پاکستاناہم خبریں

پاکستان کی سکیورٹی حکمتِ عملی شدت پسندی کی بنیادی وجوہات سے نمٹ رہی ہے؟۔

2002 سے پہلے بلوچستان میں علیحدگی کی کوئی تحریک موجود نہیں تھی بلکہ مطالبات زیادہ تر سیاسی اور معاشی حقوق سے متعلق تھے

پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف کئی دہائیوں سے جاری کارروائیوں کے باوجود شدت پسند حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس سے ملک کی سکیورٹی حکمتِ عملی کی افادیت اور ممکنہ کمزوریوں کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

حالیہ بحث میں یہ سوال بھی شامل ہے کہ جب پاکستان اب خود کو ایک "ہارڈ اسٹیٹ” قرار دیتا ہے تو کیا اس کا زیادہ سخت طرزِ عمل سکیورٹی صورتحال کو بہتر بنا رہا ہے یا اسے مزید خراب کر رہا ہے؟ برسوں سے جاری فوجی کارروائیوں کے باوجود شدت پسندی اور داخلی سکیورٹی کے خطرات بار بار ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔ سیاسی اور سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے پاکستان کی مجموعی سکیورٹی حکمتِ عملی میں موجود اہم خامیاں اب زیادہ کھل کر سامنے آرہی ہیں۔

9 نومبر 2024 کو پاکستان کے جنوب مغربی شہر کوئٹہ کے ریلوے اسٹیشن پر ہونے والے بم دھماکے کے مقام کا سیکیورٹی اہلکار جائزہ لے رہے ہیں
بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے مطابق ریاست میں سکیورٹی کی صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ خراب ہو چکی ہے اور مسلح گروہ عملاً صوبے کے کئی علاقوں پر کنٹرول رکھتے ہیںتصویر: Arshad Butt/AP Photo/picture alliance

ملک کی سکیورٹی پالیسی میں بڑی کمی کیا ہے؟

موجودہ حکمتِ عملی پر سب سے بڑی تنقید یہ ہے کہ ریاست جہاں سکیورٹی کارروائیوں پر بہت زیادہ توجہ دیتی ہے، وہیں خود کو نظرانداز یا محروم سمجھنے والے لوگوں سے رابطہ کرنے اور ان کے تحفظات سننے پر بہت کم توجہ دیتی ہے۔

بلوچستان کے سابق وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے مطابق یہی پاکستان کی موجودہ سکیورٹی حکمتِ عملی کی سب سے بڑی کمزوری ہے کہ ریاست عوام کے تحفظات دور کرنے میں مکمل بے رخی دکھا رہی ہے اور مسائل کو صرف طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ "ریاست کو چاہیئے کہ وہ صوبہ بلوچستان کے لوگوں کو اپنے صوبے کے فیصلے کرنے کا اختیار دے دے جس سے ریاست بہت عرصے سے انکار کررہی ہے۔”

بلوچستان میں سکیورٹی کی صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ خراب ہو چکی ہے اور مسلح گروہ عملاً صوبے کے کئی علاقوں پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ ان کے بقول، "یہاں تک کہ اہم شاہراہیں بھی شدت پسندوں کے کنٹرول میں دکھائی دیتی ہیں اور صوبے کے بیشتر علاقوں میں ریاست کی عملداری موجود نہیں۔”

ان کا کہنا ہے کہ 2002 سے پہلے بلوچستان میں علیحدگی کی کوئی تحریک موجود نہیں تھی بلکہ مطالبات زیادہ تر سیاسی اور معاشی حقوق سے متعلق تھے۔ ان کے مطابق اب پاکستان کو ایک ہمہ جہت حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ریاست کو مقامی برادریوں سے سیاسی رابطہ کرنا، ان کے تحفظات دور کرنا، سرحدی تجارت بڑھانا اور ایسے معاشی مواقع پیدا کرنا ہوں گے جن سے عوام اور ریاست آپس میں قریب آئیں اور ان کے درمیان تعلق مضبوط ہو۔

