کاروبارتازہ ترین

یو اے ای کی جانب سے پاکستانیوں کو ویزوں کی بندش، برآمدات اور تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ،حکومت فوری سفارتی مداخلت کرے: اسماعیل ستار

ویزے بند ہونے سے کئی پاکستانی فوڈ کمپنیاں گلف فوڈ نمائش میں شرکت نہیں کر سکیں گی،یو اے ای کے ویزوں کے اجراء کے لیے حکومت فوری سفارتی سطح پر معاملہ اٹھائے، بانی چیئرمین سالٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز,بانی چیئرمین سالٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ساتھ

سالٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایس ایم اے پی) کے بانی چیئرمین اسماعیل ستار نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی جانب سے پاکستانی شہریوں کے لیے تمام کیٹیگریز کے ویزوں کے اجراء میں مبینہ بندش پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس صورتحال کے باعث پاکستان کی برآمدات، بین الاقوامی تجارتی سرگرمیوں اور کاروباری روابط کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ متحدہ عرب امارات طویل عرصے سے پاکستانی برآمد کنندگان، صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں کے لیے مشرق وسطیٰ کی سب سے اہم تجارتی منڈیوں میں شمار ہوتا ہے، تاہم موجودہ ویزا پالیسی نے کاروباری برادری کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستانی شہریوں کو کسی بھی کیٹیگری میں یو اے ای کے ویزے جاری نہیں کیے جا رہے جبکہ اس فیصلے کی وجوہات بھی واضح طور پر سامنے نہیں لائی گئیں، جس سے تاجر برادری میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

اسماعیل ستار نے کہا کہ کاروباری ویزوں کی عدم دستیابی کے باعث پاکستانی برآمد کنندگان اپنے غیر ملکی خریداروں سے ملاقات، نئے تجارتی معاہدوں، سرمایہ کاری کے مواقع اور بین الاقوامی نمائشوں میں مؤثر شرکت سے محروم ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی تجارت میں ذاتی ملاقاتیں، مصنوعات کی نمائش اور براہِ راست کاروباری مذاکرات انتہائی اہمیت رکھتے ہیں، لیکن ویزا مسائل نے ان تمام سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

انہوں نے خاص طور پر آئندہ سال کے اوائل میں دبئی میں منعقد ہونے والی عالمی شہرت یافتہ گلف فوڈ نمائش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی متعدد فوڈ، نمک، زرعی اور دیگر برآمدی کمپنیاں اس بین الاقوامی ایونٹ میں شرکت کی منصوبہ بندی کرنے سے بھی گریز کر رہی ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ ان کے سیلز نمائندوں، مارکیٹنگ ٹیموں اور کاروباری وفود کو یو اے ای کے ویزے جاری نہیں کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستانی کمپنیوں کے نمائندے نمائش میں شریک ہی نہیں ہو سکیں گے تو وہ اپنی مصنوعات عالمی خریداروں کے سامنے کیسے پیش کریں گے، نئے درآمد کنندگان سے روابط کیسے قائم کریں گے اور برآمدی آرڈرز کیسے حاصل کریں گے۔ ان کے مطابق گلف فوڈ جیسی بین الاقوامی نمائشیں پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے نئی منڈیوں تک رسائی، برانڈ پروموشن اور قیمتی تجارتی معاہدوں کا اہم ذریعہ ہوتی ہیں، لہٰذا ان میں عدم شرکت سے پاکستان کی برآمدی صنعت کو طویل المدتی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اسماعیل ستار نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت برآمدات میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور صنعتی پیداوار کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کر رہا ہے، لیکن اگر برآمد کنندگان کو اہم تجارتی مراکز تک رسائی ہی حاصل نہ ہو تو ان تمام کوششوں کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ویزوں کی مسلسل بندش سے نہ صرف نئی برآمدی منڈیاں متاثر ہوں گی بلکہ پہلے سے قائم کاروباری تعلقات بھی کمزور پڑ سکتے ہیں۔

انہوں نے حکومت پاکستان، وزارت خارجہ، وزارت تجارت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کو فوری طور پر متحدہ عرب امارات کی حکومت کے ساتھ سفارتی سطح پر اٹھائیں اور ویزا پالیسی سے متعلق تمام تحفظات دور کرنے کے لیے مؤثر مذاکرات کریں تاکہ پاکستانی تاجروں، صنعتکاروں، برآمد کنندگان اور کاروباری وفود کو درپیش مشکلات کا جلد از جلد خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دہائیوں پر محیط مضبوط سفارتی، اقتصادی اور تجارتی تعلقات موجود ہیں، اس لیے دونوں ممالک کو باہمی تعاون کے ذریعے اس مسئلے کا ایسا حل تلاش کرنا چاہیے جو دونوں ممالک کے مشترکہ اقتصادی مفادات کے مطابق ہو۔

اسماعیل ستار نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ دونوں حکومتوں کے درمیان مثبت سفارتی رابطوں کے نتیجے میں ویزوں سے متعلق موجودہ مشکلات جلد ختم ہوں گی، جس سے پاکستانی کاروباری برادری کو ریلیف ملے گا، بین الاقوامی تجارتی سرگرمیاں بحال ہوں گی اور ملکی برآمدات کو مزید فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button