بین الاقوامیاہم خبریں

دریائے رائن میں پانی کی سطح تاریخی کم ترین حد کے قریب، جرمنی کی معیشت، صنعت اور سپلائی چین کو شدید خطرات لاحق

ادارے کے مطابق حالیہ خشک موسم، معمول سے کم بارش اور مسلسل بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے دریائے رائن میں پانی کی سطح کو کئی برسوں کی کم ترین سطح کے قریب پہنچا دیا ہے۔

برلن: یورپ کی سب سے بڑی معیشت جرمنی کو ایک مرتبہ پھر قدرتی عوامل سے جنم لینے والے بڑے اقتصادی چیلنج کا سامنا ہے۔ ملک کی اہم تجارتی آبی شاہراہ دریائے رائن میں پانی کی سطح مسلسل کم ہونے کے باعث مال بردار بحری جہاز اپنی مکمل گنجائش کے ساتھ سفر کرنے سے قاصر ہیں، جس سے نہ صرف نقل و حمل کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ جرمنی کی صنعتی پیداوار، سپلائی چین اور مجموعی اقتصادی ترقی بھی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

اقتصادی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر خشک موسم اور شدید گرمی کا سلسلہ جاری رہا تو رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں جرمنی کی اقتصادی شرح نمو مزید سست پڑ سکتی ہے، جبکہ بعض اندازوں کے مطابق مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں 0.1 سے 0.2 فیصد تک کمی واقع ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔

کِیل انسٹیٹیوٹ کی تشویشناک رپورٹ

جرمنی کے معروف تحقیقی ادارے کِیل انسٹیٹیوٹ فار ورلڈ اکانومی (Kiel Institute for the World Economy) نے منگل کو جاری ہونے والی اپنی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ دریائے رائن میں پانی کی مسلسل کم سطح جرمنی کی پہلے ہی کمزور اقتصادی بحالی کے لیے ایک نیا خطرہ بن چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو تیسری سہ ماہی کے دوران جرمن معیشت کی ترقی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے صنعتی پیداوار، برآمدات اور تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں کمی آنے کا خدشہ ہے۔

ادارے کے مطابق حالیہ خشک موسم، معمول سے کم بارش اور مسلسل بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے دریائے رائن میں پانی کی سطح کو کئی برسوں کی کم ترین سطح کے قریب پہنچا دیا ہے۔

جرمنی کی اقتصادی شہ رگ

دریائے رائن کو جرمنی اور مغربی یورپ کی معیشت کی شہ رگ تصور کیا جاتا ہے۔

یہ دریا نیدرلینڈز کی عالمی شہرت یافتہ بندرگاہ روٹرڈیم کو جرمنی کے بڑے صنعتی مراکز، فیکٹریوں اور تجارتی شہروں سے جوڑتا ہے۔

اسی آبی راستے کے ذریعے ہر سال لاکھوں ٹن سامان مختلف علاقوں تک پہنچایا جاتا ہے، جن میں:

  • اناج اور زرعی اجناس
  • کوئلہ
  • خام دھاتیں
  • معدنیات
  • فولاد
  • کیمیائی مصنوعات
  • خام تیل
  • پٹرول اور دیگر پٹرولیم مصنوعات

شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر دریائے رائن کی نقل و حمل متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف جرمنی تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے یورپی تجارتی نظام پر مرتب ہوتے ہیں۔

بحری جہاز مکمل وزن نہیں اٹھا پا رہے

پانی کی سطح کم ہونے کے باعث اندرون ملک چلنے والے کارگو بحری جہاز اپنی مکمل گنجائش کے مطابق سامان نہیں لے جا پا رہے۔

تجارتی شعبے سے وابستہ ذرائع کے مطابق بعض مال بردار جہاز اس وقت اپنی مجموعی استعداد کے صرف 15 سے 20 فیصد وزن کے ساتھ سفر کر رہے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے جو سامان ایک جہاز میں منتقل ہو جاتا تھا، اب اسے کئی جہازوں میں تقسیم کرنا پڑ رہا ہے، جس سے:

  • ایندھن کے اخراجات بڑھ رہے ہیں۔
  • ٹرانسپورٹ لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
  • سامان کی ترسیل میں تاخیر پیدا ہو رہی ہے۔
  • سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔

شدید گرمی مزید خطرہ بن گئی

جرمنی کے قومی محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں ملک میں ایک مرتبہ پھر شدید گرمی کی لہر آنے کا امکان ہے۔

ماہرین کے مطابق بلند درجہ حرارت خصوصاً جنوبی جرمنی میں دریائے رائن کے پانی کی سطح کو مزید کم کر سکتا ہے، جس سے پہلے سے موجود مشکلات میں اضافہ ہو گا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ ہفتے متوقع بارش بھی نہیں ہوئی، جس کے باعث دریا میں پانی کی مقدار مزید کم ہو گئی۔

2018 جیسی صورتحال کا خدشہ

دریائے رائن پر واقع کاؤب (Kaub) کا مقام آبی گزرگاہ کے اعتبار سے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

منگل کو یہاں پانی کی پیمائش صرف 30 سینٹی میٹر ریکارڈ کی گئی۔

جرمنی کے وفاقی آبی گزرگاہوں کے ادارے کے مطابق جمعے تک یہ سطح مزید کم ہو کر 25 سینٹی میٹر تک پہنچ سکتی ہے، جو اکتوبر 2018 میں ریکارڈ کی گئی تاریخی کم ترین سطح کے برابر ہوگی۔

2018 میں بھی دریائے رائن میں پانی کی شدید کمی کے باعث جرمنی کی صنعت، توانائی کے شعبے اور سپلائی چین کو اربوں یورو کا نقصان برداشت کرنا پڑا تھا۔

معیشت کو دوبارہ جمود کا خطرہ

کِیل انسٹیٹیوٹ کے بزنس سائیکل اور اقتصادی ترقی کے تحقیقی شعبے کے ڈائریکٹر اشٹیفان کوتھز نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ:

"اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو تیسری سہ ماہی میں جرمنی کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں 0.1 سے 0.2 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔”

ان کا کہنا تھا کہ اگر جرمنی کی معیشت مکمل رفتار سے چل رہی ہوتی تو اس بحران کے اثرات کہیں زیادہ شدید ہوتے، تاہم موجودہ معاشی سست روی کی وجہ سے صنعتی سرگرمیاں پہلے ہی محدود ہیں، جس کے باعث نقصان کسی حد تک کم رہ سکتا ہے۔

ریلوے نظام بھی دباؤ کا شکار

صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتے ہوئے دریائے رائن کے مشرقی کنارے پر واقع ایک اہم ریلوے لائن بھی مرمت اور جدید کاری کے منصوبے کے باعث 12 دسمبر تک مال بردار ٹرینوں کے لیے بند رہے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عام حالات میں بھی جرمنی کا ریلوے نظام دریائی مال برداری کا صرف محدود حصہ ہی سنبھال سکتا ہے، لہٰذا ریلوے لائن کی بندش سپلائی چین پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔

صنعت اور توانائی کے شعبے پر ممکنہ اثرات

اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر پانی کی سطح مزید کم ہوتی ہے تو اس کے اثرات درج ذیل شعبوں پر نمایاں طور پر مرتب ہو سکتے ہیں:

  • اسٹیل انڈسٹری
  • کیمیکل سیکٹر
  • توانائی پیدا کرنے والے پلانٹس
  • آٹو موبائل انڈسٹری
  • زرعی اجناس کی ترسیل
  • تیل اور ایندھن کی فراہمی

ان شعبوں میں خام مال کی بروقت ترسیل متاثر ہونے سے پیداوار کی رفتار بھی کم ہو سکتی ہے۔

یورپی معیشت کے لیے تشویش

دریائے رائن نہ صرف جرمنی بلکہ پورے یورپ کی اہم تجارتی شاہراہ ہے۔

اقتصادی مبصرین کے مطابق اگر پانی کی سطح مزید کم ہوتی رہی تو اس کے اثرات یورپی سپلائی چین، برآمدات، صنعتی پیداوار اور عالمی تجارت تک پہنچ سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث یورپ میں خشک سالی اور شدید گرمی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں مستقبل میں اس نوعیت کے بحران زیادہ بار سامنے آ سکتے ہیں۔

ان کے مطابق موجودہ صورتحال جرمنی کے لیے صرف ایک موسمی مسئلہ نہیں بلکہ اقتصادی، تجارتی اور ماحولیاتی چیلنج بھی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی آبی انتظام، انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے کے لیے جامع حکمت عملی ناگزیر ہو چکی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button