ملک کی اندرونی حفاظت میں سیاستدانوں کا کردار؟

بہت سے ماہرین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ فوجی کارروائیاں ضروری ہیں، لیکن ان کے مطابق صرف ان سے دیرپا امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی اعتماد کی بحالی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ تاہم بعض دوسرے ماہرین کے خیال میں پاکستان کو درپیش سکیورٹی چیلنج صرف عوامی تحفظات تک محدود نہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعیم لودھی کے مطابق موجودہ حکمتِ عملی حد سے زیادہ فوج پر انحصار کرنے لگی ہے جبکہ سیاسی قیادت آہستہ آہستہ پس منظر میں چلی گئی ہے۔

ان کے بقول، "فوج لڑنا جانتی ہے، لیکن سیاسی ہم آہنگی پیدا نہیں کر سکتی۔ سیاسی قیادت کو آگے بڑھ کر لوگوں سے رابطہ کرنا چاہیے، ان کے مسائل حل کرنے چاہییں، موجودہ پالیسی مستقبل میں فوجی قیادت کے لیے بھی بہت مسائل پیدا کرے گی۔”

نعیم لودھی کے مطابق پاکستان اس مسئلے کے خارجی پہلو کو بھی نظرانداز نہیں کر سکتا۔ ان کے خیال میں افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا ترجیح ہونی چاہیے، جبکہ شدت پسندوں کی حمایت کرنے والی مخالف خفیہ ایجنسیوں کا بھی مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جانا چاہیے۔ ان کے بقول، "اگر مخالف ایجنسیاں شدت پسندوں کی حمایت سے باز نہ آئیں تو پاکستان کو ایسا سخت جواب دینا چاہیے کہ وہ دوبارہ ایسا کرنے کی ہمت نہ کریں۔”

پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر منگلا، پاکستان میں ٹلہ فیلڈ فائرنگ رینجز کے دورے کے دوران پاکستان آرمی کے منگلا اسٹرائیک کور کی جانب سے منعقد کی گئی اعلیٰ شدت کی جنگی مشق "ایکسرسائز ہیمر اسٹرائیک" کا مشاہدہ کرتے ہوئے خطاب کر رہے ہیں
بعض ماہرین کے مطابق موجودہ حکمتِ عملی حد سے زیادہ فوج پر انحصار کرنے لگی ہے جبکہ سیاسی قیادت آہستہ آہستہ پس منظر میں چلی گئی ہے۔تصویر: Inter-Services Public Relations/Handout via REUTERS

سکیورٹی کے اداروں کا کیا کردار ہے؟

پاکستان کی سکیورٹی حکمتِ عملی پر جاری بحث صرف سیاسی رابطوں تک محدود نہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ملک کے سکیورٹی ادارے خود زیادہ با اختیار اور بہتر وسائل سے آراستہ نہ ہوں تو بھی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا اور اس کے علاوہ تمام صوبوں کو مل کر کام کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔

پاکستان کو ایسا قومی انسدادِ دہشت گردی کا نظام درکار ہے جو تمام صوبوں میں مربوط انداز میں کام کر سکے۔ "ہمیں وسائل، اپنی فورسز کے لیے قانونی اختیار، اور سب سے بڑھ کر واضح قومی مفاد کی ضرورت ہے۔”

ناقدین یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ اگر سیاسی گنجائش بڑھائے بغیر ریاست کے سخت کردار میں مزید اضافہ کیا جائے تو کیا اس سے طویل مدت میں استحکام آ سکتا ہے؟ اس سلسلے میں ماہرنگ بلوچ کو سنائی جانے والی سزا بھی زیر بحث آتی رہتی ہے۔

شدت پسندی کے خلاف جنگ کے دوران سیاسی اداروں کا کردار نہ ہونا اور اس سے بھی بڑھ کر سیاسی اور پرامن آوازوں کو دبانا اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔”

عدالتی نظام پر کنٹرول حاصل کرنا اور مخالف آوازوں کو سزاؤں کے ذریعے دبانے کی کوشش کرنا اس بحران کا حل نہیں ہے۔ اس وقت ضرورت ہے کہ جو لوگ بات کرنا چاہتے ہیں انہیں سنا جائے اور جن پر سختی کی ضرورت ہے جیسا کہ بیرونی طاقتیں، ان پر بہت سخت ایکشن لیا جانا چاہیے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button