیں مگر خوردنی تیل کا 75 فیصد، دالیں 40 فیصد اور دودھ کی بڑی مقدار باہر سے منگواتے ہیں۔ ہر سال صرف خوردنی تیل کی درآمد پر 3 ارب ڈالر خرچ ہو جاتے ہیں۔ یہ صورتحال اس لیے ہے کہ ہم نے اپنی زرعی پالیسی کو عوام کی روزمرہ ضرورت کے بجائے ایکسپورٹ اور ڈالر کمانے سے جوڑ دیا۔ دوسری طرف پانی کا شدید بحران ہے۔ زراعت ملک کا 90 فیصد پانی استعمال کرتی ہے لیکن نہروں اور کھیتوں میں 60 فیصد پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ ڈرپ اریگیشن اور جدید طریقے صرف 2 فیصد رقبے پر ہیں جبکہ باقی زمین آج بھی پرانے طریقے سے سیراب ہو رہی ہے۔ کسان کی اوسط زمین صرف 5 ایکڑ ہے جس پر ٹریکٹر، بیج اور کھاد کی لاگت اتنی زیادہ ہے کہ وہ قرض میں ڈوب جاتا ہے اور فصل سستے داموں بیچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ تحقیق اور سائنس کھیت تک نہیں پہنچ پاتی۔ ہماری زرعی یونیورسٹیوں کی ریسرچ آج بھی کسان کی دہلیز پر نہیں پہنچی اس لیے 70 فیصد کسان 40 سال پرانے بیج اور طریقے استعمال کر رہے ہیں جس سے پیداوار کم ہو رہی ہے۔اس کے ساتھ ہی ملک میں خوراک کا 40 فیصد حصہ فارم سے منڈی تک پہنچنے سے پہلے ضائع ہو جاتا ہے۔ کولڈ سٹور، بہتر سڑکوں اور جدید مارکیٹنگ کے نظام کے نہ ہونے کی وجہ سے کسان سے 40 روپے کلو لیا جانے والا ٹماٹر شہر میں 200 روپے میں بکتا ہے اور درمیان میں کئی بیوپاری منافع لے جاتے ہیں۔ ہر نئی حکومت کے ساتھ زرعی پالیسی بدل جاتی ہے۔کبھی گندم ایکسپورٹ ہوتی ہے تو کبھی امپورٹ۔ کسان کو اگلے سال کی کوئی ضمانت نہیں ملتی اس لیے وہ رسک نہیں لیتا۔ موسمیاتی تبدیلی نے بھی زراعت کو شدید متاثر کیا ہے۔ ہر تین سال بعد آنے والا سیلاب یا خشک سالی لاکھوں ایکڑ فصل تباہ کر دیتا ہے۔ 2022ءکے سیلاب نے اکیلے 4.3 ارب ڈالر کی فصلوں کو نقصان پہنچایا اور راجن پور جیسے رودکوہی علاقے ہر سال اس کی زد میں رہتے ہیں۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے خوراک کو کبھی قومی سلامتی کا مسئلہ نہیں سمجھا۔ خوراک کے لیے کوئی مستقل حکمت عملی موجود نہیں۔اس بحران سے نکلنے کے لیے اب فوری اور جامع اقدامات کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے ہمیں خوردنی تیل اور دالوں میں خود کفیل ہونا ہوگا۔سرسوں، کینولا، سورج مکھی اور مسور کی کاشت پر 50 فیصد سبسڈی دی جائے تاکہ 3 ارب ڈالر کی درآمد بچائی جا سکے۔ پانی بچانے کے لیے ڈرپ اریگیشن اور لیزر لینڈ لیولنگ پر 70 فیصد سبسڈی دی جائے جس سے پانی 60 فیصد بچے گا اور پیداوار 30 فیصد بڑھے گی۔ راجن پور جیسے علاقوں میں واٹر سپریڈنگ کے ذریعے سیلابی پانی کو ذخیرہ کر کے 5 لاکھ ایکڑ نئی زمین قابل کاشت بنائی جا سکتی ہے۔ ہر یونین کونسل میں ایک زرعی گریجویٹ تعینات کیا جائے جو نئے بیج اور جدید طریقے کسان تک پہنچائے۔ خوراک کے ضیاع کو روکنے کے لیے ہر تحصیل میں ایک سولر کولڈ سٹور بنایاجائےاور”سانجھی سبزی” جیسے پروگرام کے تحت حکومت یا کمپنیاں کسان سےبراہ راست خریداری کریں تاکہ بیوپاری کا استحصال ختم ہو۔انسانی صحت کے لیے خوراک کا معیار بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔ ہر گھر میں کچن گارڈن کے لیے مفت بیج اور رہنمائی فراہم کی جائے۔ تمام پرائمری سکولوں میں روزانہ ایک گلاس دودھ، ایک انڈا اور ایک روٹی کا پروگرام شروع کیا جائے جس سے بچوں میں Stunting 50 فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔ ہر بوری آٹے اور تیل میں آئرن اور وٹامنز شامل کرنا لازمی قرار دیا جائے تاکہ "پوشیدہبھوک” کا خاتمہ ہو حکومت کو چاہیے کہ وہ فوڈ سیکورٹی کو قومی سلامتی کا درجہ دے اور 10 سالہ مستقل فوڈ پالیسی بنائے جس پر تمام حکومتیں عمل کریں۔ ہر کسان کا ڈیجیٹل کارڈ بنایا جائے جس کے ذریعے اسے بلا سود قرض اور فصل تباہ ہونے کی صورت میں 15 دن کے اندر امداد ملے۔ ہر ضلع میں فوڈ بینک قائم کیا جائے جہاں آفات یا مہنگائی کی صورت میں غریب کو سستا آٹا، دال اور تیل فوری فراہم کیا جا سکے۔ قول معروف ہے کہ "بھوکا انسان آزاد نہیں ہو سکتا”۔ اگر ہم اگلے پانچ سال میں صرف تین کام کر لیں یعنی تیل میں خود کفالت، خوراک کے ضیاع کو روکنا اور سکول کے بچوں کو غذائیت فراہم کرنا تو پاکستان نہ صرف فوڈ سیکورٹی حاصل کر لے گا بلکہ اربوں ڈالر بچا کر وہ رقم تعلیم اور صحت پر لگا سکے گا۔ اصل ترقی وہی ہے جس میں انسان کا پیٹ بھرا ہو، جسم صحت مند ہو اور دماغ تعلیم یافتہ ہو۔ پہلے انسان پر سرمایہ کاری کی جائے تو وہ خود قوم کی تقدیر بدل دے گا۔#

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button