
غزہ میں دباؤ کے بعدحماس کی بیرونِ ملک سرگرمیوں پر نئی بحث، اسرائیلی تجزیہ کار کا دعویٰ: استنبول تنظیم کا اہم غیر ملکی مرکز بن رہا ہے
7 اکتوبر 2023 کے بعد استنبول بتدریج حماس کی بیرونِ ملک سرگرمیوں کے لیے ایک اہم مقام بن گیا ہے
تل ابیب/استنبول: غزہ میں جاری جنگ اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے بعد حماس کی عسکری اور سیاسی قیادت کی مستقبل کی حکمت عملی سے متعلق نئی بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی جب اسرائیلی تجزیہ کار یونی بین میناچم نے دعویٰ کیا کہ ترکی، بالخصوص استنبول، حماس کے لیے ایک اہم غیر ملکی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔
یونی بین میناچم کے مطابق اسرائیلی فوجی مہم کے نتیجے میں غزہ کے اندر حماس کے عسکری ڈھانچے، قیادت اور کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے بعد تنظیم اپنی سیاسی اور اسٹریٹجک سرگرمیوں کے لیے بیرون ملک متبادل مراکز پر زیادہ انحصار کر رہی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد استنبول بتدریج حماس کی بیرونِ ملک سرگرمیوں کے لیے ایک اہم مقام بن گیا ہے اور بعض معاملات میں اس نے دوحہ، دمشق اور بیروت جیسے روایتی مراکز کی اہمیت کو بھی کم کیا ہے۔
اسرائیلی تجزیہ کار کا مؤقف
اسرائیلی مبصر یونی بین میناچم کا کہنا ہے کہ اگر غزہ میں حماس کے عسکری انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچتا ہے یا اس کی آپریشنل صلاحیت محدود ہو جاتی ہے تو بیرون ملک موجود قیادت تنظیم کی سیاسی، سفارتی اور تزویراتی سمت کا تعین کرنے میں زیادہ اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
ان کے مطابق بیرون ملک موجود مراکز تنظیم کو:
- بین الاقوامی رابطے برقرار رکھنے،
- سیاسی مشاورت کرنے،
- سفارتی سرگرمیوں کو جاری رکھنے،
- اور اپنی قیادت کو محفوظ رکھنے
کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ترکی میں موجود بعض حماس رہنما تنظیم کی سیاسی سرگرمیوں میں متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔
حماس اور ترکی کے تعلقات پر ماضی میں بھی بحث
ترکی اور حماس کے تعلقات ماضی میں بھی بین الاقوامی سطح پر بحث کا موضوع رہے ہیں۔ ترکی نے طویل عرصے سے فلسطینی عوام کی حمایت اور غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی پر زور دیا ہے، جبکہ انقرہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر سخت تنقید کرتا رہا ہے۔
ترکی متعدد مواقع پر یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ فلسطینی مسئلے کا حل بین الاقوامی قوانین اور دو ریاستی حل کے اصول کے مطابق ہونا چاہیے۔
تاہم اسرائیل اور بعض مغربی حلقے ماضی میں بھی یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ حماس کے بعض رہنما ترکی میں موجود رہے ہیں۔ دوسری جانب ترکی نے مختلف مواقع پر اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کی سیاسی حمایت کرتا ہے اور خطے میں امن کے قیام کا خواہاں ہے۔
غزہ جنگ کے بعد بدلتی صورتحال
7 اکتوبر 2023 کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے غزہ کی صورتحال کو یکسر تبدیل کر دیا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیوں کا مقصد حماس کی عسکری صلاحیت کو ختم کرنا اور مستقبل میں ایسے حملوں کو روکنا ہے۔
دوسری جانب حماس اور فلسطینی حلقوں کا مؤقف ہے کہ اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں بڑے پیمانے پر انسانی بحران پیدا ہوا ہے اور ہزاروں شہری متاثر ہوئے ہیں۔
علاقائی ماہرین کے مطابق جنگ کے بعد نہ صرف غزہ کی داخلی صورتحال بلکہ حماس کے سیاسی اور تنظیمی ڈھانچے میں بھی تبدیلیاں آ سکتی ہیں، تاہم اس حوالے سے مختلف تجزیے اور دعوے سامنے آ رہے ہیں۔
دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ استنبول کو حماس کا "اہم کمانڈ سینٹر” قرار دینے کا دعویٰ بنیادی طور پر اسرائیلی تجزیہ کار یونی بین میناچم کے تجزیے پر مبنی ہے۔
اس دعوے کی آزاد اور غیر جانب دار ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ نہ ہی ترکی اور نہ ہی حماس کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری کیا گیا ہے جو ان دعووں کی تصدیق کرے۔
خطے کی سیاست پر ممکنہ اثرات
مبصرین کے مطابق اگر مستقبل میں حماس کی بیرون ملک سیاسی سرگرمیوں کا مرکز تبدیل ہوتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف اسرائیل اور فلسطین بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی علاقائی سیاست، سفارت کاری اور سلامتی کی صورتحال پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ کے بعد خطے میں نئی صف بندیاں، سفارتی کوششیں اور مختلف گروہوں کی حکمت عملیوں میں تبدیلیاں آئندہ مہینوں میں مشرق وسطیٰ کی سیاست کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔



