
امید کا چراغ روشن ہے …….ناصف اعوان
مل بیٹھنا بھی پسند نہیں متحد ہو کر مشکل صورت حال کا مقابلہ بھی نہیں کیا جا رہا لہذا بے یقینی و مایوسی ہر سمت پھیلی ہوئی ہے
اس وقت معیشت پریشان ہے تو سیاست بھی اُداس ہے۔ ایران امریکا جنگ نے بھی ماحول کو افسردہ کر رکھا ہے۔ نجانے لوگوں کو سکون و چین کب ملے گا اس بارے قطعی طور سے کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ مہذب ملکوں کو چاہیے کہ وہ انسانوں کو خواہ وہ کسی بھی ملک کے ہوں ان کے لئے آسانیاں پیدا کریں ان کو سہولتیں دینے کی کوشش کریں مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کوئی بھی ترقی یافتہ ملک ایسی سوچ نہیں رکھتا اسے صرف اپنی پڑی ہوئی ہے جس کے لئے وہ کمزور اور بے بس ملکوں کے ذرائع پیداوار کو اپنے لئے استعمال میں لانا چاہتا ہے لہذا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ عمل جمہوری نہیں۔ جمہوریت کا تقاضا تو یہ ہے کہ غیر ترقی یافتہ ممالک کے لوگوں کو غربت اور بے روزگاری سے چھٹکارا دلایا جاتا ان کو بنیادی انسانی حقوق دلوائے جاتے مگر ایسا نہیں ہو سکا لہذا آج ترقی پزیر ملکوں کے عوام کو مہنگائی بے روزگاری غربت بیماری اور جہالت کا سامنا ہے مگر ان کے خاتمے کے لئے جنگی بنیادوں پر اقدامات نہیں ہو رہے لہذا یہ مسائل گمبھیر ہوتے جا رہے ہیں ۔ اگرچہ حکومتیں اپنے تئیں کوشش بھی کر رہی ہیں کہ ان پر قابو پایا جائے مگر چونکہ خزانہ خالی ہونے سے مطلوبہ وضروری ترقیاتی منصوبہ بندی ممکن نہیں ہو سکتی لہذا عوام کو جدید سہولتیں تعلیم صحت اور اور روزگار کے مسائل درپیش ہیں۔ اب تو حالت یہ ہے کہ غربت خوف ناک شکل میں ڈھل رہی ہے ۔ لوگ ایک دوسرے کو دھوکا دے رہے ہیں استحصال کر رہے ہیں ۔ کسی کو کسی کا کوئی خیال نہیں کسی کا درد محسوس نہیں کیا جارہا۔ جن کے ذمہ ہے کہ وہ سماج میں جنم لینے والے اضطراب کو ختم کریں وہ اقتدار کے پنگھوڑے میں بیٹھے مزے لے رہے ہیں اور اس کو محفوظ کرنے کے لئے طرح طرح کے جتن کر رہے ہیں مگر عوام کے مسائل کی انہیں کوئی فکر نہیں۔ اب جب تیل کی قلت پیدا ہونے کا خطرہ ہے تو اس سے مسائل کی گمبھیرتا کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے لیکن ارباب اختیار کے پاس تیل کی قیمتوں میں اضافے کے سوا اور کوئی حل نہیں ۔پہلے آبنائے ہر مز کی وجہ سے تیل کا مسلہ پیدا ہو رہا تھا اب اگر باب المندب بند ہو جاتی ہے تو حالات خراب سے خراب تر ہو سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس صورت میں قومی خزانہ کیسے بھرے گا کیا اس کے لئے نئے ٹیکس لگانا پڑیں گے اور کیا عوام اس قابل ہیں کہ وہ بھاری بھرکم ٹیکس ادا کر سکیں ؟ اس متوقع صورت حال کے پیش نظر حکومت نے دوست ملکوں سے مدد و تعاون چاہا ہے۔ اربوں ڈالر قرضہ حاصل کرنے کی بات کی ہے تاکہ ملک کی معیشت پٹری سے نہ اتر سکے ۔اب وہ یہ رقوم دیتے ہیں یا نہیں کچھ نہیں کہا جا سکتا انہیں چاہیے کہ جب پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہے تو وہ اس سے تعاون کریں۔ ان کے لئے رقوم دینا مشکل نہیں مگر مسلہ یہ بھی ہے کہ وہ یہاں سیاسی استحکام بھی دیکھنا چاہتے ہیں پھر قرضہ دے کر اپنی کچھ شرائط بھی منوا سکتے ہیں کیونکہ آئی ایم ایف بھی جب ہمیں قرضہ دیتا ہے تو اس کی ساتھ شرائط بھی ہوتی ہیں جو بڑی ناگوار ہوتی ہیں جس سے عوام کا کچومر نکل جاتا ہے۔ بجلی گیس اور پٹرولیم کی مصنوعات کی قیمت کا تعین بھی وہ کرتا ہے دیگر اقتصادی معاملات کو بھی وہی دیکھتا ہے اور حکم جاری کرتا ہے جس سے عوام کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی کڑی شرائط کی وجہ سے ہی ملک صنعتی ترقی نہیں کر سکا بلکہ بہت سی صنعتیں دوسرے ملکوں میں جا قائم ہوئی ہیں۔ظاہر ہے اس سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے ۔ اب تو سیلاب بھی آ گئے ہیں پچھلے سیلابوں نے بھی بڑی تباہی پھیلائی تھی اب دوبارہ لوگوں کی بہت بڑی تعداد متاثر ہو سکتی ہے ۔ بارشوں کی تباہی اتنی نہیں ہوتی جتنی دریاؤں میں بھارت کی طرف سے پانی چھوڑنے پر ہوتی ہے۔ ایسا وہ دانستہ کرتا ہے۔ جب ہمیں پانی کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ تھوڑا تھوڑا بھیجتا ہے اول تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ بالکل نہ دیا جائے جو کہ باہمی معاہدے کی سراسر خلاف ورزی ہے بہرحال سیلاب کی تباہ کاریوں پر جب مختلف ممالک سے امدادیں آتی ہیں تو وزیر مشیر ان کا ایک بڑا حصہ اپنے گھروں میں لے جاتے ہیں ۔ کچھ لوگ تو امدادی سامان لے کر بازار میں بھی فروخت کر دیتے ہیں۔ اس طرح متاثرین بے چارے ضروری اشیاء سے محروم رہ جاتے ہیں ۔
عرض کرنے کا مقصد یہ کہ حالات معاشی و سماجی دونوں خراب ہیں۔ سیاسی استحکام بھی نہیں ۔
مل بیٹھنا بھی پسند نہیں متحد ہو کر مشکل صورت حال کا مقابلہ بھی نہیں کیا جا رہا لہذا بے یقینی و مایوسی ہر سمت پھیلی ہوئی ہے۔ قرضہ لے کر سانسیں بحال رکھی جا رہی ہیں اور قرضہ قریباً ایک ہزار ارب ڈالر لیا جا چکا ہے مگر بات پھر بھی نہیں بن رہی۔ اوپر سے مزید ہمیں تیل کی ترسیل نے پریشان کر دیا ہے کہ اگر جنگ کاسلسلہ جاری رہتا ہے تو حالات کی ہولناکی چشم تصور سے دیکھی جا سکتی ہے۔
تیل کی قلت سے ہم ہی نہیں متاثر ہوں گے ساری دنیا پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے لہذا ہر کسی کو اس جنگ کو رکوانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ لگ رہا ہے کہ اب اس جنگ کا دائرہ وسیع ہو نے جا رہا ہے کہ خلیج میں ایک نیا محاذ کھل رہا ہے چین روس بھی اس میں براہ راست کود سکتے ہیں کیونکہ چین کی ضروریات اسی تیل سے پوری ہوتی ہیں کہا جا رہا ہے کہ چین کی مصنوعات کی پیداوار کم ہورہی ہے اس کی تجارتی سرگرمیاں بھی محدود ہو رہی ہیں اُدھر امریکا اور اس کے بغل بچے کو بے حد و حساب نقصان پہنچ رہا ہے۔ یہ دیکھ کر امریکی عوام کی اکثریت جنگ کے خلاف ہو چکی ہے اور سراپا احتجاج ہے مگر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو مٹا دینا چاہتا ہےجو کہ ناممکن ہے کیونکہ ایران کے مطابق وہ برسوں تک حالت جنگ میں رہ سکتا ہے۔ اصل میں اس کے پیچھے چین بھی ہے اور کوریا بھی جو اس کی سامان حرب و ضرب کی ضروریات کو پورا کر رہے ہیں لہذا امریکا اپنے مشن سے دستبردار ہو جائے اسے کوئی فا ئدہ نہیں ہو گا۔
بہر کیف اہل اقتدار موجودہ صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی طے کریں انہیں یہ دیکھنا ہو گا کہ کون ان کے ساتھ مخلص ہے ماضی میں کس نے ان کی بہتری کے لئے تعاون کیا اب اگر کوئی ان کو معاشی حوالے سے اپنے پاؤں پر کھڑا کر سکتا ہے تو انہیں اس کے قریب ہو جانا چاہیےکیونکہ ہمیں اس کٹھن وقت میں وہی ملک دوست نظر آئے گا جو ہماری معیشت کو سنبھالا دے گا تاکہ عوام کو خوشحالی سے ہم کنار کیا جا سکے جنہیں کئی دہائیوں سے غربت مہنگائی اور بے روزگاری کے عفریت نے اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔


